مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی کا مجلس اتحاد المسلمین سے استعفیٰ ایک عہد کا اختتام۔

خامہ کش✍🏻 محمد عادل ارریاوی

-------------------------------------------------------------


قارئین کرام۔ کچھ دیر قبل مولانا صاحب کا ایک ویڈیو میسیج دیکھا جس میں مولانا صاحب مجلس اتحاد المسلمین سے استعفیٰ دینے کی بات کر رہے تھے آج سے پہلے مولانا کو کبھی اس قدر دُکھی نہیں دیکھا تھا جو آج دیکھ رہا ہوں خیر ۔ سیاست کے افق پر جب دین و دانش کا سنگم ہو تو وہ چراغ جلتے ہیں جو صدیوں تک روشنی دیتے ہیں۔ حضرت مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی صاحب کی شخصیت بھی ایک ایسا ہی چراغ تھی روشن متین اور علم و حکمت سے معمور۔ مجلس اتحاد المسلمین جو ہمیشہ سے اقلیتوں کی آواز اور محروموں کی امید رہی ہے مولانا صاحب کی صورت میں ایک مردِ حق گو بے باک اور باوقار رہنما سے مزین تھی۔ ان کا لہجہ شائستہ فکر بلند اور مقصد ہمیشہ دین کی سربلندی و قوم کی بھلائی رہا۔ ان کا استعفیٰ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام کی مانند ہے۔

چترویدی صاحب نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین اور ہندو مسلم بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان کی تقاریر میں محبت کی خوشبو اور افکار میں بصیرت کی روشنی تھی۔ ان کا اخلاص ان کی سادگی اور ان کی دینی بصیرت مجلس کے لیے ایک سرمایہ تھی جس کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

ان کے استعفے کے اسباب کچھ بھی ہوں لیکن یہ واضح ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے شخص ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ زمانے کی سیاست ان کے مزاج کی ہم آہنگ نہ رہی ہو یا شاید وہ اس ہجوم میں تنہا ہو گئے ہوں جو اصولوں سے زیادہ مفادات کی زبان سمجھتا ہے۔ لیکن قومیں ان ہی افراد سے بنتی ہیں جو خاموشی سے آ کر اپنے کردار سے تاریخ رقم کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مولانا چترویدی صاحب کا استعفیٰ اگرچہ دل گرفتہ کر دینے والا ہے مگر ان کے افکار ان کی قربانیاں اور ان کی راہنمائی کا اثر کبھی زائل نہ ہوگا۔

ویسے آپ سب بتائیں کیا مولانا نے صحیح کیا سب متفق ہیں اس بات سے مولانا کے اللہ خیر کرے آمین یارب العالمین