آج 19 شعبان ہو چکی ہے، چاند اپنی منزلیں طے کر رہا ہے اور رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے گریبان میں جھانکیں، کیا ہم اس پاک مہینے کے استقبال کے لیے تیار ہیں؟
خدا کی قسم! رمضان صرف پکوڑوں، شربت اور افطاریوں کا نام نہیں ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمتیں بارش کی طرح برستی ہیں، مگر یاد رکھیے کہ الٹا برتن کبھی بارش سے نہیں بھرتا۔ اگر ہمارا دل گناہوں، حسد اور نفرت سے بھرا ہوا ہے، تو ہم اس رحمت سے محروم رہ جائیں گے۔
اجتماعی اصلاح کے لیے تین ضروری باتیں:
والدین سے صلح کر لیں: اگر آپ کے والدین آپ سے ناراض ہیں، تو آپ کی کوئی بھی عبادت، کوئی بھی روزہ قبول نہیں ہوگا۔ باپ کی ناراضگی وہ اندھیرا ہے جس میں جنت کا راستہ کبھی نہیں ملتا۔
توبہ کی جھاڑو دیں: جیسے ہم رمضان سے پہلے گھروں کی صفائی کرتے ہیں، ویسے ہی توبہ کے ذریعے اپنے دل کی صفائی کریں۔ شعبان کا یہ آخری عشرہ "صفائیِ قلب" کا وقت ہے۔
حقوق العباد کا خیال: اگر آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے یا کسی کا حق مارا ہے، تو رمضان شروع ہونے سے پہلے اس سے معافی مانگ لیں۔
میرے محترم قارئین!
وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ 19 شعبان گزر رہی ہے، کل رمضان ہوگا اور پھر عید آ جائے گی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ رمضان بھی ہماری غفلت کی نذر ہو جائے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ رمضان آپ کی زندگی کا آخری گناہوں والا رمضان ہو، تو کمنٹ میں 'استغفراللہ' لکھیں اور اس پیغام کو عام کریں۔ آپ کا ایک شیئر کسی بھٹکے ہوئے انسان کو مسجد تک لا سکتا ہے۔
دعا کا طالب:
از 🖋️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
(نائب امام، نئی مسجد، پلسہ خورد)