"کل عصر کی نماز کے بعد میں مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آئے۔ ان کے چہرے پر پریشانی صاف عیاں تھی اور آنکھوں میں نمی۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا، 'مولانا صاحب! میں نے اپنے بیٹے کو شہر کے سب سے مہنگے اسکول میں پڑھایا، اسے دنیا کی ہر آسائش دی، لیکن آج جب میری طبیعت بگڑی اور میں نے اسے اپنے پاس بٹھا کر سورہ یٰسین سنانے کو کہا، تو وہ میرا منہ دیکھنے لگا۔ اسے تو قرآن پڑھنا ہی نہیں آتا! میں نے اسے ڈاکٹر تو بنا دیا، لیکن وہ میرا 'بیٹا' نہ بن سکا جو میری آخری گھڑیوں میں میرے کام آ سکے۔
یہ الفاظ صرف اس ایک باپ کے نہیں تھے، بلکہ یہ آج کے ہمارے معاشرے کا وہ کڑوا سچ ہے جسے ہم ہضم نہیں کر پا رہے۔ ہم اس دوڑ میں لگے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ جائیں، لیکن ہم یہ بھول گئے کہ ان عہدوں پر پہنچ کر وہ انسان تبھی رہیں گے جب ان کے دل میں اللہ کا خوف اور قرآن کی تڑپ ہوگی۔
آپ کا بچہ آپ کا اثاثہ ہے یا بوجھ؟
سوچیے! جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوں گے، تو کیا آپ کے پیچھے کوئی ایسا ہوگا جو آپ کے لیے مغفرت کی دعا کر سکے؟ کیا وہ آپ کے جنازے کو کندھا دیتے وقت کلمہ شہادت پڑھنے کے قابل ہوگا؟ یا وہ صرف ایک 'پروفیشنل' کی طرح آپ کی تدفین کی رسم پوری کرے گی
میں نے ارریہ کے اس چھوٹے سے گاؤں ڈہٹی بانسر میں ایک خواب دیکھا ہے کہ یہاں کا ہر بچہ نہ صرف جدید تعلیم حاصل کرے، بلکہ اس کی زبان پر اللہ کا کلام بھی جاری ہو۔
مدرسہ میں ہم نے صرف قاعدہ پڑھانا شروع نہیں کیا، بلکہ ہم نے ان معصوم روحوں کو ان کے خالق سے جوڑنے کا عزم کیا ہے۔
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، 'مسعود صاحب! آپ اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں؟' میرا جواب سادہ ہے: 'تاکہ کل کسی اور باپ کو وہ پچھتاوا نہ ہو جو اس شخص کی آنکھوں میں میں نے دیکھا تھا۔دینی تعلیم کوئی بوجھ نہیں، یہ تو وہ بنیاد ہے جس پر دنیاوی کامیابی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہوئی، تو عمارت کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہو، ایک دن گر جائے گی۔
آئیے عہد کریں!آج اپنے آپ سے ایک سوال کریں: کیا آپ کا بچہ قرآن کی تلاوت سے اپنے دن کا آغاز کر رہا ہے؟ اگر نہیں، تو وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔
میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مشن میں میرا ساتھ دیں۔ اپنے بچوں کو وہ زیور دیں جو کبھی پرانا نہیں ہوتا، یعنی 'علمِ دین'اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ آج کے دور میں بچوں کے لیے دینی تعلیم سب سے زیادہ ضروری ہے، تو کمنٹ میں 'ان شاء اللہ' ضرور لکھیں۔
ایسی مزید اصلاحی تحاریر کے لیے ہمیں فالو کریں اور اس پیغام کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں، تاکہ کسی اور باپ کو پچھتانا نہ پڑے۔"