ہم اکابر پسند ہیں، اکابر پرست نہیں۔
✒️ ابن اسلم الہ آبادی
اکابر پسندی اور اکابر پرستی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اکابر پسندی یہ ہے کہ اکابرِ امت کی عظمت، ان کی علمی خدمات اور ان کے منہج کا اعتراف کیا جائے، مگر ساتھ ہی یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ معصوم نہیں تھے، ان سے تسامح، خطا اور لغزش کا صدور ممکن ہے؛ چنانچہ جہاں ان کے کسی قول یا اجتہاد میں لغزش کی نشان دہی دلیل کے ساتھ ہو جائے، وہاں اسے تسامح سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔ یہی اکابر پسندی ہے، اور یہی طرزِ فکر سلفِ صالحین سے چلا آ رہا ہے کہ کسی عالم کے تسامح پر توجہ دلائے جانے کے بعد اسے تسلیم کیا جاتا تھا، نہ کہ شخصیت کو میزانِ حق بنا لیا جاتا تھا۔
یہی بات مجھے اپنے مشفق و مربی اور عزیز دوست مولوی رضوان حلیمی سے بارہا سمجھنے کو ملی، جن سے میں نے شرح عقائدِ نسفی، اصول الشاشی، شرح وقایہ اور دیگر کتب سے استفادہ کیا۔ وہ اکثر نہایت حکیمانہ انداز میں یہ نصیحت فرماتے تھے کہ اکابر
سے محبت کرو، مگر اکابر پرست نہ بنو۔
اس کے برخلاف اکابر پرستی یہ ہے کہ اکابر کے ہر قول کو خطا سے ماورا سمجھ لیا جائے اور دلیل کے مقابلے میں محض شخصیت کو ڈھال بنا لیا جائے، حالانکہ یہ طرزِ عمل خود اکابر کے منہج اور ان کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
تاریخِ علم اس حقیقت پر شاہد ہے کہ اکابر کے تسامح پر علمی رد، تعقب اور تصحیح ہمیشہ سے رائج رہی ہے؛ چنانچہ امام شافعیؒ نے امام مالکؒ کے بعض مسائل پر رد کیا، امام احمد بن حنبلؒ نے امام شافعیؒ کے بعض اجتہادات سے اختلاف کیا، امام اسحاق بن راہویہؒ نے ائمۂ حدیث کے بعض مناہج پر علمی گفتگو کی، امام بخاریؒ نے امام مسلمؒ کے منہج پر کلام کیا، امام مسلمؒ نے بعض رواۃ کے قبول و رد میں متقدمین سے اختلاف کیا، امام ابو داؤدؒ اور امام ترمذیؒ نے شیوخِ حدیث کے بعض فیصلوں پر تنبیہ کی، امام نسائیؒ نے متعدد مشہور رواۃ پر جرح قائم کی، امام ابن ابی حاتمؒ نے اپنے والد اور دیگر متقدمین کے اقوال پر تحقیق و ترجیح پیش کی، امام دارقطنیؒ نے بخاری و مسلم دونوں پر مستقل کتاب لکھ ڈالی، امام حاکم نیشاپوریؒ کی تصحیحات پر امام ذہبیؒ نے تعقبات قائم کیے، امام ابن خزیمہؒ اور امام ابن حبانؒ کی تصحیحات پر بعد کے محدثین نے کلام کیا، امام ابو یوسفؒ، امام محمد بن حسن شیبانیؒ اور امام زفرؒ نے اپنے استاد امام ابو حنیفہؒ کے اقوال پر رد و ترجیح قائم کی، امام طحاویؒ، امام سرخسیؒ، امام ابن ہمامؒ، امام نوویؒ، امام مزنیؒ، امام ابن عبد البرؒ، امام غزالیؒ، امام آمدیؒ، امام فخر الدین رازیؒ، امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن القیمؒ نے مفصل علمی تعقبات قائم کیے، اور یہ سب کچھ سراسر علمی تھا، ذاتی نہیں۔