اوورتھنکنگ تب شروع ہوتی ہے جب ذہن مسئلے حل کرنے کے بجائے انہیں دہرانا شروع کر دیتا ہے۔ ایک ہی خیال بار بار ذہن میں آتا ہے، ہر بار تھوڑا زیادہ بھاری ہو کر۔ سوال کا جواب نہیں ملتا، مگر سوال بڑھتا جاتا ہے۔
ذہن ہر ممکن نتیجے کا تصور کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بھی جو کبھی ہونا ہی نہیں۔ اس عمل میں حال پس منظر میں چلا جاتا ہے اور انسان مستقبل کے خیالی منظرناموں میں الجھ جاتا ہے۔ اوورتھنکنگ ہمیں تھکاتی نہیں، آہستہ آہستہ خالی کر دیتی ہے۔
اکثر اوورتھنکنگ کمزوری نہیں ہوتی بلکہ حد سے زیادہ ذمہ داری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم سب کچھ کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، ہر غلطی سے بچنا چاہتے ہیں، اور یہی کوشش ذہن کو شور میں بدل دیتی ہے۔
ذہن کو خاموش کرانا ممکن نہیں، مگر اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ کبھی کبھی صرف یہ مان لینا کافی ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب ابھی ضروری نہیں۔ کچھ خیالات کو گزرنے دینا بھی ذہنی صحت کا حصہ ہے۔
اوورتھنکنگ سوچنے کی زیادتی نہیں، ٹھہرنے کی کمی ہے۔