حضرت حمز و بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ قریش کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نبی کریم ملی پینے کے چنا اور رضاعی بھائی تھے۔ آپ کی والدہ والہ بہت اہیب ، حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی چازاد بہن تھیں۔ آپ نبی پاک میں پیر سے دو یا چار سال بڑے تھے۔ ابولہب کی آزاد کر وہ کنیز تویہ نے ان دونوں ہمتوں کو دودھ پلایا تھا جس سے آپ کارشتہ مضبوط ہوا۔ حضرت مز رضی اللہ عنہ جوانی ہی سے قریش میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ آپ بہادر علی، نرم خو اور خوش اخلاق تھے۔ آپ قریش کے دلا اور جوانوں میں شمار ہوتے تھے اور غیرت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔ آپ کی شادی کے بعد پانی پینے اور دو بیٹیاں ہوئی جن میں یعلی اعمارہ عمرہ، عامر ، ام الفضل اور امامہ شامل ہیں۔ اسلام قبول کرنے کا تاریخی واقعہ : حضرت حمز و رضی اللہ عنہ نے بعثت کے دوسرے یا چھٹے سال اسلام قبول کیا۔ آپ کے اسلام لانے کا واقعہ نے راستے میں ایک لونڈی نے بتایا کہ ابو جہل نے نبی کریم سل رینم میں پہنچے، جہاں ابو جہل جینا ہوا تھا۔ آپ نے اس کے انتہائی دلچسپ اور عبرت انگیز کی شان میں نازیبا کلما سر پر اپنی کمان اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور کہا: " تم اس کی گستاخی کرتے ہو جبکہ میں اس کا دین رکھتا ہوں؟ اس واقعے کے بعد آپ نے رسمی طور پر اسلام قبول کر لیا ۔ آپ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت ملی اور مشرکین کی ایذا رسانیوں میں کافی حد تک کمی آئی۔ حضرت حمزہ نے نبی صلاح یا رسول اللہ اپنے دین کا کھل کر پر چار کیجئے اللہ تعالی کی قسم مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دے دی جائے تو میں اپنی ر رہنا پسند نہیں کروں گا۔ ہجرت مدینہ : جب مسلمانوں نچ کر آپ نے نبی کریم سال نام کے ساتھ مل کر ت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ گئے تو حضرت حمز ورضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔ مدینہ غزوات میں شرکت پہلا اسلامی جھنڈ پہلا جھنڈا تیار کیا دو سید الشہد او حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہی کے لیے تھا۔ من 2 ہجری میں حضور صلی اینم نے انہیں قوم مدینہ کے علاقے میں سیف البحر کی طرف ایک دستے کے ہمراہ بھیجا۔ اس مہم میں آپ نے اپنی بہادری اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔ کیا۔ رسول اللہ من ہیم کے آگے دو تلواروں کے ساتھ لڑتے رہے۔ کفار کے سور ماؤں کو جنگ بدر میں کارنامے : حصہ بدر میں اس حال میں شامل ہوئے کہ انہوں نے شتر مرغ کا پر اپنے اوپر بطور نشان لگایا ہوا تھا۔ انہوں نے اس جنگ میں بکھیر دیا اور مشرکین کو کاری زخم لگائے ۔ آپ کے نے دشمنوں کے حوصلے پست کر دیے۔ غزوہ احد اور شہادت : 13 ہجری میں تھے۔ انہوں نے اپنی تلوار سے مشرکین مرد خاکستری اونٹ پر سوار اور پھاڑنے والے شیر کی مانند دکھائی دے رہے زدہ کر دیا کوئی ان کے سامنے ظہرتا ہی نہ تھا۔ اس غزوہ میں آپ نے اکتیس مشرکوں کو جہنم رسید کیا۔ پھر آپ کا پاؤں پھسلا تو آپ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گر گئے ۔ زرو آپ کے پیٹ سے کھل گئی ۔ جبیر بن مطعم کے نام وحشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے محجر پھینکا اور اللہ تعالی نے اس کے ہاتھوں آپ کو مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمایا۔ سی واقعہ مفتے کے دن نصف شوال کو 3 ہجری (624ء) کو پیش آیا۔ اس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔ بعض روایات کے مطابق آپ کی عمر 59 سال یا 54 سال تھی۔ شہادت کے بعد مشرکین نے آپ کے اعضاء کاٹے اور پیٹ چاک کیا ۔ ان کی ایک عورت ہندہ نے آپ کا جگر نکال کر منہ میں ڈالا اور اسے چایا لیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی۔ جب رسول اللہ صلے کو یہ اطلاع میں تو آپ نے فرمایا: "اگر یہ جگر اس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ صورت آگ میں داخل نہ ہوتی کیونکہ ال تعال کی بارگاہ میں جزو کی آئی عزت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالی ہمیں صحابہ کرام کو اپنا رول ماڈل بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین