شبِ برأت — مغفرت و نجات کی روح پرور رات
مفتی محمد ابراہیم غفاری
بانی و مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
ibrahimgifar@gmail.com
شعبان المعظم کی پندرہویں شب کو شبِ برأت کہا جاتا ہے؛ یعنی وہ بابرکت رات جس میں رحمتِ الٰہی جوش میں آتی ہے اور گناہوں سے نجات کے فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ یہ کوئی بے بنیاد تصور نہیں، بلکہ تقریباً دس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اس مبارک رات کے فضائل میں احادیث منقول ہیں، جو اس کی عظمت و رفعت پر شاہد ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آرام گاہ پر موجود نہ پایا۔ تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ ﷺ جنتُ البقیع میں تشریف فرما ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے؛ اس رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت فرماتے ہیں۔”
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ اسی رات آئندہ سال پیدا ہونے والوں اور وفات پانے والوں کے نام لکھ دیے جاتے ہیں، بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق کے فیصلے نازل ہوتے ہیں۔
اسی طرح ایک روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ اس عظیم الشان رات میں عمومی مغفرت کا اعلان ہوتا ہے، مگر چند بدبخت افراد اس سعادت سے محروم رہتے ہیں: مشرک، والدین کا نافرمان، دلوں میں کینہ رکھنے والا، شراب نوش، ناحق قاتل، ٹخنوں سے نیچے لباس لٹکانے والا اور چغل خور—یہ سب اس وقت تک اس رحمت کے مستحق نہیں بنتے، جب تک اپنے گناہوں سے سچی توبہ نہ کر لیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اس رات عبادت کا اہتمام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو۔ اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں اور ندا دی جاتی ہے:
“ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق میں وسعت مانگنے والا؟ ہے کوئی مصیبت زدہ جو نجات چاہتا ہو؟”
ان احادیثِ مبارکہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلفِ صالحین رحمہم اللہ کے عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شبِ برأت میں بالخصوص تین اعمال کا اہتمام مسنون و مستحسن ہے:
اوّل: مردوں کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کی نیت سے قبرستان جانا۔ تاہم یہ بات ملحوظ رہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوری حیاتِ طیبہ میں شبِ برأت کے موقع پر جنتُ البقیع جانا صرف ایک مرتبہ ثابت ہے۔ لہٰذا کبھی اتباعِ سنت کی نیت سے جانا باعثِ اجر ہے، مگر اسے ہر سال لازم سمجھنا، پھول چڑھانا، چادریں ڈالنا اور چراغاں کرنا درست نہیں۔ دین کا حسن یہی ہے کہ جو چیز جس درجے میں ثابت ہو، اسے اسی درجے میں رکھا جائے۔
دوم: اس رات نوافل، تلاوتِ قرآن اور اذکار کا اہتمام۔ یہ یاد رہے کہ نفل عبادت خلوت کی عبادت ہے؛ شور و ہنگامہ، مخصوص اجتماعات اور جماعت کی پابندی اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ یہ راتیں میلے ٹھیلوں کے لیے نہیں بلکہ گوشۂ تنہائی میں رب سے لو لگانے کے لیے عطا ہوتی ہیں—ان قیمتی لمحوں کو غفلت کی نذر نہ کیا جائے۔
سوم: پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے؛ ایک تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کی بنا پر، اور دوسرے اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ ہر ماہ ایامِ بیض (۱۳، ۱۴، ۱۵) کے روزوں کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس نیت سے روزہ رکھنا موجبِ اجر و ثواب ہے۔
رہا اس رات پٹاخے چلانا، آتش بازی کرنا، حلوے کی رسم یا دیگر فضول و اسراف پر مبنی امور—تو یہ سب خرافات میں داخل ہیں۔ شیطان انہی لاحاصل مشاغل میں الجھا کر انسان کو مغفرت، توبہ اور عبادت سے محروم کرنا چاہتا ہے، اور بدقسمتی سے اکثر لوگ اسی فریب میں آ جاتے ہیں۔
بہر کیف، شبِ برأت کی فضیلت ایک مسلم حقیقت ہے، اور سلفِ صالحین نے اس رات کو غنیمت جان کر اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سعادت اسی میں ہے کہ ہم بھی اخلاص، اعتدال اور اتباعِ سنت کے ساتھ اس رات کو اللہ سے لو لگانے، دلوں کو صاف کرنے اور زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنائیں۔
https://chat.whatsapp.com/HVmBQOsLVRYBHRGbA1EiGr?mode=gi_t