ٹوٹ جانے کے باوجود نہ جھکنے والے
✍️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
وفاداری آسان نہیں ہوتی۔
یہ وہ راستہ ہے جہاں انسان روز اپنے ہی اندر ٹوٹتا ہے، مگر آواز نہیں آنے دیتا۔ جہاں شکایت کی ہزار وجوہ ہوں، مگر زبان پر شکر اور دل میں اصول زندہ رکھے جاتے ہیں۔ وفاداری کا اصل امتحان وہیں شروع ہوتا ہے جہاں مفاد، انا اور وقتی فائدہ سامنے آ کھڑے ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر لوگ گر جاتے ہیں… اور چند ہی لوگ تاریخ بناتے ہیں۔
ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں وفاداری کو کمزوری، خاموشی کو بزدلی، اور اصولوں پر قائم رہنے کو حماقت سمجھا جانے لگا ہے۔ یہاں سچ بولنے والا تنہا ہو جاتا ہے، اور موقع پرست تالیاں بجاتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کردار کی قیمت نہیں، چالاکی کی مانگ ہے۔ ضمیر کی آواز دبانے والے کامیاب کہلاتے ہیں، اور درد سہنے والے “بیوقوف”۔
حالانکہ اصل عظمت یہی ہے کہ انسان درد سہہ لے، مگر اپنے ظرف اور کردار کی چابی کبھی کسی اور کے ہاتھ میں نہ دے۔
یہ وہ بلندی ہے جہاں انسان خود کو حالات کے ہاتھوں گروی نہیں رکھتا۔ جہاں وہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ مجھے توڑا جا سکتا ہے، خریدا نہیں جا سکتا۔ مجھے آزمایا جا سکتا ہے، مگر جھکایا نہیں جا سکتا۔
آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے اقدار کو فائدے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ رشتے فائدے سے جڑے ہیں، وفاداریاں مفاد سے بندھی ہیں، اور سچ وہی ہے جو طاقتور کے حق میں ہو۔ ایسے میں جو شخص اصولوں پر قائم رہتا ہے، وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔ مگر یاد رکھئے، اکیلا ہونا کمزوری نہیں، بلکہ اکثر یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ آپ بھیڑ کا حصہ بننے سے انکار کر چکے ہیں۔
وفاداری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر ظلم سہتے رہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیتے۔ آپ کی خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ آپ کے اندر کی مضبوطی کا اعلان ہوتی ہے۔ آپ کا ضبط اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ نے خود کو حالات کے ہاتھوں بے لگام نہیں چھوڑا۔
معاشروں کی اصلاح نعروں سے نہیں ہوتی، کردار سے ہوتی ہے۔
جب ایک انسان جھوٹ کے بازار میں سچ لے کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پورے نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص وفاداری نبھاتا ہے، باوجود اس کے کہ اس کا صلہ تنہائی ہو، تو وہ معاشرے کے ضمیر کو جگا دیتا ہے۔ ایسے لوگ شور نہیں مچاتے، مگر ان کی خاموشی نسلوں کو راستہ دکھا دیتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول وقتی فائدے کے لیے قربان کر دینا سب سے بڑا نقصان ہے۔ کیونکہ جو شخص ایک بار اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے، وہ پھر عمر بھر سستا ہی بکتا رہتا ہے۔ اور جو انسان درد سہہ کر بھی اپنے کردار کو بچا لیتا ہے، وہ چاہے گمنام رہے، مگر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔
آئیے، ہم اس معاشرے میں وہ چراغ بنیں جو ہوا کے خوف سے بجھنے کا ہنر نہیں سیکھتے۔
ہم وفاداری کو کمزوری نہیں، طاقت بنائیں۔
ہم خاموشی کو شکست نہیں، وقار بنائیں۔
اور ہم اپنے بچوں کو یہ سبق دیں کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ تم جیت جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ تم ہار کر بھی اپنے اصول نہ ہارو۔
کیونکہ یاد رکھئے،
اصل عظمت وہی ہے جہاں انسان ٹوٹ تو جائے…
مگر جھکے نہیں۔