دینی اقدار اور موجودہ تعلیمی تقریبات

✍🏻از محمد عادل ارریاوی 
_______________________________
قارئین یہ ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کل عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اسکول و کالجز اور بعض مدرسوں میں بالغ بچیاں 12۔ 13 سال سے بڑی عمر کی بیٹیاں ان کا کوئی ایسا پروگرام جو پورے مجمع کے سامنے نمایا کیا جائے یا کوئی ایسے گانے یا ایسا ڈانس کروانا یہ خلاف شرع حرکت ہے اللہ کی ناراضگی بر سیگی اور برکت ختم ہو جائے گی یہ کوئی دین کی خدمت نہیں ہے۔ بچیوں سے ڈانس وغیرہ کرواتے ہیں اور سب تماشائی بن کر دیکھتے ہیں العیاذ بااللہ ۔ بعض دفعہ مدارس والے یہ کہتے ہیں کہ صاحب بچیوں کے والدین کی خواہش پر ان کا پروگرام رکھا گیا ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ والدین کے کہنے سے شریعت کا مسئلہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا کم از کم دینی مدارس کے ذمہ داران کو ان فتنہ انگیز پروگراموں کو بند کرنا چاہیے اگر مدارس والے ہی دین پر عمل نہ کریں گے تو پھر عوام سے شکایت کا کیا توقع ہے؟
ایک مرتبہ مجھے حیدرآباد میں اپنے ماموں کے ہمراہ ایک دستار بندی کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا مجموعی طور پر یہ پروگرام ماشاء اللہ نہایت عمدہ اور خوش آئند تھا اور اس کے بیشتر پہلو قابل تحسین تھے تاہم پروگرام کے دوران بچیوں کا جو شو پیش کیا گیا وہ ہمیں سخت ناگوار گزرا یہ بات ہمارے لیے اس لیے بھی باعث حیرت تھی کہ حیدرآباد کے ایک جید عالم دین بھی اس تقریب میں بنفسِ نفیس شریک تھے دل میں بے اختیار افسوس کے جذبات ابھر آئے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر ہمارے معاشرے کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم ایسی تقریبات میں بھی حدود و اقدار کا خیال نہیں رکھ پاتے اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ایسے پروگراموں کے منتظمین کو صحیح رہنمائی عطا فرمائے اور ہمیں اپنی دینی و اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین یارب العالمین