بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ پنجم)
سالانہ مسابقۂ صحافت
ممکن ہے کہ عنوان دیکھ کر آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ جمادی الثانی کے ثلثِ ثانی کا اخیر چل رہا ہے، دیگر مدارس میں سالانہ مسابقات کی آخری تاریخیں ہیں اور آپ کا ابھی سالانہ مسابقۂ صحافت کا اعلان ہی آ رہا ہے، آپ کا سوال بجا ہے، اس میں ایک حد تک میری کوتاہی بھی ہے اور غفلت بھی، مگر ایک بڑی وجہ حضرت مفتی ناصرالدین مظاہری کی تاریخِ واپسی میں تدریج بتدریج تاخیر بھی تھی، خیر دیر آید درست آید کے تحت میں نے دو عنوان منتخب کر کے ١٦/ جمادی الثانی مطابق ٨/ دسمبر بہ روز پیر کو اعلان نکال دیا۔
پہلا عنوان: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جزوِ ایمان
دوسرا عنوان: تبلیغیی تحریک میں میوات کا حصہ
اس مسابقۂ صحافت کے لئے چند شرائط بھی رکھی گئی جن کو بعینہٖ یہاں نقل کیا جا رہا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
(١) مضمون فل اسکیپ کاغذ کے کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات صفحات پر مشتمل ہو۔
(٢) مقالہ کے شروع میں فہرستِ عناوین اور آخر میں فہرستِ مصادر ومراجع ہو۔
(٣) رموزِ اوقاف کی مکمل رعایت وپاسداری ہو، نیز مقالہ میں کوئی نام اور علامتِ شناخت وغیرہ نہ ہو۔
(٤) مضمون کسی کتاب، مضمون اور رسالہ وغیرہ سے بعینہ منقول نہ ہو۔
(۵) مقالہ میں وارد شدہ عربی عبارات(قرآن، حدیث اور مقولہ وغیرہ) بااعراب ہونے کے ساتھ خطِ نسخ میں بھی ہوں۔
(٦) مقالہ جمع کرنے کی آخری تاریخ ۵ رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔ مطابق ٢٦ دسمبر ٢٠٢۵ شمشی بہ روز جمعہ ہے۔
نوٹ کے تحت یہ بھی اعلان ہی پر نامز کر دیا گیا کہ بلند درجاتِ ثلاثہ سے کامیاب ہونے والے احباب کو خصوصی جب کہ دیگر تمام مساہمین کو تشجیعی انعام ( شرکت کا انعام) سے نوازا جائے گا، ان شاء اللہ تعالی۔ وینصرنا اللہ
سالانہ مقالات کی جمع شدگی
حسبِ ضابطہ تو ۵/ رجب المرجب مطابق بہ روز جمعہ تمام مقالات کی جمع شدگی ضروری تھی، مگر طلبہ کی آسانی وسہولت کی خاطر مزید ایک دن کی مہلت دے دی اور یوں اگلے روز یعنی ٦/ رجب المرجب کی دیر رات تک تقریباً 13/ احباب کے مقالے جمع ہو گئے، گرچہ دو مقالے اگلے روز یعنی اتوار کی صبح میں بھی جمع کر لئے گئے اور یوں الحمدللہ بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات کے زیرِ اہتمام ان مقالات کی تعداد 15 تک پہنچ گئی۔
مقالات کی جانچ
مقالات کے جمع ہونے کے بعد چانچ کا مسٔلہ بڑا اہم تھا، میرے ذہن میں جانچ کے لئے حضرت مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی کا نام متعین تھا، مگر یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب جلدی چیک کر لیں گے تو کسی اور سے بھی چیک کرا لوں گا، پھر دونوں کے نمبرات کو جوڑ کر پوزیشنیں نکال دیں گے، مگر یہاں حال دگر تھا، چناں چہ اتوار کی شام، میں مضامین کو لے کر مفتی ناصرالدین مظاہری کی خدمت میں حاضر ہوا، سلام وکلام ہوا، خیر وعافیت دریافت کی، میں نے مقالات کی جانچ کے بابت عرض کیا کہ تو حضرت نے مضامین تھیلی سے نکالے، دیکھ کر بے حد خوش ہوئے، مگر کہنے لگے کہ "اتنے سارے مضامین مجھ سے کیسے چیک ہوں گے؟ مجھے ان میں سے پانچ مقالے دے دو، باقی کچھ مفتی محمد راشد ندوی مظاہری کو اور کچھ کسی اور کو دے دو" حضرت مفتی ناصرالدین صاحب کی بات بھی صحیح تھی کہ ایک تو وہ مقالات میں سے ہر ایک مقالہ خود ہی تقریباً سات صفحات پر محیط تھا، پھر الگ سے فہرستِ عناوین اور مصادر ومراجع وغیرہ الگ الگ صفحات میں اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وقت صرف دو سے تین دن، خیر میں پانچ مقالے مفتی ناصرالدین مظاہری کو دے کر سلام کر کے واپس ہوگیا۔
بقیہ مقالات کو لے کر مولانا مفتی محمد راشد ندوی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہیں پہلے سے بھی معلوم تھا مگر پھر بھی حالیہ مقالات کی بناء پر بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات کا مختصر تعارف کرایا، اس کے بعد مفتی صاحب سے مقالات کی جانچ سے متعلق درخواست کی، مفتی صاحب نے معذرت کرتے ہوئے ایک کافی لمبی چوڑی تقریر کی، جس کا حاصل یہ تھا کہ امتحان کے پرچوں اور اس طرح کے مسابقات کو جانچنا میرے لئے نہایت مشکل کام ہے، مجھے ناانصافی کا ڈر لگا رہتا ہے، نیز اس کے علاوہ ہمارے آئیندہ ہونے والے پروگرام سے متعلق تفصیلات معلوم کی، سن کر بے حد خوش ہوۓ اور خوب ہی دعائیں دی، اس کے علاوہ اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں بہت سے اہم اور ضروری مشوروں سے بھی نوازا، نیز مقالات کی جانچ کے لئے مفتی محمد احکام صاحب کا نام تجویز فرمایا، چناں چہ میں اگلے روز یعنی ٨/ رجب المرجب بہ روز پیر کو مفتی محمد احکام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، انہیں أولاً تو بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات سے روشناس کرایا، پھر مفتی محمد راشد صاحب کی سفارش کا حوالہ دے کر مقالات کی جانچ کی درخواست کی، مگر مفتی محمد احکام صاحب نے بھی وقت نہ ہونے کا عذر ظاہر کرتے ہوئے معذرت کر دی اور اس طرح یہاں سے بھی مایوسی حصہ میں آئی۔۔ (جاری)
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء