حد سے بڑھی ہوئی خاموشی کی قیمت
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
زندگی نے واقعی ہزاروں سبق سکھائے ہیں، مگر ان سب میں ایک سبق ایسا بھی سکھایاجو دل پر نقش ہو کر رہ گیا۔ یہ سبق وقت کی کتاب میں نہیں لکھا ہوتا، بلکہ انسان کے رویّوں، بے قدریوں اور خاموشیوں کے بیچ رہ کرسیکھنےملتاہے۔
ہم اکثر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگر ہم کسی کے سکون کے لیے خود کو بھلا دیں، اس کی ہر لاپرواہی کواپنی مسکراہٹ میں لپیٹ لیں، اس کی ہر غلطی کو محبت کا نام دے دیں، تو شاید وہ ہمیں سمجھ لے گا۔ شاید وہ کبھی پلٹ کر دیکھے گا کہ کسی نے اس کے لیے اپنی ذات کے کتنے حصے قربان کیے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ آپ کے جھکنے کو آپ کی محبت نہیں، آپ کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔
آپ اگر کسی کے قدموں کی خاک بھی بن جائیں، تب بھی وہ خود کو آپ سے برتر ہی سمجھے گا۔ کیونکہ جو انسان صرف اپنا سکون دیکھنے کا عادی ہو جائے، وہ دوسرے کے ٹوٹنے کی آواز کبھی نہیں سن پاتا۔ آپ اس کے لیے اپنی راتوں کی نیند قربان کریں، اپنے دل کے زخم چھپاتے رہیں، اپنی انا کو بار بار ماریں۔وہ پھر بھی ایک لمحے میں، ایک بے بنیاد سی وجہ گھڑ کر، آپ کے ذہنی سکون کو تہس نہس کر دے گا۔ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ اسے ذرا سا بھی افسوس نہیں ہوگا۔
یہاں انسان سیکھتا ہے کہ حد سے زیادہ برداشت اکثر احترام نہیں لاتی، بلکہ بے قدری کو جنم دیتی ہے۔ ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ اندر ہی اندر مر جانے کا اعلان ہوتی ہے۔ اور ہر معافی عظمت نہیں، بعض اوقات وہ خود سے کی گئی سب سے بڑی ناانصافی بن جاتی ہے۔
زندگی کا یہ سبق تلخ ضرور ہے، اور ضروری بھی۔ یہ سکھاتا ہے کہ خود کو اتنا مت گراؤ کہ کوئی تمہیں روند کر بھی شرمندہ نہ ہو۔ محبت کرو، وفا کرو، قربانی دو۔مگر اپنی ذات کی قیمت پر نہیں۔ کیونکہ جو شخص آپ کے ٹوٹنے پر بھی پشیمان نہ ہو، وہ آپ کی زندگی میں کبھی اہم نہیں ہوسکتا۔