Translation unavailable. Showing original.
حائضہ کا قرآن سننے اور پڑھانے کا حکم
25 فروری، 2026
*حالت حیض میں معلمہ کا قرآن سننے اور پڑھانے کا حکم*
حالت حیض میں معلمہ قرآن سن سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ قرآن کی تلاوت نہ کرے، اور نہ قرآن کو چھوئے، لیکن قرآن سن سکتی ہے ۔
صحیح بخاری میں ہے:
’’عن منصور بن صفیة أنّ أمّه حدّثته أنّ عائشة حدّثتها أنّ النبي صلى الله علیه و سلّم كان یتكئ في حجري و أنا حائض، ثمّ یقرأ القرآن.‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الحیض، باب قراءۃ الرجل في حجر امرأته و هي حائض، 1/44، ط: قدیمی کراچی)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میری گود میں ٹیک لگاکر لیٹتے تھے جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، پھر آپ ﷺ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حائضہ کا تلاوتِ قرآن سننا جائز ہے، چاہے وہ معلمہ ہو یا نا ہو۔
اگر طلباء کو پڑھانے کی نوبت آئے تو آیتوں کو توڑ توڑ کر پڑھائے، ایک ساتھ ایک آیت کی تلاوت نہ کرے۔ کیونکہ حائضہ کیلیے تلاوت قرآن کسی صورت بھی جائز نہیں ، پڑھانے کیلیے بس اتنی اجازت ہیکہ وقت ضرورت توڑ توڑ کر پڑھائے۔
واللہ اعلم بالصواب