Translation unavailable. Showing original.
خاوند کو ناراض کرکے سونے والی عورت پر فرشتوں کی لعنت!!!
12 فروری، 2026
اس سے اس بات کا پتہ چلا کہ میاں بیوی میں اگر کسی بات پر کوئ تلخ کلامی ہوجاۓ تو عورت کو اس وقت تک نہیں سونا چاہیۓ جب تک کہ ایک دوسرے سے راضی نا ہوجایئں۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ خاوند ناراض ہوکر سوگیا اور بیوی نے اسکو منانے کی کوشش نا کی تو جب تک وہ کوشش نہیں کرے گی اللہ تعالی کے فرشتے اس پر لعنت کریں گے۔
آج کل ماڈرن قسم کی بیویاں ذرا سی بات پر منہ بسور کر سوجاتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اب خاوند خود ہی ہمیں مناۓ گا۔ لیکن شریعت کہ رہی ہے کہ بیوی خاوند کو مناۓ۔ اور یہ کیا چاہتی ہیں کہ خاوند ہمیں مناۓ اور پھر ہم جنت میں بھی جایئں۔ سبحان اللہ۔ بات تو شریعت کی چلتی ہے، ہماری بات تو نہیں چلتی۔ تو شریعت کہ رہی ہے کہ جب خاوند ناراض ہو یا بیوی ناراض ہو تو بیوی کو پہل کرنی چاہیۓ۔
اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ بھئ اگر کسی جائز بات پر بیوی کو غصہ آگیا تو خاوند اکڑ کر بیٹھ جاۓ۔ نہیں۔ خاوند کو بھی یہ کہا جاۓ گا کہ بھئ اول تو تم نے ایسی بات ہی کیوں کی جس سے اپنی بیوی کا دل دکھایا، اپنی بیوی کو غصہ دلایا، جو ہر وقت تم سے محبت کرنے والی ہے۔ جو تمہاری اپنی ہے۔ ارے اپنوں کو غصّہ دلاتے ہو ؟اور اگر غصّہ دلا دیا ہے تو اب بیوی کو خوش کرنا بھی تمہاری زمہ داری ہے۔ تو مرد کو بھی پوچھا جاۓ گا۔ مگر اس حدیث پاک میں رسول اللہﷺ نے عورت کو کہا لہذا عورتوں کو دل میں یہ بات تسلیم کرلینی چاہیۓ کہ ہمیں اول تو زندگی میں خاوند سے ایسا معاملہ کبھی نہیں آنے دینا کہ وہ ہم سے اور ہم ان سے غصہ ہوں۔ اگر خدانخواسطہ ایسی بات آگئ تو خاوند کو منانے میں پہل کرنی ہے۔ تب ہم جنت میں جانے کی مستحق بنیں گی۔
حدیث پاک میں تو کہا گیا کہ یہ اپنا ہاتھ خاوند کے ہاتھ میں دیکر کہے، میں نہیں سوؤں گی جب تک آپ مجھ سے راضی نہیں ہوجایئں گے۔ لیکن آج کل کی عورتوں کی یہ حالت ہے کہ ذرا سا غصہ میں آجایئں، خاوند منانے کے لیے اگر ہاتھ بھی بڑھاۓ تو ہاتھ جھٹک دیتی ہیں۔ کہتی ہیں مجھے ہاتھ مت لگایئے۔ اب بتایئں جو خاوند کو یہ کہے گی کہ ہاتھ مت لگایئں، پھر کیا یہ جنتی عورت کی نشانی ہے یا کسی اور عورت کی؟ تو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیئے اور اپنی "میں" کو ختم کرکے جس طرح حدیث پاک میں فرمایا گیا اسکے مطابق بننے کی کوشش کیجئے۔
اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین