درس حدیث پارٹ 1 عوام الناس و علماء کے لئے
محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ١ ) `عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّمَا الْأَعْمَال بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لكل امْرِئ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهجرَته إِلَى مَا هَاجر إِلَيْهِ`
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کمانے کے لیے ہو جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
عوام الناس کے لئے
دین میں سب سے پہلے جس چیز کو درست کیا جاتا ہے وہ نیت ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں، علم سیکھتے ہیں مگر یہ سب کچھ اگر اللہ کے لیے نہ ہو تو صرف ایک عادت بن کر رہ جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شروع ہی میں یہ اصول سمجھا دیا کہ اللہ کے نزدیک عمل کی قدر اس کی نیت سے ہوتی ہے مقدار اور کثرت سے نہیں۔
ایک ہی عمل ہے مگر ایک شخص کے لئے وہ جنت کا زینہ بن جاتا ہے اور دوسرے کے لیے محض تھکن۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک نے اللہ کو سامنے رکھا اور دوسرے نے لوگوں کو اسی لئے بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ نیت وہ ترازو ہے جس پر عمل کا وزن کیا جاتا ہے۔
اگر نیت درست ہو جائے تو عام سا کام بھی عبادت بن جاتا ہے اور اگر نیت خراب ہو جائے تو بڑی عبادت بھی بے جان رہتی ہے۔
علماء و طلبۂ علم کے لئے
یہ حدیث امت کے نزدیک نصیحت کے ساتھ ساتھ اصولِ دین بھی ہے اسی لیے ائمۂ مجتہدین نے اس کی غیر معمولی اہمیت بیان کی ہے۔۔۔
امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے اسے ربعُ العلم قرار دیا۔امام شافعی علیہ الرحمہ نے نصفُ العلم کہا اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے نزدیک یہ حدیث ثلثُ العلم کے درجے پر فائز ہے کیونکہ نیت عبادات، معاملات اور اخلاق تینوں کی بنیاد ہے۔
اس حدیث کا شانِ ورود سعید بن منصور اور معجم کبیر میں طبرانی نے نقل کیا ہے کہ ایک صحابی نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس عورت نے شرط رکھی کہ اگر نکاح کرنا ہے تو مدینہ ہجرت کرو اس صحابی نے ہجرت کی مگر مقصد نکاح تھا۔ اس عورت کا نام قیلہ تھا جو اُمِّ قَیس سے مشہور تھی اسی نسبت سے وہ صحابی مہاجر اُمِّ قیس کہلائے۔۔۔
امام غزالی رحمہ اللہ نے نیت کے اعتبار سے اعمال کی نہایت جامع تقسیم کی ہے
1️⃣معصیت
ایسے اعمال جن میں نیت سے کوئی تغیر نہیں آتا۔ حرام عمل نیک نیت سے بھی حلال نہیں ہو جاتا۔
2️⃣ طاعات و عباداتِ مقصودہ
یہ وہ عبادات ہیں جن کی صحت بھی نیت کی محتاج ہے اور فضیلت بھی جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ۔
3️⃣ مباح اعمال
یہ بظاہر دنیوی کام ہیں مگر پاکیزہ نیت کے ساتھ عبادت بن سکتے ہیں جیسے کسبِ معاش، کھانا، سونا، نکاح۔
لہٰذا صرف عمل نہیں کرنا ، قبل از عمل دل کی سمت کو بھی درست کرنا ہے۔۔۔۔۔
Follow the
✍️📜قـــلـــمِ حـــــــکمتـــــ📜📚
Channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B