*شب معراج النبی الکریم ﷺ*
*جنتی وجہنمی اَرواح*
(قسط ثانی)
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کے دائیں بائیں کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا، جب آپ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو پڑتے ہیں۔ حضرت جبریل نے عرض کیا، ان کے دائیں اور بائیں جانب جو صورتیں ہیں یہ ان کی اولاد ہیں، دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانِب والے جہنمی ہیں۔ *(بخاری، 1/140، حديث:349)*
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں پھر مجھے جبریل علیہ السّلام اوپر لے گئے حتّٰی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون؟ فرمایا جبریل، پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا ہاں،کہا گیا: خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے،پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اندر پہنچا تو وہاں حضرت یحیی ٰعلیہ السّلام اور عیسیٰ علیہ السّلام تھے،جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ یحیی ٰعلیہ السّلام ہیں اور یہ عیسیٰ علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کرو۔میں نے سلام کیا، ان دونوں نے جواب دیا،پھر انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے) انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر جبریل علیہ السّلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے، دروازہ کھلوایا، پو چھا گیا کون؟ فرمایا: جبریل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا ہاں کہا گیا خوش آمدید تم خوب ہی آئے، پھر دروازہ کھولا گیا، جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السّلام تھے، جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ یوسف علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کرو۔ میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا۔ پھر کہا مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ(یعنی صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے) انہیں حسن کا ایک حصّہ دیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔
پھر جبریل مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ فرمایا جبریل ہوں، پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا ہاں کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا، آپ آئے۔ تو دروازہ کھولا گیا، جب اندر گئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السّلام تھے، جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ ادریس علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا اور کہا مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی) انہوں نے مجھے بھی خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ کہا جبریل ہوں، پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا ہاں کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے۔ دروازہ کھولا گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السّلام تھے، جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ ہارون علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا:مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی) انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ چھٹے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ فرمایا جبریل ہوں، پوچھاگیا، تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھاگیا کیا انہیں بلایاگیا ہے؟ فرمایا ہاں،کہاگیا خوش آمدید آپ اچّھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السّلام تھے جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ موسیٰ علیہ السّلام ہیں انہیں سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی)۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی جب وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ علیہ السّلام رونے لگے، ان سے پوچھا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے؟ فرمایا اس لئے کہ ایک فرزند میرے بعد نبی بنائے گئے، ان کی امّت میری امت سے زیادہ جنّت میں جائے گی۔
پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف لے گئے، جبریل علیہ السّلام نے دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ فرمایا: جبریل ہوں، پوچھا گا تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟فرمایا: ہاں۔ کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے، میں داخل ہوا تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام تھے، آپ بیتُ المعمور کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے، جبریل علیہ السّلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السّلام ہیں انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا، پھر فرمایا مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ(یعنی خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی۔*بخاری، 2/584، حدیث:3887، مسلم،ص87، حدیث:411*
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*