🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
وہ راستہ جو شورِ دنیا میں گم ہو گیا تھا،
وہ سمت جو خواہشات کے ہجوم میں اوجھل ہو چکی تھی،
وہ دروازہ جس کے بارے میں میں نے خود کو یہ باور کرا لیا تھا کہ شاید اب بند ہو چکا ہے۔
یہ واپسی کسی ایک لمحے کی پیداوار نہیں تھی یہ دل کی تھکن، روح کی پیاس اور ضمیر کی بے قراری کا حاصل تھی۔ بہت دور نکل آئی تھی میں اتنا دور کہ اپنے ہی سائے سے اجنبی ہو گئ تھی۔
ہنسی ہونٹوں پر تھی مگر دل میں ویرانی،
زبان پر باتیں تھیں مگر آنکھوں میں سوال،
ہاتھوں میں مصروفیت تھی مگر سینے میں خلا۔
میں چلتی رہی، دوڑتی رہی، اور سمجھتی رہی کہ شاید یہی زندگی ہےمگر حقیقت یہ تھی کہ میں خود سے بھاگ رہی تھی ۔
پھر ایک دن… یا شاید ایک رات جب خاموشی حد سے بڑھ گئی
دل نے ہمت کی۔ اس نے شور کو ایک طرف رکھا اور سچ کو پکارا۔
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ واپسی کا راستہ کبھی گم نہیں ہوتا؛ ہم خود اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال لیتے ہیں۔
رب کا دروازہ بند نہیں ہوتا، بند تو ہماری سماعت ہو جاتی ہے۔
وہ پکار آج بھی وہی تھی: “آ جاؤ… میں قریب ہوں”فرق صرف اتنا تھا کہ اب میں سننے لگی تھی۔
میں نے سمجھ لیا کہ واپسی کے لیے پروں کی نہیں، ندامت کی ضرورت ہوتی ہے۔
رفتار کی نہیں، سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
دعووں کی نہیں، ایک سجدے کی ضرورت ہوتی ہے۔
میں نے جان لیا کہ رب کے حضور پہنچنے کے لیے راستے لمبے نہیں ہوتے، دل جھکانا پڑتا ہے۔
گناہ بڑے سہی، مگر رحمت اس سے کہیں بڑی
اندھیرے گہرے سہی، مگر فجر کا وعدہ سچا۔
واپسی کے اس سفر میں سب سے پہلے غرور ٹوٹا اور اس کے ٹوٹتے ہی بوجھ ہلکا ہو گیا۔
پھر بہانے گرے اور آنکھیں صاف ہو گئیں۔
اس کے بعد آنسو بہے اور دل دھل گیا۔
میں نے پہلی بار جانا کہ ندامت کمزوری نہیں، قوت ہے۔
اور رجوع شکست نہیں، نجات ہے۔
رب کو ہماری سچائی پسند ہے۔
وہ پلٹ آنے والے دل قبول کرتا ہے۔
میں جب دہلیزِ رحمت پر پہنچی تو نہ کوئی طعنہ تھا، نہ کوئی سوال
بس قبولیت کی خاموش مسکراہٹ تھی۔
یوں لگا جیسے کہا جا رہا ہو: “میں تو یہیں تھا، تم ہی دیر سے آئی”۔
اس لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ واپسی کا راستہ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
یہ چراغ رب خود جلاتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم اندھیرے سے دل نہ لگائیں۔
اب میں جانتی ہوں: گرنا انسانیت ہے، مگر گرے رہنا محرومی۔
لوٹ آنا عزت ہے، اور لوٹانے والا رب کریم ہے۔
میں نے واپسی کا راستہ ڈھونڈ لیا اور اس راستے پر سکون ہے، امید ہے، اور وہ قرب ہے جو دلوں کو زندہ کر دیتا ہے۔
اگر کوئی پوچھے کہ یہ راستہ کہاں سے شروع ہوتا ہے تو میں مسکرا کر کہوں گی:
ایک سچی آہ سے، ایک ٹوٹے دل سے، اور ایک جھکے ہوئے سجدے سے۔