*⚡منکرین معراج، شریعت کی نظر میں⚡*
نبی اکرمﷺہجرت مدینہ سے قبل سفر معراج پر روانہ ہوئے ، یہ ایک عظیم معجزہ اور محیر العقول واقعہ تھا جو ہجرت سے قبل پیش آیا ۔
*🥀اسراء اور معراج میں فرق:*
محققین نے اس واقعہ کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے:
۱… مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر ۔ ۲… مسجد اقصیٰ سے سماوات کا سفر ۔
اول کو اسراء اور ثانی کو معراج کہتے ہیں ۔
*🥀اسراء و معراج کے منکر کا حکم:*
اسراء توآیت قرآنی سے ثابت ہے اور آیت قرآنی کا انکار کفر ہوتاہے ؛لہذا اسرء کا منکر کافر ہوگا ، اور مسجد اقصیٰ سے سماوات اور بلندیوں کا سفر احادیث مشہورہ سے ثابت ہے، اور احادیث مشہورہ کا منکر مبتدع ہوتا ہے؛ لہذا معراج کا منکر مبتدع ہوگا ۔
چنانچہ *فقہ اکبر* میں صراحت ہے:
"وخَبَر المعراج حق ،فمن ردَّہ فھو ضالّ مبتدع"
اس روایت کی شرح کرتے ہوئے *ملا علی قاری* ؒ لکھتے ہیں:
"أی بجسد المصطفیٰﷺیقظۃًالی السماءثم الی ماشاء اللہ تعالیٰ من المقامات العلیاء(حق)أی: حدیثہ ثابت بطرق متعددۃ (فمن ردَّہ) أی: ذالک الخبر ولم یؤمن مقتضیٰ ذالک الاثر (فھو ضالّ مبتدع) ای: جامع بین الضلالۃ والبدعۃ"
(مِنَحُ الروض الازھر فی شرح الفقہ الاکبر ۳۲۲ص)
"فقہ اکبر" اور "روض ازھر" کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ معراج کا منکر گمراہ اور مبتدع ہے ۔
علامہ مسعود بن عمر تفتازانی شرح عقائد میں لکھتے ہیں:
"والمعراج لرسول اللہﷺ فی الیقظۃ بشخصہ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالیٰ من العلیٰ حق ای ثابت بالخبر المشہور حتیٰ ان منکرہ یکون مبتدعا".
وقال *صاحب النبراس* :
"الجمھور علیٰ ان منکر المتواتر کافر و منکر المشھور فاسق ھذا ھو الصحیح".
( النبراس علی شرح العقائد النسفیہ/۶۲۳ص مکتبہ یاسین استنبول ترکی)
*علامہ تفتازانی* کی عبارت اور *علامہ عبدالعزیز فرہاری* کی صراحت سے معلوم ہوتاہے معراج خبر مشہور سے ثابت ہے، اور خبر مشہور(معراج) کا منکر فاسق ہے ۔
*علامہ فرہاری* آگے چل کر ایک عجیب بات بیان فرماتے ہیں کہ: جو تفصیلی معراج کا انکار کرے وہ مبتدع ہوگا؛ لیکن جو اصل معراج کا انکار کردے وہ کافر ہوگا؛ اس لئے کہ معراج کے متعلق قدرے مشترک روایتیں درجہ توتر کو پہونچی ہوئی ہیں، (وھذا لایبعد عن الصواب حوالہ گذشتہ)
لیکن جمہور کا مسلک وہی ہے جو ابتداء ذکر کیا گیا کہ: منکر معراج مبتدع ہوگا ۔
*🥀منکرین کے اقوال میں اختلاف:*
منکرین معراج کی مختلف قسمیں ہیں:
∆ بعض مکمل واقعہ کا انکار کرتے ہیں ۔
∆ بعض معراج جسمانی کا _ جن میں سر فہرست ماضی قریب کے مفکر *سر سید احمد خان* ہیں، وہ اپنی مشہور کتاب "الخطبات الاحمدیہ فی العرب والسیرۃ المحمدیہ" میں واقعہ معراج کو معراج منامی سے تعبیر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:
"مکمل واقعہ معراج ایک خواب تھا"
ان کے استدلال میں ایک بات قابل غورہے! انہوں نے محض شاذ اقوال کا سہارا لیا ہے، اور امہات تفسیر میں ذکر کردہ اشکال و جواب میں سے محض اشکال کو اخذ کیا ہے اور جواب کو چھوڑ دیاہے(اللہ ہی خیر فرمائے) تو چلئے اس قضیہ کو لے کر ابن کثیر ؒ کی عدالت میں چلتے ہیں …
چنانچہ *بن کثیر ؒ معراج کی روایات کو جرح و تعدیل کے ساتھ نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد لکھتے ہیں:
"فحدیث الاسراء اجمع علیہ المسلمون وأعرض عنہ الزنادقۃ والملحدون".
اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں:
"وفی نصوص الاخبار الثابتۃ دلالۃ واضحۃ علیٰ ان الاسراء کان بالبدن واذا ورد الخبر بشئ ھو مجوّز فی العقل فی قدرۃ اللہ تعالیٰ فلا طریق الی الانکارِ".
(تفسیر قرطبی، سورہ اسراء )
ان اعتراضات کا تفصیلی جواب تو امام رازی نے دیا ہی ہے لیکن اجمالی جواب علامہ تفتازانی نے شرح عقائد میں دے دیاہے کہ:
"وانکارہ(المعراج) وادّعاء استحالتہ انما یبتنی علی اصول الفلاسفۃ والا فالخرق واالالتیام علی السموٰت جائز".
(شرح عقائد ۱۴۳ص)
🍁خلاصۂ کلام:
خلاصہ بس وہی ہےجو حضرت تھانویؒ نے بیان القرآن میں لکھا ہے کہ :
بیت المقدس تک جانے کا منکر کافر ہے اور تاویل کرنے والا مبتدع ہے اور آگے جانے کا منکر اور ماوِّل مبتدع ہے فقط! واللہ اعلم بالصواب (بیان القرآن ،سورہ اسراء ،آیت ۔١)
سرَلامکاں سے طلب ہوئی ،سوئے منتہا وہ چلے نبی
کوئی حد نہ ان کے عروج کی ، بلغ العلی بکمالہ