آج دل کی آواز
ابنِ وکیل
برسات کی راتوں میں سے ایک رات کا آخری پہر تھا۔ آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ رات کے پہلے پہر سے اب تک تیز بارش ہو رہی تھی، اور ہوا کے جھونکوں سے کھڑکی کے پٹ بار بار بج اٹھتے تھے۔ پورے کمرے میں بلب کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی پتا نہیں اس دل کو کیا ہوگیا تھا ، ہر سو اپنے آپ کو اکیلا محسوس کر رہا تھا ، زبان بات کرنے کو تیار نہ تھی آنکھیں مینھ کی طرح اشک بار تھیں دھڑکن نے ایک تلک ٹھہراؤ کے بعد کہا کہو جو دل میں ہے وہی کہو اے خلیل !
میں کس سے کہتا بتاؤ زرا اس مطلبی دنیا میں کون کس کی سنتا ہے ۔ اتنے میں زور کی ٹھنڈ ہوا کمرے میں بہت تیزی سے آںٔی اور میں کمبل کو اپنے جسم کے حوالے کر دیا پھر کہا سنو اے دل !
یہ دنیا بہت خوبصورت ہے اور سمندر بھی ، یہاں کے لوگ آسمانوں میں جھانکتے ہیں لیکن دل میں نہیں دیکھتے ، دوسروں کا فیصلہ کرتے ہیں خود کو بری سمجھتے ہیں ، ایک ہچکی آںٔی دل زرا سہم گیا ، پھر کہا کہو خلیل میں سن رہا ہوں ۔ خلیل نے کہا
اس سمندر میں لوگ موتی ، ہیرا طلب کرتے ہیں لیکن دل کے موتی کو نہیں سنوارتے ، صقالۃ القلب کی پرواہ نہیں کرتے وہ کیا ہوتا ہے خلیل ! وہ شاید ایمان ہوتا ہے ، جس کو یقین کہتے ہیں تم دیکھتے نہیں کہ اب عالم اور جاہل دونوں برابر ہیں ، کہ عالم غلطی پر تاویل کرتا ہے ، اور جاہل لغزش پر لغو کہتا ہے بڑا اور چھوٹا سب یکساں ہیں ، انصاف اور عدل وانصاف کا پیمانہ نہیں ہے اے دل ! یعنی ایمان نہیں ہے ۔
اور سناؤ کچھ ۔۔۔۔
تم دیکھ تو رہے ہو کہ سب دنیا کمانے میں فخر کررہے ہیں ، رات کو مرا ہوا گوشت کھاتے ہیں ، اور دل کو بہلاتے ہیں ، اور سب جنتی ہیں سب ایک جیسے ہیں کچھ نہیں ہونے والا اب سب کو پیسہ چاہیے اے دل تم سن رہے ہو۔
دل نے بہت ہلکی سی آواز میں ہاں کا اشارہ کیا اور کہا پھر اے خلیل تم کیا کروگے اب !
خلیل نے ڈرتے ہوۓ کہا اندھیرا تو ہر سو ہے عقل کام نہیں کرتی ، اور نفس آمادہ نہیں ہونے دیتی ۔۔۔
بس کرو ۔۔ ۔۔ خلیل ۔۔۔
لوگوں کو لمبی باتیں اچھی نہیں لگتی ۔۔ یہ کہتے ہوۓ دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا اور دونوں بی بی ناںٔمہ کی آستین میں جھولنے لگے ۔۔۔