Translation unavailable. Showing original.
عبادت میں خشوع کی بڑی اہمیت ہے
14 جنوری، 2026
عبادات میں خشوع کی بڑی اہمیت ہے
محمد فاروق ندوی نصیرآباد
استاد/مدرسہ نورالاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی 79852 92520
اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں مومن بندوں کی مختلف صفات اور ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ مختلف مقامات پر کیا ہے، سورہ ,,المومنون،، کی پہلی اور دوسری آیتوں میں فرمایا ,,قد افلح المومنون، الذين هم في صلاتهم خاشعون،، کامیاب ہوئے وہ مومن بندے جنھوں نے اپنی نماز میں خشوع اختیار کیا ،
خشوع کے لغوی معنی سکون کے ہیں، اور اصطلاح شرع میں خشوع یہ ہے کہ قلب میں بھی سکون ہو، یعنی غیراللہ کے خیال کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے، اور اعضاء بدن میں بھی سکون ہو کہ عبث اور فضول حرکتیں نہ کرے(بیان القرآن )
خشوع در اصل دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ بندہ کو اس بات کا خیال اور استحضار رہے کہ اللہ ہماری تمام حرکتوں اور ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، ہمارا کوئی بھی عمل خواہ ہم تنہائی میں اور چھپ کر کریں یا بر سرعام لوگوں کے سامنے کریں اس کے علم سے باہر نہیں ہے، ,,يعلم خائنة الاعين وما تخفی الصدور ، (المومن-19) وہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور سینوں کے راز کو بھی ,,ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما فی الارحام وما تدری ماذا تكسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان الله عليم خبير،،(لقمان-34) بلاشبہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کی خبر، اور وہی بارش برساتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ ہے رحم میں، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا، اور کوئی شخصج نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا، بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ جاننے والا باخبر ہے ، یہ تصور جب بندے کے اندر پیدا ہوگا تو وہ ہر قسم کے گناہوں اور ہر طرح کی معاصیات سے اجتناب کرے گا، اور یہی تصور اس کو اسکی نماز میں، تلاوت قرآن میں، روزہ رکھنے میں، زکوۃ ادا کرنے میں، درس و تدریس میں، دعوت و تبلیغ میں، اور دیگر تمام عبادات اور علمی، دینی، دعوتی اور سماجی کاموں میں خلوص پیدا کرنے کا جذبہ پیدا کرے گا،
حدیث جبرئیل میں ہے کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام انسانی شکل و صورت میں جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے احسان کے بارے میں سوال کیا اور کہا ,,فاخبرنی عن الاحسان، قال: ان تعبد الله كانك تراه فان لم تكن تراه فانه يراك،، آپ مجھے احسان(اخلاص)کے بارے میں بتائیے، آپ نے فرمایا، تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اوراگر یہ کیفیت نہ پیدا ہوکہ تم اس کو دیکھ رہے ہو تو(یہ سمجھوکہ)وہ تم کو دیکھ رہا ہے،
جب بندہ اپنی عبادتوں میں تواضع، انکساری، فروتنی اور خشوع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالٰی کی نظر رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اس کے الطاف و عنایات کی بارش ہوتی ہے، سکینت کا نزول ہوتا ہے، اور عبادت کے اندر ایک خاص قسم کی حلاوت محسوس ہوتی ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نماز کے وقت اپنے بندے کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ دوسری طرف التفات نہ کرے، اور جب وہ دوسری طرف التفات کرتا ہے یعنی گوشہ چشم سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالٰی اس سے رخ پھیر لیتے ہیں، (رواہ احمد والنسائی) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز میں وہ اپنی ڈاڑھی سے کھیل رہا ہے، تو فرمایا ,,لو خشع قلب هذا لخشعت جوارحه،، (رواہ الحاکم ورواہ الترمذی بسند ضعیف ) یعنی اگر اس شخص کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی سکون ہوتا(مظہری )
خشوع کا تعلق صرف نماز ہی سے نہیں ہے کہ اسی میں خشوع اختیار کیا جائے بلکہ اس کا تعلق تلاوت قرآن سے، ذکر و تسبیحات سے، حج اور عمرہ سے، روزہ اور زکوۃ سے، نیز اسی طرح دیگر تمام عبادات سے ہے کہ ان کی ادائیگی کے وقت قلب و دماغ اور اعضاء بدن کے ساتھ بندہ اللہ تعالٰی کی طرف متوجہ رہے اور اپنی عبادات کو صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے انجان دے ،
13/1/2026