جس طرح تواريخ کے اوراق کوفے والوں کو بیغیرت اور دھوکہ باز کہتے ہوئے نظر آتے ہیں یہی حال مؤرخین اب اس قوم کا بھی لکھیں گے۔۔۔۔


اور کچھ اس طرح۔


اب سے چند سال قبل نام نہاد کے مسلمان پائے جاتے تھے جو اپنے آپکو مسلمان تو کہتے تھے گوشت کھاتے تھے باقاعدہ نماز بھی پڑھا کرتے تھے اور جس زبان سے خدا کی وحدانیت کا اقرار کرتے تھے اسی سے گالی گلوچ اور جھوٹ بھی بولتے تھے،تھے تو مسلمان لیکن عمل سے ایسے عاری تھے جیسے کہ مذہب اسلام نے ان سے عمل کو منع کر دیا ہو۔

ان کا عمل کسی یہودی عسائی یا مجوسی سے کم نہیں تھا۔۔۔


واقعتا یہ واقعہ پیش کریں گے۔کہ دیکھیے کیسے مسلمان تھے

مؤرخین لکھیں گے کہ 56 یا 57 اسلامی ممالک تھے اور ہر ایک اپنے آپ میں پاورفل تھا لیکن انکے سامنے مسجد اقصی کو شہید کیا گیا کچھ نہیں بولے ،انکے سامنے مسکن انبیائے کرام علیہم السلام کے پرخچے اڑا دئے گئے کچھ نہیں بولے، ان کے سامنے فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے گئے کچھ نہیں بولے، انکے سامنے ماں، بہن بیٹی کی عزت کو چکنا چور کر دیا گیا کچھ نہیں بولے، ایک دہشت گرد اور انصاف سے عاری ملک نے انکی لاشوں کو فلائٹ کی طرح آسمان میں اڑا دیا کچھ نہیں بولے، گویا وہ یہ لکھیں گے کہ تمام بیغیرتیوں کی حدود کو پار کر دئے تھے،

(اور مجھے ڈر ہے کہیں ایمان کے شکوک پر کچھ نا لکھ دیں)


اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، عمر بن خطاب، ابو بکر صدیق، عثمان بن عفان ،علی بن ابی طالب، عمر بن عبدالعزیز، خالد بن ولید،زید ابن ارقم، صلاح الدین ایوبی، اور عظیم دلیروں بہادروں کی باتیں اپنے اسٹاج پر کیا کرتے تھے لیکن جب میدان کی بات آتی تھی تو یہ حق گوئی بھی بھول جاتے تھے، یہ اسٹیج پر گلے پھاڑنے کی طاقت رکھتے تھے لیکن انہیں کے ملک میں اگر شریعت اسلام پر آنچ آتی تو وہ اسکو پورا جلا دیا کرتی تھی اور یہ کچھ نہیں بولتے تھے، ایک پروٹیکٹ کرتے جو ناکام رہتا تھا ہمیشہ، اور تھے بہت اتنے تھے کہ نبی اکرم کے زمانے بھی نا تھے، مگر حالت یہ تھی کہ انکی خود کی کوئی قیادت تک نا تھی ظلم برداشت کرتے تھے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی گریزاں ہوا کرتے تھے۔۔

اور کچھ اپنی پیری، مریدی کے لئے پوری کائنات کو پھانسی پر لٹکا دینے کی صلاحیت رکھتے تھے پر وہ اپنی روٹی سیکتے تھے، اور قوم کو جنت اپنے باپ کی جاگیر بتاتے تھے، اور کچھ ظالم لوگ روزہ، نماز ،حج، زکوۃ، کے چھوڑ دینے پر کوئی تنقید نہیں لیکن پیر کی اگر کسی نے مخالفت کی تو اسکی خیر نہیں تھی،میں تو سمجھتا ہوں کہیں مؤرخین یہ نا لکھ دے کہ اسے جنت سے بے دخلیت کا سرٹیفکیٹ دے دیا کرتے تھے.


اپنی قوم کو اس قدر بہادر بن کر دکھاتے تھے کہ جیسے اکیلے ہی پوری دنیا کو فتح کرنے کی طاقت رکھتے ہوں، لیکن وہ بزدل اور بے غیرت اور بے حس لوگ تھے،پتا نہیں کس حساب سے مذہب اسلام میں داخل تھے۔۔۔


اور پھر مؤرخین لکھیں گے کہ یہ ہو کیسے نہیں جب انکو دودھ پلانے والی مائیں گانا ،مویز، ایکٹر کی باتیں، اور بیٹی، ماں، بہن بھائی اور گھر کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کر لو اسٹوری دیکھا کرتے تھے،

اور انکی مائیں بازاروں میں، مارکیٹ میں، اور ہر بے پردہ پلاٹ فارم پر کھڑی نظر آتی تھیں، اور نماز، روزہ ایام مخصوصہ کے علاوہ بھی معاف سمجھتی تھیں، کیونکہ انکے شوہر انہیں کبھی نماز کے لئے نہیں روزے کے لیے نہیں بلکے کھانے میں تاخیر ہو جانے پر ڈانٹتے تھے.


یاد رکھو بڑا مشہور ہے یہ قول۔۔۔ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے۔۔


گویا مؤرخین بڑے اچھے سے ہمارے قصے لکھیں گے جس میں ہماری بہادی، ہمارا صبر،ہماری استقامت، ہمارا ہنر، ہماری قیادت، ہماری سخاوت، ہماری عنایت، ہماری امن پسندی، ہماری کامیابیاں ہمارے مستقبل کو بہت پیچھے لے جانے پر مجبور کر دیا کریں گیں.


✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️