[تعدّد خدا محَال ہے]


یہ سوال بھی اکثر ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک خدا ہے تو پھر ایک سے زیادہ کیوں نہیں ہو سکتے؟ کیا ایسا ممکن نہیں کہ دو یا تین خدا مل کر اس کائنات کو چلائیں؟


آئیے اسی پر عقلی و نقلی تجزیہ کرتے ہیں...


سوال اول اگر دو خدا ہوتے تو کیا ہوتا؟


الجواب بعون الملک الوھاب


عـــــقـــــــلـــــی دلیــــــــــــــــــــــــــل


(1) اگر دو خدا ہوتے تو یا تو دونوں ایک جیسے طاقتور ہوتے، یا ایک دوسرے سے کمزور ان دو صورتوں سے کبھی بھی چھٹکارا نہیں ہے،


اگر دونوں طاقتور برابر ہوتے تو کائنات میں اختلاف ضرور ہوتا، مثلاً ایک چاہتا دن ہو اور دوسرا چاہتا رات ہو۔ ایک چاہتا انسان کو مار دیا جائے اور دوسرا چاہتا اسے زندہ رکھا جائے۔ نتیجہ؟ کائنات برباد ہو جاتی...


جس کو قرآن نے بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا اور فرمایا (لو کان فیھما آلهة الا الله لفسدتا...


اگر ایک طاقتور اور دوسرا کمزور ہوتا تو پھر کمزور خدا، خدا نہیں رہتا بلکہ عاجز ہو جاتا۔ اور عاجز کو خدا نہیں کہا جا سکتا...



(2) اگر کئی خدا ہوتے تو اس کائنات کا نظم و ضبط قائم نہ رہتا...


سوال دوم کیا سب خدا مل جل کر نظام چلا سکتے ہیں؟


الجواب بتوفیق الملک الوھاب


یہ بھی محال ہے،

کیونکہ اگر وہ سب ایک دوسرے کے محتاج ہو کر چلائیں تو وہ خدائے حقیقی نہیں رہیں گے، کیونکہ خدا وہی ہے جو بے نیاز ہو، جو کسی کا محتاج نہ ہو،اور اگر کسی ایک کی بات پر اتفاق کر لیں تو اس صورت میں دوسرے خداؤں کی تقلید لازم آئے گی اور جو تقلید کرے وہ خدا نہیں ہو سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ بھی ممکن نہیں،اور اگر یہ کہا جائے کہ سب کی مرضی ایک سی ہو اور ایک بات پر متفق ہو جائیں تو پھر یہ بات عقلا ثابت ہے کہ وہ بات اولا کسی نا کسی خدا سے صادر ہوگی اور جس سے صادر ہوگی تو اب باقی خدا اسکی بات پر اتفاق کریں گے یا پھر منع کریں گے منع کریں گے تو نظام درہم برہم جو ابھی تک ہوا نہیں ہے اور اگر اتفاق کر لیں تو یہ بھی دوسرے خدا کا محتاج ہونا لازم آئے گا کیونکہ وہ نہیں کر رہا بلکہ دوسرے خدا کی تقلید کر رہا ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ خدا محتاج نہیں ہو سکتا،

اور اگر مزید یہ کہا جائے کہ ایک کو باقی پر غلبہ حاصل ہو تو پھر اصل خدا غالب ہونے والا ہوگا باقی معزول و عاجز ہو جائیں گے اور خدا عاجز نہیں ہو سکتا....


نقلی دلائل

قرآن مجید کی دلیل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

(لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا الانبیاء)

اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ضرور دونوں کا نظام بگڑ جاتا...


یعنی یہ کائنات جو اتنی منظم اور متوازن ہے، اس کا وجود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے


دوسری آیت: مَا اتّخذ اللہ مِنْ ولد وما كان معه من إِلَٰهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ

(المؤمنون: 91)

اللہ نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے اور جھگڑا ہو جاتا پھر ممکن تھا کہ دنیا کا نظام درہم برہم ہو گیا ہوتا اس معلوم ہوتا ہے کہ خدا صرف ایک ہے..


سوال سوم کیا عقل بھی وحدانیتِ خدا کو مانتی ہے؟


جی ہاں عقل کا تقاضہ ہے کہ اس کائنات کا ایک ہی مرکزِ اختیار ہو

جیسے ایک ملک میں اگر دو بادشاہ ہوں تو وہاں خانہ جنگی ہوگی

ایک فوج میں دو سپہ سالار ہوں تو فوج بکھر جائے گی...

ایک جسم میں دو دماغ حکم دیں تو جسم فالج زدہ ہو جائے۔

تو پھر اتنی بڑی کائنات دو خداؤں سے کیسے چل سکتی ہے؟


حاصلِ کلام عقل، سائنس اور قرآن سب مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اللہ واحد ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔


جیسا کہ سورۃ الاخلاص میں فرمایا گیا:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ...


✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️