اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو نہایت اہم فریضہ قرار دیا ہے، اور ان کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو” (سورۃ الاسراء)۔
والدین کی نافرمانی دنیا میں بھی انسان کے لیے تباہی کا سبب بنتی ہے۔ نافرمان اولاد کی زندگی سے سکون اٹھا لیا جاتا ہے، رزق میں تنگی آ جاتی ہے، اور بے برکتی عام ہو جاتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“والدین کی نافرمانی کرنے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی”۔
دنیا میں ایسے لوگ ذلت، پریشانی اور ناکامی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے گھر میں جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اور اولاد بھی نافرمان ہو جاتی ہے، کیونکہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
آخرت میں والدین کی نافرمانی کی سزا اور بھی سخت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین لوگوں کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرمائے گا، ان میں ایک والدین کا نافرمان ہے”۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ والدین کی نافرمانی جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔ ایسے شخص پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہو سکتی ہے، جب تک وہ توبہ نہ کر لے اور والدین کو راضی نہ کر لے۔
قرآن مجید میں والدین کو “اُف” تک کہنے سے منع کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ معمولی سی بدتمیزی بھی اللہ کو ناراض کر دیتی ہے۔ جو شخص والدین کو رلاتا ہے وہ درحقیقت اپنے لیے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی خدمت کرنے، ان کی بات ماننے اور ان کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے، اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔ آمین۔

مفتی صادق امین قاسمی