جہنمیوں کی فریاد
13 جنوری، 2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں لوگوں کی خواہشیں اور فریادیں ہوتی ہیں، اسی طرح جہنمیوں کی بھی فریادیں ہوں گی۔ جی ہاں! جہنم میں جہنمی بھی اللہ تعالیٰ اور داروغہ جہنم سے فریاد کریں گے۔ آئیں! قرآن و حدیث کی روشنی میں ان فریادوں کو جانتے ہیں۔ رب تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
”قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ۔ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ۔ قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ“
(سورہ مومنون: آیت نمبر 106، 107، 108)
ترجمہ کنزالایمان: ”کہیں گے اے رب ہمارے ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں۔ رب فرمائے گا دُتکارے پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔“
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ کا فرمان ہے:
”حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ حضرت مالک علیہ السلام کو پکار کر کہیں گے اے مالک! تیرا رب (ہمیں موت دے کر) ہمارا کام پورا کر دے۔ حضرت مالک علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ تم جہنم ہی میں پڑے رہو گے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کریں گے، پکاریں گے اور کہیں گے ’’اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔ اُنہیں جواب دیا جائے گا کہ دھتکارے ہوئے جہنم میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ اب اُن کی امیدیں منقطع ہو جائیں گی اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۔“
ایک اور حدیث شریف میں ہے: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ حضرت مالک علیہ السلام کو پکاریں گے تو وہ چالیس برس تک انہیں جواب نہ دیں گے، اس کے بعد وہ کہیں گے کہ تم جہنم ہی میں پڑے رہو گے۔ پھر وہ کہیں گے’’اے ہمارے رب! ہمیں دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔ اور انہیں دنیا سے دگنی عمر تک جواب نہ دیا جائے گا۔“
اور دنیا کی عمر کتنی ہے اس بارے میں کئی قول ہیں۔ ’’بعض نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے، بعض نے کہا بارہ ہزار برس اور بعض نے کہا کہ تین لاکھ ساٹھ برس ہے۔
(تفسیر صراط الجنان: جلد:6، ص:567)
قارئین کرام! یہ آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہیں؛ بل کہ ان سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ آج ہمارا جسم بھی صحیح و سالم ہے اور عقل و شعور سلامت ہے۔ ہم یہ بخوبی سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا صحیح اور کیا غلط ہے؟ پھر بھی ہم غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔
خدارا اپنی زندگی کو غنیمت جانیں اور آج؛ بل کہ ابھی سے رب تبارک و تعالیٰ اور اس کے حبیب حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں لگ جائیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی فریاد کرنے والوں میں شمار ہو جائیں۔
یا الٰہی! ہمیں عقل سلیم اور قلب سلیم عطا فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
از- بنت اسلم برکاتی
23 رجب المرجب 1447
13 جنوری 2026، بروز منگل صبح