مجھے پڑھو، میں کون ہوں
مضمون (70) بسم اللہ الرحمن الرحیم. _
مجھے پڑھو-میں
کوئی نعرہ نہیں، کوئی الزام نہیں، کوئی وقتی شور نہیں ہوں۔ میں اس دھرتی کی صدا ہوں جسے بھارت کہتے ہیں۔ میں اس مٹی کی خوشبو ہوں جس میں صدیوں سے رنگ،
زبانیں، عقیدے اور تہذیبیں ایک دوسرے میں گھل کر انسانیت کی پہچان بنی ہیں۔
مجھے پڑھنے کے لیے تعصب کی نہیں، انصاف کی نظر چاہیے. کیونکہ میں سوال نہیں، ایک زندہ حقیقت ہوں۔
میں اس عظیم مہان بھارت کا باسی ہوں جہاں بھائی چارگی ایک وقت میں محض تصور نہیں، جیتی جاگتی حقیقت تھی۔
یہ وہ سرزمین ہے جس کی گود میں تاج محل جیسی محبت کی علامت ہے، جہاں لال قلعہ تاریخ کی پکار ہے،
جہاں قطب مینار بلندیِ فکر کی نشانی ہے۔ یہی وہ ؛سونے کی چڑیا؛ تھی جس پر جب انگریزوں نے ناپاک قبضہ کیا تو اس دھرتی کے ہر مذہب، ہر قوم اور ہر طبقے کے معزز سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسے آزاد کرایا۔
یہ آزادی کسی ایک مذہب کی جاگیر نہیں، سب کی مشترکہ قربانیوں کا ثمر ہے۔
اسی لیے آزادی کے بعد بھارت کی اصل شناخت یہ بنی کہ یہاں بلا تفریق مذہب و قوم لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔
دیوالی ہو یا عید. مسکراہٹ سب کی ہوتی تھی۔ اختلاف کے باوجود احترام تھا، تنوع کے باوجود اتحاد تھا۔ یہی ہماری طاقت تھی، یہی ہماری پہچان تھی—اور یہی دشمن کو للچائی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہ ہونے دیتی تھی۔
مگر آج دل یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے:
ہائے افسوس! ہمارے اس گنگا جمنی خوبصورت بھائی چارگی کو آخر کس کی نظر لگ گئی؟
آج ہم اپنے ہی وطن میں خوف اور بےیقینی محسوس کرتے ہیں۔ آج ہمارے مذہبی تشخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم پر غداری کے لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں، ہماری شریعت میں مداخلت کی جاتی ہے، ہمارے گھروں پر بلڈوزر چلتے ہیں، ہمیں ہجوم کے ہاتھوں مارا جاتا ہے،
اور میڈیا کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک جذباتی شکوہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ قومی سوال ہے۔ کیونکہ بھارت صرف زمین کا ٹکڑا نہیں-یہ ایک عہد ہے:
آئین کا عہد، انصاف کا عہد، مساوات اور آزادی کا عہد۔ ہم مطالبہ نہیں، آئین کی یاد دہانی کراتے ہیں۔
ہم بغاوت نہیں، برابری چاہتے ہیں۔ ہم علیحدگی نہیں، شمولیت کا حق مانگتے ہیں۔ کیونکہ جو قوم اپنے ہی شہریوں کو شک کی بنیاد پر بانٹ دے، وہ دشمن کی محتاج نہیں رہتی-وہ خود اپنے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مسلمان اس ملک میں مہمان نہیں، شریکِ سفر ہیں۔
ہماری مساجد، ہماری زبان، ہماری تہذیب—اسی مٹی میں پلی بڑھی ہیں۔ فوج میں ہماری قربانیاں ہوں یا کھیتوں میں ہماری محنت، عدالتوں میں ہماری خدمات ہوں یا تعلیمی میدان میں ہماری کاوشیں- ہر جگہ ہمارا وجود بھارت کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔
ہمیں دیوار سے لگایا جا سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں خاموش کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، مگر ہماری سچائی گونگی نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو نفرت نہیں، تاریخ پڑھائیں گے؛
انتقام نہیں، انصاف سکھائیں گے؛ اور تلوار نہیں، دلیل تھمائیں گے۔
اسی تاریخ اور اسی آئینی عہد کے سائے میں ہم آج یہ اعلان کرتے ہیں:
ہم غدار نہیں ہیں۔
یہ وطن ہمارا تھا، ہمارا ہے، اور ہمارا ہی رہے گا۔
ہم اپنے شہیدوں کے نقشِ قدم چومتے ہیں،
اور آج بھی وقت پڑا تو اسی دھرتی کے لیے خون کا نذرانہ پیش کریں گے۔
نہ ہم کسی بیرونی دشمن کو برداشت کریں گے
اور نہ کسی اندرونی نفرتی فرقہ پرست کو جو ہمیں آپس میں لڑانا چاہے۔
سن : اے مادرِ وطن!
تو گواہ رہ-ہم تجھ سے ہیں اور تو ہم سے ہے۔
کوئی ماں اپنے لختِ جگر کو خود سے جدا نہیں کرتی، اور ہم بھی تجھ سے جدا نہیں ہو سکتے۔
ہم خاموش ضرور ہیں، مگر بےحس نہیں۔
ہم زخمی ضرور ہیں، مگر شکستہ نہیں۔
ہم اقلیت ضرور ہیں، مگر کمزور نہیں۔
مجھے پڑھو، مجھے پہچانو-
میں نفرت کے خلاف محبت کا نام ہوں،
میں تقسیم کے خلاف اتحاد کی آواز ہوں،
میں اسی بھارت کی روح ہوں جو سب کا تھا، سب کا ہے، اور سب کا رہے گا۔
ہم بھارت ہیں. اور بھارت ہم سے ہے۔
                اے اللہ!
اس وطن کو امن، انصاف اور باہمی احترام کا گہوارہ بنا۔
دلوں سے نفرت مٹا، سچ اور حکمت کی روشنی عطا فرما۔
ہمیں انسانیت کے رشتے میں جوڑ دے
اور ہماری آنے والی نسلوں کو خوف نہیں، امید عطا کر۔ آمین یا رب العالمین۔
  بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com