رجب کے کونڈے ایک تحقیقی مطالعہ

خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برِّصغیر کے مذہبی ماحول میں بعض رسوم ایسی ہیں جو عبادت کے لباس میں جلوہ گر ہو کر عقیدت مند دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں مگر جب ان کی حقیقت کو کتاب و سنت، تاریخ اور عقلِ سلیم کے آئینے میں دیکھا جائے تو وہ صرف اور صرف جذباتی وابستگی اور فکری غفلت کا شاخسانہ ثابت ہوتی ہیں۔۔۔۔
رجب کے کونڈے بھی اسی قبیل کی ایک رسم ہیں جو اہلِ سنت والجماعت کے نام پر رائج ضرور ہو گئی مگر نہ اس کی کوئی شرعی اصل ہے، نہ تاریخی بنیاد اور نہ ہی اس کی نسبت کسی معتبر دینی شخصیت سے ثابت ہے۔۔۔۔
تحقیق کا پہلا اصول یہ ہے کہ جس عمل کو دین کا حصہ سمجھا جائے اس کے لیے دلیل طلب کی جائے اور یہاں دلیل کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ قرآن میں، نہ صحیح احادیث میں، نہ صحابۂ کرام کے آثار میں، نہ تابعین و تبع تابعین کے ہاں اور نہ ہی ائمۂ اربعہ یا محدثین کے ذخیرۂ علم میں رجب کے کونڈوں نامی کسی عبادت، نیاز یا تقریب کا کوئی وجود ملتا ہے بلکہ یہ رسم صدیوں بعد عوامی سطح پر ابھری اور پھر آہستہ آہستہ تقدس کے غلاف میں لپیٹ دی گئی۔
عام طور پر اس رسم کو بائیسویں رجب کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے اور حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے مگر تاریخ پوری قوت کے ساتھ اس دعوے کو رد کرتی ہے کیونکہ نہ بائیسویں رجب حضرت جعفر صادق کی تاریخِ پیدائش ہے اور نہ تاریخِ وفات۔ معتبر تاریخی اقوال کے مطابق آپ کی ولادت یا تو ٨٠ھ یا ٨٣ھ میں ٨ رمضان المبارک کو ہوئی اور وفات شوال ١٤٨ھ میں ہوئی تو پھر سوال یہ ہے کہ بائیسویں رجب کی تخصیص آخر کس بنیاد پر کی گئی؟ اور اس تاریخ کا حضرت جعفر صادق سے کیا شرعی یا تاریخی تعلق ہے؟ اس سوال کا کوئی علمی جواب آج تک پیش نہیں کیا جا سکا۔۔۔۔
یہاں آ کر ایک اور نہایت سنگین پہلو سامنے آتا ہے جسے نظر انداز کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے اور وہ یہ کہ بائیسویں رجب دراصل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخِ وفات ہے جیسا کہ معتبر تاریخی مصادر میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے بالخصوص تاریخِ طبرانی جلد 5 صفحہ 323 میں وفاتِ معاویہ کے تذکرے کے تحت اس تاریخ کا ذکر ملتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اہلِ علم کو اس رسم کی اصل غرض و غایت پر غور کرنے پر مجبور کیا۔۔۔
اہلِ تحقیق کے نزدیک قرائن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ رسم ابتداء میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی کے اظہار کے طور پر ایجاد کی گئی مگر چونکہ اس وقت اہلِ سنت والجماعت کا غلبہ تھا اس لیے اس خوشی کا علانیہ اظہار ممکن نہ تھا چنانچہ حکمتِ عملی کے تحت شیرینی کو بطورِ حصہ کھلے عام تقسیم کرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر وہیں کھانے کا اہتمام کیا گیا تاکہ نہ راز فاش ہو اور نہ مقصد ظاہر ہو پھر جب اس عمل کا چرچا بڑھا تو اسے حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کر دیا گیا اور یہاں تک کہہ دیا گیا کہ معاذ اللہ خود امام موصوف نے اسی تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیا تھا حالانکہ یہ بات نہ صرف بے اصل ہے بلکہ حضرت جعفر صادق جیسے جلیل القدر محدث اور فقیہ کی شان کے سراسر خلاف ہے۔۔۔۔۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ایصالِ ثواب، صدقہ اور کھانا کھلانا بذاتِ خود نیکی ہے مگر نیکی اس وقت بدعت میں بدل جاتی ہے جب اسے کسی خاص تاریخ، خاص مہینے، خاص طریقے اور خاص عقیدے کے ساتھ لازم کر دیا جائے۔ عبادت میں تقیید صرف شارع کا حق ہے۔ بندے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی طرف سے عبادت کی ہیئت متعین کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے اکابر علماء نے واضح الفاظ میں رجب کے کونڈوں، نیازِ رجب اور اس نوع کی تمام مخصوص رسومات کو بدعتِ ممنوعہ قرار دیا ہے۔۔۔۔
اصل خطرہ اس رسم کے کھانوں میں نہیں بلکہ اس ذہنیت میں ہے جو دین کو دلیل کے بجائے روایت، تحقیق کے بجائے کہانی اور اتباع کے بجائے جذبات پر قائم کرتی ہے۔ رجب کے کونڈے دراصل اس فکری انحراف کی علامت ہیں جس میں ہم نے دین کو عوامی رواج کے حوالے کر دیا ہے حالانکہ دین کا حسن یہی ہے کہ وہ سوال مانگتا ہے، سند چاہتا ہے اور اندھی تقلید کو قبول نہیں کرتا۔۔۔۔
لہٰذا برادرانِ اہلِ سنت والجماعت پر لازم ہے کہ وہ اس رسم سے مکمل اجتناب کریں۔ نہ خود اس کو بجا لائیں، نہ اس میں شرکت کریں اور نہ ہی اس کو نیکی یا ثواب کے عنوان سے فروغ دیں۔ محبت اہلِ بیت سے ہو مگر سچ کے ساتھ، عقیدت ہو مگر علم کے ساتھ اور دین ہو مگر صرف اسی شکل میں جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا کیونکہ اضافے بھی دین کو اتنا ہی نقصان پہنچاتے ہیں جتنا انکار اور بدعت بظاہر عبادت ہو کر بھی باطن میں دین کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔