کس سے کہیں ؟ کیسے کہیں ؟ کیا کہیں ؟ خود ہمیں اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے ، اپنے آپ کو کچھ کہنے کے قابل بنانے کی ضرورت ہے ، ہم بڑے بے فکر ہیں ، ہر وقت خوش ہیں ، الحمد للّٰه پریشانیوں سے دوری کے مراحل پر ہیں ،دماغ کی کیفیت بہت خوب ہے ، دست و بازو میں قوت بھی کمال کی ہے ، پیروں سے چلنے میں معمولی پریشانی بھی نہیں ہوتی ، غرض سارے اعضاء میں مناسب اور ضروری توازن برقرار ہے، ہم موڈرن لوگ ہیں ، ہم بلا وجہ لوگوں کے درد کو دیر تک سیریس نہیں لیتے ، ہمیں کسی کی تکالیف سے کیا واسطہ ، ہم الحمد للّٰه ہر طرح کے مصائب و آلام سے محفوظ ہیں ، ہمارے پاس دوسروں پر گزرے قیامت خیز ہولناک مناظر سے باخبر رہنے کے لۓ وقت نہیں ہے ، ہم کسی کی آہوں کو سن کر اپنا سکون برباد کرنا نہیں چاہتے ، ہم پر کسی کی موت و حیات کا کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہم دوسروں کی خاطر کہاں تک اپنی محبوب و مرغوب مشروب کا بائیکاٹ کریں ، کیوں دوسروں کے لۓ اپنی من پسند چیزوں کے استعمال کو ترک کریں ، دیکھو ہمیں تو کوک اور پیپسی پینے سے لطف ملتا ہے ، اب چاہے کسی کو خوشی ہو یا غمی ، کسی کو تقویت ملے یا کسی کی جان جاۓ ، کوئی اس سے بارود بناۓ یا کسی کا قتل ہو ، دیکھو یہ نعرے ہمیں مت سناؤ کہ "یہ چیزیں استعمال کرو اور ان کا بائیکاٹ کرو" صاحب ہم کسی کے لیے اپنا چین و سکون غارت نہیں کر سکتے ، اور ہاں سن لو ! اگر تمہارے وہم و خیال میں یہ ہو کہ ہم تمہاری جنگی مدد کریں گے تو یہ تو تصور بھی مت کرنا ، کیوں کہ ہمیں جان بے حد عزیز ہے ، جان سے پیار ہے ، جان ہماری معشوقہ ہے ، اسے ہم کسی کی خاطر کسی بھی حال میں ضائع نہیں کر سکتے۔

      ارے بھائی کہاں جان تک پہنچ گئے ، ہم تو کسی کی ایک لمحہ کی مصیبت بھی برداشت نہیں کر سکتے ، شکر مناؤ کہ قنوتِ نازلہ بھی شروع شروع میں چند دن ہم نے پڑھ لی تھی ،  ورنہ ہماری بھی تو کچھ مصروفیات ہیں ، ہمیں بھی تو کچھ کام پیش ہوتے ہیں ، ہمارے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ دوسروں کی تکالیف کا بوجھ اپنے سر لیں ، ہم سے یہ امیدیں مت رکھنا کہ ہم تمہارے لۓ کچھ کریں گے ، ہمیں اپنے کام بہت ہیں ، یہ بائیکاٹ کی باتیں ہم سے نہ کرو ، ہماری بھی کچھ خواہشیں ہیں ، کچھ آرزؤویں ہیں ، کچھ تمنائیں ہیں ، ہم تمہاری خاطر بھلا کہاں تک اپنی خواہشوں کو ترک کریں۔

ہاں اتنا تو ہم کر سکتے ہیں کہ دعا میں اگر یاد رہے تو زبان سے دو لفظ تمہارے لۓ بھی کہ دیں اور بس 

اور ہاں ہم چوں کہ تمہارے لۓ دعا تو کر رہے ہیں اس لۓ دربارِ عالی میں حاضری کے وقت ہماری شکایت مت کر دینا کہ ایک ایک دن میں غزہ کے معصوم سینکڑے سے بھی زائد تعداد میں شہادت کے درجہ پر فائز ہو رہے تھے اور ہم (امتِ مسلمہ) تماشائی بنی ہوئی تھے۔


غزہ کا مجرم : عبد اللّٰه یوسف

متعلم مظاہر علوم وقف سہارنپور