٭٭٭﴿علم تاریخ کی اہمیت ﴾٭٭٭

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

 تاریخ ایک ایسا فن ہے جس کی وضاحت اور اہمیت اشارۃ وکنایۃ قرآن کریم سے ثابت ہے ،
قرآن کریم نے اس کی طرف بارہا توجہ دلائی ہے،
ارشاد خداوندی ہے!
 "قل سیرو فی الأرض فأنظرو کیف کان عاقبۃ المجرمین ،،
آپ فرمادیں کہ تم چلو زمین پر دیکھو کہ مجرمین کا انجام کیا ہوا 
"لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الباب،،
بالتحقیق ان کے قصوں میں نصیحت ہےباشعور لوگوں کےلیے
اور قرآن میں سابقہ قوم یعنی قوم عاد قوم ثمود کی طاقت فن تعمیر کی تعریف ذکر کی گئی ہے-
اسی طرح اہل عرب کے طرز گفتگو اور طرز حیات کا نقشہ کشید کیا ہے،
 یہ ایسی چیزیں ہےجو قرآن میں موجود ہے ،قرآن سےہمیں سابقہ قوم کےحالات معلوم ہوتےہیں-
قابل ذکر ہےیہ بات کہ اسلام سےقبل تاریخ لکھنے کا عامۃ کوئی رواج نہیں تھا ،اسلام نے قرآن میں تاریخی باتیں بشکل واقعات وقصص بطور نصیحت ذکر کی ہیں ،قرآن گرچہ تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ اس کا مقصد انسان کی ہدایت ہے لہذا وہ تاریخ سےاسی انداز میں بحث کرتاہے جس سے لوگ راہ یاب ہوجاۓ اور بندے کا تعلق اللہ سے استوار ہوجاۓ، مگرقرآن کریم سے فن تاریخ کاثبوت ملتا ہے-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نوشتۂ تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے بلکہ خود آحادیث میں گزشتہ قوموں کے حالات وواقعات مذکور ہے،ا نکے بیان کا مقصد بھی وہی ہے جوقرآن کا ہے یعنی عبرت ونصیحت، 
صحابۂ کرام نے حضور ؐکے اقوال وافعال اور اس مبارک دور کے تاریخی واقعات و غزوات اور دیگرحالات اسی لیے قلمبند کیا تاکہ آئندہ نسلیں اس سے نور ہدایت حاصل کریں-
سیرت اور صحابۂ کرام کے دور کے حالات کا بڑا ذخیرہ حدیث کی کتابوں سے ملتاہے حدیث بھی تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ اس میں تاریخ ضمنا شامل ہے،حدیث کے ذخیرے میں تاریخی واقعات کی موجود گی یہ دال ہے علم تاریخ کی اہمیت پہ اور یہ ثبوت ہے اس بات پر کہ علم تاریخ کی اہمیت حضور ؐصحابہ کرام اورخیر القرون کے اصحاب ودانش کے نزدیک مسلم تھی
تاریخ کے فوائد : 
مطالعۂ تاریخ کے بے شمار فوائد ہیں ،تاریخ سے ہمیں حالات کی بصیرت حاصل ہوتی ہے،کسی در پیش واقعے کا صحیح تجزیہ کرنے اور کسی تازہ صورت حال میں درست فیصلہ کرنے کے قابل بنادیتی ہے کیونکہ تاریخ داں گذشتہ حالات سے واقف ہوتاہے اسے کوئی مسئلہ مشکل معلوم نہیں ہوتابلکہ وہ یہ سمجھتاہے جس طریقہ سےپہلے حالات آۓ اور پھر وہ دور ہوگیے اسی طرح یہ بھی دور ہوجائیں گے،تاریک چھٹے گی اور اجالا ہوگا رات معدوم ہو
گی تو دن کا وجود ہوگا،تاریخ داں اگرقائد بن جاۓ وہ اپنی قوم کی صحیح ترجمانی کرسکتا ہے،جو قوم اپنی تاریخ سے آگاہ وآشناہوتی ہے اور وہ جلد ترقی پذیر ہوتی ہے اسکی فہم وفراست بلند ہوتی ہے منفی پہلو سے سبق حاصل کر کے مثبت پہلو کو اختیار کرتی ہےاور یہی قوم ایک نئی تاریخ رقم کرتی ہے، 
ہمارا المیہ:
 تاریخ سے واقفیت ایک زندہ اور باضمیر قوم کی نشانی ہے ،آج امت مسلمہ کے بیشتر افراد تاریخ سے نابلد وناواقف ہے،انہیں اپنے سابقہ لوگوں کے حالات کارنامے نہیں معلوم جس کی وجہ سے آج ہماری قوم بزدل کم ہمت موت سے خائف ہے اور ذلت و پستی کے قعر مذلت میں گررہی ہے،اور کوئی بھی اس کا پرسان حال نہیں -
اللہ امت مسلمہ کو شعور وبیدار فرماۓ 
آمین