•••{تذکرۂ سخن ور }•••
سابق جج وشاعر جناب زبیر الحسن کے نام
گل رضاراہی ارریاوی
گرچھڑ جاۓ ماضی کا کوئی فسانہ
مل جاۓ گا ہمیں بھی اشکباری کا بہانہ
ارمغان دل:
✍🏻ضلع ارریہ سے مغرب میں بارہ کلو میٹر کےفاصلے پرواقع میرا گاؤں آباد ہے -
یہ گاؤں ایک تعلیمی و ثقافتی لحاظ سےمعرف ومشہور ہے،یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں ،اس گاؤں کا نام کملداہا ہے-
وجہ تسمیہ :
شنید کہ اس گاؤں میں کمل کا پھول وافر مقدار میں پایا جاتاتھا بربناۓ ایں اس کا نام کملداہا پڑگیا-
بہرحال یہ ایک سنی ہوئی بات ہے،شنیدہ بود کہ مانند دیدہ،حقیقت حال کا علم نہیں- واللہ اعلم باالصواب
میرا گاؤں جاگیرداری اور سرداری سے جاناجاتاہے،یہا ں سرمایہ دار لوگوں کی کمی نہیں ہے،یہ گاؤں قدیم زمانہ سے شاد و آبادہے،اسکی سند یہاں چند قدیم وپرشکوہ عمارات سے لگایا جاسکتاہے
اس گاؤں میں تعلیم و تربیت سے آراستہ لوگ رہتے ہیں ،دینی ودنیوی دونوں طرح کی تعلیم سیکھتے ہیں اورپھر اسی میدان اپنی سنہری خدمات انجام دیتے ہیں-
یہ گاؤں جہاں زمینی لحاظ سے زر خیز ہے اسی طرح تعلیمی لحاظ سے بھی زر خیزی پائی جاتی ہے ،جس طریقہ سے یہاں کی زمیں وباغات کھیت کھلیان میں ہریالی ہے، عین اسی طرح لوگوں کے دلوں میں بھی باہمی ہریالی ہے-
یہاں کامحبت وپیار ،اتحاد اتفاق اورافکار وخیالات کی ہم آہنگی مثال اور نمونہ ہے
یہاں کے لوگوں نےتعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دی ہیں -
انہیں نامور شخصیات میں ایک نام جس کے تذکرہ کا آج شرف حاصل ہورہاہے سابق مجسٹریٹ جناب زبیر الحسن غافل صاحب کی شخصیت ہےہیں -
جن کی وجہ سے گاؤں کی شہرت اور اس کی ترقی میں خاطر خواہ اضافہ ہواہے
ولادت:
محترم موصوف 7 جنوری 1944 میں حیات مستعار کےلیے چشم کشا ہوے،یہ وہ وقت جب انہوں نے آہ وزرای کی تو اہل خانہ بلکہ پورا اسرہ اوراہل علاقہ خوشی کا اظہار کیا، مبارک باد یوں کی روح پرور گونج علاقے میں پھیل گئی ،گویا ایک پھول کھل گیا جس کی عطر ومہک پورےچمن میں پھیل گئی -
تعلیم و تربیت :
ابتدائی تعلیم علاقہ اور مضافات علاقہ میں اپنے والد کی زیر تربیت رہ کر حاصل کی، وہیں سے کچھ بننے کا خواب اجاگر ہوا،مقصد اصلی کا عزم مصمم کیا، بڑی کدو کاوش اور محنت سے ہدف میں لگے رہے، علاقہ سے تعلیم مکمل کر لینے کے بعد متوسطات واعلی تعلیم کے لیے 1966 میں پورنیہ کالج کا رخ کیا،پورنیہ کالج سے بی ایس سی اور پٹنہ یونیورسٹی سے 1968 ایل ایل بی کا ا متحان جانفشانی وعرق ریزی سے پاس کیا،اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک مثالی شخصیت بن گئے-
خدمات:
تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے آبائی شہر ارریہ میں 1969 میں وکالت شروع کردی،کچھ سالوں کے بعد وہ جج منتخب ہوگیے،اور مختلف مقامات پر انہوں نے خلوص وللہیت سے اپنی خدمات انجام دیں,2004 میں اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد لوک عدالت میں بھی جج رہے ،وہ اپنے فیصلے میں عدل وانصاف کو ملحوظ رکھتے تھے ،وہ علو وبرتری سے فروکش ہوکر آئین ہند اور مساوات کے پیش نظر فیصلہ دیا کرتے تھے-
یہی وجہ ہیکہ وہ اپنی اصابت راۓ اور فیصلے میں معروف ومشہور تھے،
موصوف محترم جہاں دنیوی تعلیم اوردیگر زبان کے مالک تھے، وہیں ادرو زبان کے بھی مالک وشہسوار تھے، وہ اس میدان میں ایک شاعرکی حیثیت سے جانے تھے ،طنز ومزاح کے شاعر تھے،آنجناب محفل مشاعرہ کی زینت ہواکرتے تھے،اہل ادب اور سخنوروں میں ان کانام بڑے ہی ادب و احترام سے لیاجاتا ہے،2006 میں ان کی پہلی کتاب ٫٫اجنبی شہر،، شائع ہوئی جو جلدہی عوام وخواص میں مقبول ہوگئی-
واضح ہوکہ ان کے والد ظہور الحسن بھی ایک شاعر تھے ان کی بھی ایک کتا ب صحرا بھی سمندر شائع شدہ ہے اورعوام و خواص میں کافی مقبول ہے
اولاد کی تربیت :
اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنی اولادوں کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اپنی اولاد کو کامیاب اور بہتر انسان بنانے میں پوری قوت وتوانائی صرف کردی ،
انکے پانچ فرزند اور ایک دختر ہیں-مگر تیسرے فرزند اب نہ رہے،یکے بعد دیگرے ان شاءاللہ تعارف ذکر کریں گے
1:بڑے پسرکانام ارشد حسن صاحب ہے جو ماشاءاللہ سے پروفیسر ہیں ،اور اسکول میں اپنی تعلیم وتعلم کی خدمت کی انجام دے رہے ہیں-
دوسرے فرزند جناب اسلم حسن صاحب ہیں جو انکم ٹیکس کمشنرہیں،اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے،ساتھ ہی ساتھ طنز ومزاح کے بہترین شاعر بھی ہیں ،ملک کے مشاعروں میں رونق محفل ہوتے ہیں،جناب اسلم حسن صاحب نے ہی اپنے والد کے زیر سرپرستی اپنےوطن مالوف کملداہا میں 2012 کے اندر آل انڈیا مشاعرہ کاعظیم الشان محفل کا انعقاد کیاتھا
جس میں ملک کے بڑے بڑےمایہ ناز شعراء وسخن داں قدم رنجاں ہوۓ ،جس کا بعد میں قرب وجوار کے علاقے میں تعلیم کے لحاظ سے خاصا اثر پڑا-
گرچہ راقم اس وقت نادان تھا اور میلہ اور بازار کی زینت بناہواتھا،
مگر اس وقت بھی میرے دل اس کی خاص اہمیت تھی،اور آج الحمدللہ راقم بھی اس راہ کا نوزائیدہ مسافر ہے-
اورانکےتیسرے فرزند جناب اشرف حسن صاحب ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد شہر میں اپنی ضروری امور مصروف رہتے ہیں
چوتھے فرزند جناب اشعر حسن صاحب مرحوم جوکہ کم سن میں ہی (غا لباچودہ یا پندرہ بہاریں دیکھ کر)اللہ کو پیارے ہوگیے،اللہ انکو اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے آمین -
چوتھے فرزند احمر حسن ہیں یہ تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ،بہت محنت سے اس میں لگے ہوۓ ہیں، ابھی ماضی قریب میں انہوں نے بی پی ایس سی کا امتحان دیا جس میں بفضل اللہ وعونہ اعلی نمبرات سے کامیاب ہوۓ ،
اللہ انہیں مزید ترقیات سے نوازے
اوصاف وعادات:
جناب زبیر الحسن صاحب اپنی عادت وخصلت میں نمایاں تھے،عدل وانصاف،رعایت حقوق،صدق بیانی ،توضع وانکساری ،خوش رو ،خوب پوش ،نیک طبیعت ،خوش گفتار وخوش اخلاق،وعمدہ کردار،مسکراتا چہرہ،ملنسار کے پیکر تھے، سخاوت و فیاضی کا عملی نمونہ تھےگویاکہ وہ تمام خوبیاں جو انسان کو نیک بناتی ہے وہ سب ان میں ںدرجۂ اتم موجود تھی-
دنیا کےعرش پہ ہوتے بھی فرش والےکو نہ بھولے ،
میرے مشاہدے میں وہ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص تھے،اگر کسی کو انکے رحلت کے بعد زبیر الحسن کی تصویر وعکس دیکھنا ہو وہ انکے فرزند ارجمند کو دیکھ لے،بہترین تربیت کا ثمرہ ہے جوآج اپنے والد کے منشا کو پورا کرنے میں مصروف العمل ہیں،اسی کے مناسبت سے جناب اسلم حسن صاحب نے اپنے والد گرامی کا شعری مجموعہ مرتب کرکے بنام دریچے کی دھوپ شائع کیا،جلد ادبی حلقوں قبول ہاتھوں لیا جاۓ گا
اللہ قبول فرمائے آمین
وفات :
جناب زبیر الحسن صاحب اپنی زندگی کی77سال پورے کرنےسے پہلےعارضۂ قلب کاشکار ہوگیے تھے جس کی پیوند کاری بھی کی گئی تھی ،وفات سے کئی ماہ پہلے سے صاحب فراش تھے،مگر قضاۓ الٰہی آپہونچا اور 26جنوری 2021کو پٹنہ کے اسپتال میں جان جاں آفریں کردی ،ہمیشہ کیلیے کملداہا کے باشندگان کو الوداع کہہ گیے، کملداہاکے قدیم مسجد باڑی قبرستان میں آسودۂ خواب ہوگیے-
جناب زبیر الحسن صاحب کانام آج ادب احترام لیا جاتاہے ،انکے تذکرے کوسن کر خو عزت واحترام کے جذبات مچل جاتے ہیں ـ
آج پورا علاقہ انکی اوصاف وکمالات اور صلاحیت کا قائل معترف ہے-
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ،حسنات کو قبول فرمائے ،سیئات سے در گزر فرمائے اور انہیں اور انکے پسرعزیز کو یک ساتھ جنت کا مکین بناۓ آمیں
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
ہم باشندگان کملداہا کو ان کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے