حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز کو جان بوجھ کر چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس پر پندرہ سزائیں مقرر فرماتا ہے۔ چھ دنیا میں، تین موت کے وقت، تین قبر میں اور تین قیامت کے دن۔
دنیا میں چھ سزائیں:
اللہ تعالیٰ اس کی عمر سے برکت اٹھا لیتا ہے۔
اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دی جاتی ہے۔
اس کے ہر عمل پر کوئی اجر نہیں ملتا۔
اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔
نیک لوگوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
وہ نیک بندوں کی دعاؤں سے محروم رہتا ہے۔
موت کے وقت تین سزائیں:
ذلیل ہو کر مرتا ہے۔
بھوکا مرتا ہے۔
پیاسا مرتا ہے، اگرچہ دنیا کے تمام دریا بھی پی لے تب بھی اس کی پیاس نہیں بجھتی۔
قبر میں تین سزائیں:
قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جاتی ہیں۔
قبر میں اس پر آگ بھڑکا دی جاتی ہے۔
ایک اژدھا اس پر مسلط کر دیا جاتا ہے جس کا نام شجاع الاقرع ہے، اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوتے ہیں، وہ ہر نماز کے وقت اس کو مارتا ہے۔
قیامت کے دن تین سزائیں:
اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔
اس کا حساب سخت لیا جائے گا۔
اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کا پابند بنائے اور بے نمازی کے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین
مفتی صادق امین قاسمی