بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ


واقعۂ معراج کی مختصر تفصیل
اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے پُر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا گیا، پھر اُسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اُسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا.

اور پھر بجلی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی ایک سواری یعنی براق لایا گیا جو لمبا سفید رنگ کا چوپایا تھا، اس کاقد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاںتک اس کی نظر پڑتی تھی۔ 
اس پر سوار کرکے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی، یعنی نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم امام بنے اور سب انبیاء نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ۔

پھر نبی کو آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام ، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام ، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔

 اس کے بعد ’’البیت المعمور‘‘ (یہ کعبہ کے محاذات کے اوپر فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کردیا گیا، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے اللہ کی عبادت کے لیے داخل ہوتے ہیں، جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے۔

 پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے پتے اتنے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان ہوں اور اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے مٹکے ہوں۔ 

جب سدرۃ المنتہیٰ کو اللہ کے حکم سے ڈھانکنے والی چیزوں نے ڈھانک لیا تو اس کا حال بدل گیا، اللہ کی کسی بھی مخلوق میںاتنی طاقت نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کرسکے۔ 

سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ میں چار نہریں نظر آئیں: دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ باطنی دو نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری دو نہریں فرات اور نیل ہیں (فرات عراق میں اور نیل مصر میں ہے)۔
     
واللّٰہ اعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ