کیا اسلام زنا سے زیادہ شرک کو بڑا گناہ کہتا ہے؟ - ایک فکری جواب.
مضمون (68) بسم اللہ الرحمن الرحیم
(عقیدے اور معاشرے کے تناظر میں ایک ناگزیر توضیح)
عصرِ حاضر میں اسلام کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے جو سوالات بار بار اچھالے جا رہے ہیں، ان میں ایک اہم سوال یہ ہے:
“اگر قرآن کے مطابق سب سے بڑا گناہ شرک ہے، تو پھر زنا، خصوصاً ریپ جیسے انسانیت سوز جرائم کا مقام کہاں ہے؟”
معترضین اس سوال کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں گویا اسلام انسانی جان، عزت اور معاشرتی فساد کے مقابلے میں محض عقیدے کو فوقیت دیتا ہے، حالانکہ یہ اعتراض قرآن کے فہم میں بنیادی مغالطہ اور دین کے جامع نظامِ فکر سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
یہ مضمون اسی فکری الجھن کو سلجھانے کے لیے تحریر کیا گیا ہے، تاکہ واضح ہو سکے کہ:
شرک عقیدے کے اعتبار سے سب سے بڑا گناہ کیوں ہے؟
زنا، خصوصاً زنا بالجبر، سماجی و انسانی اعتبار سے شدید ترین جرم کیوں ہے؟
اور اسلام نے ان دونوں کو الگ مگر مربوط دائروں میں کیوں رکھا ہے؟
اوّل: شرک — عقیدے کے اعتبار سے سب سے بڑا گناہ
قرآنِ مجید شرک کو انسانی زندگی کی سب سے بڑی فکری و ایمانی تباہی قرار دیتا ہے، کیونکہ شرک:
اللہ کی ربوبیت، الوہیت اور حاکمیت کا انکار ہے
انسان کے پورے نظامِ فکر کو بگاڑ دیتا ہے
خیر و شر کے معیار کو مسخ کر دیتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ(النساء: 48)
اور ارشاد ہے:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(لقمان: 13)
یہ “عظیم ظلم” اس لیے ہے کہ یہ خالق کے حق پر ڈاکہ ہے، جو انسان کے دل سے جواب دہی، آخرت اور اخلاقی پابندی کے احساس کو ختم کر دیتا ہے۔اگرچہ شرک انسان کے عقیدے کو فاسد کرتا ہے، مگر اس کا دائرہ بنیادی طور پر اعتقاد سے متعلق ہے۔
دوم: زنا - انسانی اور سماجی اعتبار سے شدید ترین جرم
قرآن جہاں شرک کو عقیدے کا سب سے بڑا جرم قرار دیتا ہے، وہیں زنا کو معاشرتی تباہی کی جڑ بتاتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (الاسراء: 32)
اسلام نے انسان کو عزت و کرامت عطا کی: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (بنی اسرائیل: 70)
اسی کرامت کی حفاظت کے لیے نکاح کو مشروع اور زنا کو حرام قرار دیا، اور اس پر حد مقرر فرمائی:
اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ (النور: 2)
زنا محض ایک اخلاقی لغزش نہیں، بلکہ:
خاندان کے نظام پر حملہ. عورت کی عزت و عصمت کی پامالی
نسب کی تباہی. اور معاشرتی اعتماد کا قتل ہے.اسی لیے اسلام نے اسے کبیرہ گناہ قرار دیا اور سخت سزا مقرر کی۔لفظ ؛ عورت؛ پر اعتراض کی وضاحت
اسلام میں عورت کو. عورت؛ یا ؛ نساء ؛ کہنا اسے قید کرنے یا اس کے اختیار کو سلب کرنے کے معنی میں نہیں، بلکہ یہ: اس کی عزت. حرمت. اور قیمتی مقام کی علامت ہے۔ اسلام عورت کو شے نہیں بلکہ امانت سمجھتا ہے، اسی لیے اس کی عصمت کی حفاظت کو پورے معاشرے کی ذمہ داری بنایا۔
سوم: زنا کی دو بنیادی قسمیں
(1) زنا بالرضا
یہ وہ گناہ ہے جس میں فریقین کی رضامندی شامل ہوتی ہے، مگر رضامندی گناہ کو جائز نہیں بناتی۔
اسلام نے اس کے سدِّباب کے لیے:
حیا
اخلاقی تربیت
نکاح کی ترغیب
اور معاشرتی نگرانی کا نظام دیا
قرآن فرماتا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا
(الروم: 21)
اور اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ… تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (آل عمران: 110)
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اگر طاقت رکھتا ہو تو ہاتھ سے روکے، ورنہ زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے. اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
(صحیح مسلم: 49)
(2) زنا بالجبر (ریپ)
یہ محض زنا نہیں بلکہ: ظلم. فساد فی الارض اور حقوقُ العباد کی بدترین پامالی ہے
اس میں عورت کی مرضی سلب ہوتی ہے، اور اس کی روح و جسم دونوں مجروح ہوتے ہیں؛ اسی لیے فقہی اعتبار سے یہ سنگین فوجداری جرم ہے۔
ایک بنیادی فقہی اصول
حقوقُ اللہ: وہ حقوق جو بندے پر اپنے خالق کے ہیں؛ ان کی معافی اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔
حقوقُ العباد: وہ حقوق جو بندوں کے ایک دوسرے پر ہیں؛ ان کی معافی متاثرہ فرد کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔
اصولی بات یہ ہے کہ:
ہر وہ گناہ جو کسی انسان کی جان، عزت یا اختیار کو مجروح کرے، وہ صرف حقوقُ اللہ نہیں رہتا بلکہ حقوقُ العباد بھی بن جاتا ہے، اور اس میں دنیاوی عدل کا تقاضا لازم ہو جاتا ہے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ:
زنا اپنی اصل کے اعتبار سے مطلقاً حقوقُ اللہ میں سے ہے (بالرضا ہو یا بالجبر)
مگر زنا بالجبر میں لفظ جبر کی وجہ سے ایک اضافی پہلو پیدا ہوتا ہے، جس سے یہ ظلم بن جاتا ہے
اسی بنا پر حد اور سزا صرف ظالم پر نافذ ہوگی، مظلوم پر نہیں
چہارم: اگر کوئی ریپ کے بعد اسلام قبول کر لے؟
یہ کہنا کہ اسلام قبول کرنے سے مجرم سزا سے بچ جاتا ہے، شرعاً اور عقلاً غلط ہے۔
اسلام قبول کرنے سے:
کفر کے گناہ مٹتے ہیں
مگر حقوقُ العباد ساقط نہیں ہوتے
شرعی حد کے نفاذ سے دنیاوی سزا پوری ہو جاتی ہے، مگر گناہ کی اصل معافی توبہ، ندامت اور اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔
الحدود تُدرأ بالشبهات، لا بالدعویٰ
(حدود شبہ سے ساقط ہوتی ہیں، دعووں سے نہیں)
قرآن کہتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
(الزمر: 53) - اخروی مغفرت
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ
(البقرہ: 179) - دنیوی عدل
حدود کا مقصد انتقام نہیں بلکہ: فرد کی اصلاح مظلوم کی داد رسی اور معاشرے کا تحفظ ہے
خامس: اخلاقی ترجیح - اگر زنا بالجبر اور شرک ساتھ ہوں.
اگر ایسی صورت ہو کہ زنا بالجبر اور شرک قریب قریب موجود ہوں، تو اسلامی و اخلاقی ترجیح یہی ہے کہ پہلے زنا بالجبر کو روکا جائے، کیونکہ یہاں جان، عزت اور حقوقُ العباد فوری خطرے میں ہیں۔
قرآن فرماتا ہے:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ… وَالْمُسْتَضْعَفِينَ
(النساء: 75)
نبی ﷺ نے فرمایا:
“اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔”
پوچھا گیا: ظالم کی مدد کیسے؟
فرمایا: “اسے ظلم سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے۔ (صحیح البخاری: 2444)
شرک عقیدے کا سب سے بڑا گناہ ہے، مگر چونکہ وہ حقوقِ اللہ سے متعلق ہے، اس لیے اس کی اصلاح بعد میں کی جائے گی؛ انسانیت کا فوری تحفظ مقدم ہے۔
جامع کلام یہ کہ اسلام گناہوں کی درجہ بندی ایک ہی پیمانے سے نہیں کرتا: عقیدے کے اعتبار سے شرک سب سے بڑا گناہ
انسانی و سماجی اعتبار سے زنا، خصوصاً زنا بالجبر، سب سے بڑا جرم
یہ دونوں دائرے الگ ہیں، مگر دونوں میں عدل اور مواخذہ لازم ہے۔
اسلام: عقیدے کی حفاظت بھی کرتا ہے
اور انسان کی عزت کی بھی شرک ایمان کو کھوکھلا کرتا ہے،
اور زنا معاشرے کی روح کو زخمی۔
اسی لیے اسلام دونوں کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہے-
عدل کے ساتھ، حکمت کے ساتھ، اور مکمل انسانی شعور کے ساتھ۔
اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ،
وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔
اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما،
اور ہمارے معاشرے کو ظلم، فحاشی اور فکری گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمین۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com