ہمارے ملک ہندوستان میں جب انگریزوں کا ناپاک قدم پڑا اور انہوں نے اس سرزمین سے دین اسلام کو مٹانے کی انتھک کوشش کی اور مسلمانوں کو دین محمدی سے دور کرنے کوشش کی تو ایسے نازک موقع پر علماء کرام کی ایک جماعت نے ملک کے کونے کونے میں مدارس و مکاتب قائم کرنے کا مشورہ کیا جس کا بنیادی اور اہم مقصد یہ تھا کہ ہماری ائندہ نسلوں میں دین و ایمان باقی رہے اسی کے نتیجے میں سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی اور اج کے اس موجودہ دور میں ہر طرف مدارس کا جال نظر ارہا ہے یہ مدارس دراصل اس مدرسے کی شاخ ہیں جس کے استاد اقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم اور طلبہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے جو صفہ کے نام سے موسوم ہوا چنانچہ آج بھی ان مدارس میں اصحاب صفہ کسی روحانیت پائی جاتی ہے انہی مدارس سے نکلنے والے فضلا اصحاب رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر اطراف عالم میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف عمل نظر آرہے ہیں ان مدارس کے قائم کرنے والوں کو سب سے اہم کامیابی یہ حاصل ہوئی کی ان مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے کبھی ارتداد کا شکار نہیں ہوئے
عصر حاضر میں مدارس کی ضرورت: جیسا کہ ہر شخص کو معلوم ہے کہ عصر حاضر میں ہر طرف ارتداد کی لہریں بہت ہی تیزی سے چل رہی ہیں اور خصوصا نوجوان بچیاں دین اسلام سے مرتد ہو رہی ہیں جس کی سب سے بنیادی وجہ عوام الناس کی دینی تعلیم سے عدم دلچسپی ہے اس لہر کا شکار اکثر وہی لوگ ہو رہے ہیں جو خود کو آزاد خیال تصور کرتے ہیں اور ان مدارس کو بےجا تصرف سمجھتے ہیں یہ بات واضح رہے کہ دینی و اسلامی تعلیم کے اصل مراکز یہ مدارس ہی ہیں لہذا جنہیں بھی اپنے دین کی فکر ہو اسے چاہیے کہ مدارس سے اپنے ربط کو مضبوط کرے اور مدارس میں ہر ممکن امداد فراہم کرے اور جہاں ضرورت ہو وہاں مدارس قائم کرے اور اپنے بچوں کے علاوہ محلے، خاندان اور علاقے کے بچوں کو ان میں داخل کرائے تاکہ لوگوں کے اندر دینی روح بیدار ہو اور ہمارا معاشرہ پرامن اور خوشحال ہو جائے اور عصر حاضر میں اٹھنے والے فتنوں سے بھی محفوظ ہو جائے۔