🖋️{خیر جلیس فی الزمان کتاب}📚
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
مطالعہ کی اہمیت وافادیت سے ہر وہ شخص واقف ہے جو پڑھنے لکھنے کا اک خاص ذوق رکھتے ہیں-
معروف شاعر و ادیب ابوالطیب احمد بن الحسین المتنبی نے اپنے شعر میں کہا
اعز مکان فی الدنیا سرج سابح
وخیر جلیس فی الزمان کتاب
ترجمہ
1:دنیامیں ایک مسافر کے لیے بہترین جگہ گھوڑے کی زین ہے
2: اور زمانے کا سب سے اچھا ہمنشیں اک کتاب ہے-
آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں متنبی جیسا شاعر اب تک دکھنے میں نہیں آیا، اس کے بعد کے شاعر اسی کے خوشہ چیں ہیں ،
آدمی چاہے جس شعبہ کا بھی ہومطالعہ اس کو باکمال بنادیتاہے ،دنیا کے اندر دینی اور دنیوی علوم میں جن حضرات کو درایت اور فنون میں مہارت حاصل ہے وہ تمام لوگ مطالعہ کے شوقین ورسیا ہیں، کیوں کہ اگر ماہر فن ہو اوروہ مطالعہ کا شوقین نہ ہو مہارت تو در کنار وہ اس کے بنیادی واقفیت کو بھی کھودے گا گلستاں کے درس میں استاذ محترم حضرت مولانا نعیم صاحب قاسمی نے فرمایا تھاکہ مال ودولت خرچ کرنے سے کم ہوتاہے مگر علم کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ بذل وتصرف سے بڑھتا ہے،
اسی کے پیش نظر جو اپنے علم میں بلندی چاہتے ہیں یا وہ اپنے علم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو وہ مطالعہ کو تریاق سمجھتے ہیں-
مطالعہ کے شوقین ہر دھرم میں پاۓ جاتے ہیں ،تاریخ میں بے شمار ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو غیر مسلم ہیں مگر یومیہ مطالعہ کامعمول پانچ سو سے چھ سو تک کا ہے ،مطالعہ ایسے لوگوں کے لیے روح کی غذا بن جاتی ہے،مطالعہ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارتاہے،وسعت فہم کو بڑھاتاہے، کج فہمی کو دور کرتاہے،لاعلمی کے عیب کو ختم کردیتاہے، خیالات کو روشن کرتاہے ،مطالعہ جس کا مرض بن جاۓ تو وہ ایسے مرض میں مصروف رہنا ہی باعث خیر سمجھتا ہے، مطالعہ انسان کو نیک بناتا ہے ،فکری صلاحیت کو بلند کرتاہے ،اس کا مقام اہل علم وفن میں نمایاں ہوتا ہے ،مطالعہ کےعادی لوگوں کی تقریر و تحریر ،گفت وشنید میں اک الگ ہی رنگ اور نہج ہوتا ہے،ادبی جملے معنی خیز الفاظ اور دلکش تعبیرات ، گفتگو کےگہرائی و گیرائی دل کو سکون وسرور بخشتاہے،دل باغ باغ ہوجاتاہے-
مطالعہ کے رسیا لوگ ایک جگہ بیٹھ کر بھی پوری دنیا کی سیر کرلیتے ہیں ،حال میں بیٹھ کے ماضی کے احوال و واقعات سے ایسے واقف ہوتے ہیں جیسے ان کے آنکھوں دیکھا حال ہو،ہمارے اکابر و اسلاف میں بھی ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کی زندگی مطالعہ کے بغیر ناقص وادھوری ہے-
تاریخ ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے مطالعہ کو اوڑھنا بچھونا بنایا علی حالہ وہ کتابوں کے صفحات ، لوگوں کے قلب وجگرمیں عظمت واحترام کے ساتھ زندہ وجاویدہے،کتابوں کامطالعہ اور اس کو اپنے گھر کی زینت بنانا بھی گھر کی رونق کو دوبالا کر دیتی ہے،گھر کی الماریاں اور طاق مرتب کتابوں سے مزین وآراستہ ہوں تو وہ گھر نئی نویلی دلہن لگتی ہے جس کی زیبائش سے کیفیت اور حالت یکسر کافور ہوجاتی ہے،اس کےبرعکس جس گھر کی طاقیں اور الماریاں کتابوں سے خالی ہوں اور سامان دلگی کے بے شمار دلکش اشیاء سجے ہوۓ ہوں پھر بھی وہ ویران اور سونا(بضم السین بالمعروف)لگتاہے ،جس گھر میں لکھنے پڑھنے کا جذبہ نہ ہو وہ گھر اور وہ خاندان جہالت کےبدنما داغ سے دوچار ہوتاہے-
لاعلم اور غافل انسان بے وقوف وبے خرد کے زمرے آتا ہے ،انہیں در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہے، وہ خود اعتمادی ،اپنے لیے بہترین فیصلے سے محروم القسمت ہوتے ہیں ،
آخر کوئی نہ کوئی بات تو ہوگی جس کی وجہ سے آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ میں اہل علم کے فضائل ومناقب کو بیان گیا ہےاور اس کے رتبہ کو بلند کیا گیاہے اور تمام انبیاء کو رسوخ فی العلم سے نوازا گیا ہے،چوں کہ وہ معلم انسانیت ہوتےہیں اورمعلم انسانیت کےلیے معلم کتاب ہونا ضروری ہے-
اس لیے انسان بالعموم اور مسلمان بالخصوص پڑھنے لکھنےاور مطالعہ کا شوق پیدا کریں،کج فہمی کو دور کریں اور ملک وملت کی حفاظت کےلیےاپنی شعور بیدار کریں- تاکہ ہم دنیا کا بھی دفاع کریں اور دین کابھی دفاع کریں جوکہ ہمارا مقصد حیات ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ ذوق سلیم عطا فرمائے آمین