بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ دوم)
مفتی ناصرالدین مظاہری سے مشورہ
٣/محرم الحرام ١٤٤٧ھ۔ بہ روز اتوار بعدِ نمازِ عشاء مدیرِ آئینۂ مظاہر علوم وقف سہارن پور ، حضرت مولانا مفتی محمد ناصر مظاہری حفظه اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ، علیک سلیک ہوئی ، مختصر گفتگو کے بعد میں نے عرض کیا کہ جی ہم "طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف) سہارن پور" دیواری پرچہ نکالنا چاہتے ہیں ، حضرت مفتی صاحب یہ سن کر بے حد خوش ہوۓ ، کہنے لگے: بہت اچھا بہت اچھا ، یہ تو آپ نے میرا کام آسان کر دیا ، لگ رہا تھا کہ تھا مفتی صاحب کی دیرینہ دلی خواہش تھی کہ طلبہ دیواری مجلہ نکالیں ، جس کا اندازہ اس سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب کی تائید پر "جزاکم اللّٰه" مجھے کہنا چاہیے تھا جو میں نے کہا بھی ؛ لیکن مجھ سے پہلے مفتی صاحب ہی نے ان الفاظ کے ذریعے سے دعا دے دی تھی۔
طلبۂ علاقۂ میوات کی میٹنگ
اگلے روز یعنی ٤/محرم الحرام بہ روز پیر بعدِ نمازِ عشاء میں نے 10:15 (سوا دس بجے) علاقۂ میوات کے تمام طلبہ کو دار التفسیر میں جمع ہونے کی درخواست کی، جس میں ماشاءاللہ تقریباً تمام میواتی طلبہ نے شرکت کی ، مختصر تمہید کے بعد میں نے اصل موضوع پر آتے ہوئے ، مشورے کے طور پر ان کے سامنے دیواری مجلہ کی بات رکھی ، جس پر تمام ساتھیوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا ، پختہ عزم و مضبوط ارادے اور زبانی تائیدات سے ناچیز کی راۓ کو تقویت بخشی ، تقریباً 11/ بجے ہمارا یہ مشورہ سلامتی و عافیت کے ساتھ تکمیل کو پہنچ گیا۔
دیواری مجلہ کی دفترِ اہتمام میں درخواست
پھر اگلے روز ۵/محرم الحرام بہ روز منگل کو دوسرے گھنٹے کے بعد میں نے ایک مختصر سی درخواست حضرت ناظم صاحب کے نام لکھی اور پھر اسے تصحیح کرانے کے لیے مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔
درخواست کا متن:
مخدومنا المکرم ومطاوعنا المعظم حضرت ناظم صاحب دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اما بعد: بہ خدمتِ حضرت ناظم صاحب مؤدبانہ عرض ہے کہ سب سے پہلے ہم تمام طلبۂ علاقہ میوات آپ کے بے حد شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہم کو اپنے زیرِ سرپرستی جامعہ مظاہر علوم وقف سہارن پور میں علمی تشنگی کی سیرابی کا موقع فراہم کیا، دوسری بات یہ ہے کہ ہم آپ کے زیرِ سایہ اور آپ کی نگرانی میں رہ کر تحریری صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے ماہ نامہ (دیواری پرچہ) نکالنے کی خواہشمند ہیں، ہم کو امید بل کہ کامل یقین ہے کہ آپ ہماری اس ادنی سی درخواست کو اپنی خاص عنایت کے طفیل شرفِ قبولیت سے نوازیں گے۔ جزاکم اللہ خیراً کثیرًا وأحسن الجزاء
درخواست گزار: عبد اللہ یوسف شریکِ تکمیلِ افتاء
من جانب: طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم وقف سہارنپور
۵/ محرم الحرام ١٤٤٧ھ۔
(انتہیٰ)
مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب نے درخواست کو دیکھ کر فرمایا : "بالکل صحیح ہے ، بہت اچھا مضمون ہے ، بہت اچھا لکھا ہے" اس جیسے جملوں سے ناچیز کو دلی خوشی ہوئی اور قلبی تسکین میسر ہوئی، اس کے بعد مفتی صاحب نے اس پر ذیل کے الفاظ لکھے:
حضور والا!
"جداریہ پرچوں کے لیے حضرت ناظم صاحب (مولانا محمد سعیدی نور اللہ مرقدہ) نے انجمن ہدایت الرشید کو باقاعدہ حکم جاری فرما دیا تھا، امید ہے کہ خصوصی عنایت فرمائیں گے"
ناصرالدین مظاہری
۵/ محرم الحرام ١٤٤٧ھ۔
حضرت مفتی ناصرالدین مظاہری نے اس درخواست پر یہ تائیدی کلمات لکھ کر درخواست مجھے تھما دی اور حضرت ناظم صاحب کے پاس جانے کے لۓ کہا ، میں درخواست لے کر نائب ناظم مفتی محمد بدران سعیدی صاحب ( اُس وقت حضرت مفتی صاحب نائب ناظم ہی تھے، کئ ماہ بعد جمادی الاولی کی ۵/ تاریخ ١٤٤٧ھ۔ مطابق ٢٨/ اکتور٢٠٢۵ء بہ روز منگل کو مظاہر علوم وقف سہارنپور میں شورا کا اجلاس ہوا، اس میں باقاعدہ طور پر مفتی محمد بدران سعیدی کو ناظمِ اعلی کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا) کی خدمت میں حاضر ہوا ، ناظم صاحب نے ٹھوڑی دیر بعد بھیج دیا اور قدرے وقفے سے دوبارہ آنے کے لیے کہا ، میں تعمیلِ حکم میں ظہر بعد دوبارہ مفتی محمد بدران صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ، پہلے تو مفتی محمد بدران صاحب نے مولانا محمد غیور صاحب (استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپور) کو بلوایا اور ان سے کافی دیر تک اس درخواست سے متعلق مشورہ کرنے کے بعد، مجھے بھیج دیا اور اگلے دن یعنی بہ روز بدھ کی شام کو آنے کے لیے کہا۔
اب اگلے روز ٦/محرم الحرام بہ روز بدھ کو شام کے گھنٹوں میں پھر حاضرِ خدمت ہوا ، تو اب مفتی محمد بدران صاحب نے چند سوالات کۓ:
آپ پہلے کہاں پڑھے ہیں ؟
دارالعلوم دیوبند۔
وہاں مجلہ نکالتے تھے ؟
جی۔
مضامین کو کون جانچتا تھا ؟
دو سال تک میں مدیر رہا تو یہ ذمہ داری بھی مجھ سے ہی متعلق تھی، باقی ششماہی یا سالانہ مقالات کو کسی استاد سے جانچ کراتے تھے۔
وہاں بھی اس طرح اجازت لینی پڑتی تھی ؟
جی نہیں! کیوں کہ وہاں پہلے سے ہی یہ نظام بنا ہوا ہے۔
مجلہ کے لۓ کوئی مناسب جگہ تلاش کی ہے ؟
جی ابھی تو ایسی کوئی جگہ نہیں دیکھی۔
یہاں مفتی ناصر الدین صاحب بیٹھے ہوں گے ، انہیں بلا کر لاؤ!
جی مفتی ناصر الدین صاحب شاید چلے گئے ہیں، یہاں نہیں ہیں۔
اچھا کل صبح آنا ، صبح ان شاء اللہ تعالیٰ کر دیں گے، ابھی تھوڑا مشورہ کرنا ہے۔
جی ٹھیک ہے۔ جزاکم اللّٰه خیراً کثیرًا
دیواری مجلہ کی اجازت
الحمدللّٰه آج ٧/ محرم الحرام بہ روز جمعرات کا وہ سورج بھی نکل آیا جو اپنے دامن میں خوشیوں کو سمیٹے ہوۓ تھا ، ایک بڑی اور اہم آرزو کی تکمیل کو چھپاۓ ہوۓ تھا ، مظاہر علوم وقف سہارن پور آنے کے بعد میری سب سے بڑی تمنا کو عملی جامہ پہنانے کے انتظار میں تھا ، آج پھر حسبِ حکم بعدِ نمازِ ظہر ، مظاہر علوم (وقف) سہارن پور کے منتخب نائب ناظم مفتی محمد بدران سعیدی صاحب کے پاس حاضر ہوا تو حضرت ناظم صاحب نے فوراً میری پیش کی ہوئی درخواست مجھے واپس کر دی جس پر پہلے تو مفتی ناصر الدین صاحب کی تائید لکھی ہوئی تھی اور پھر آگے لکھا ہوا تھا "جناب مفتی ناصر الدین صاحب کی نگرانی میں مجلہ کی اشاعت کی اجازت ہے" اور میں دل سے شکرِ خدا اور زبان سے ناظم صاحب کو جزائے خیر کی دعا دیتے ہوئے ، اس درخواست کو لے کر واپس آ گیا اور الحمدللہ ثم الحمدللہ یوں میرا خواب حقیقت میں تبدیل ہو گیا۔
نائب ناظم حضرت مولانا مفتی محمد بدران سعیدی دامت برکاتہم العالیہ کا اور خاص طور پر مدیرِ آئینۂ مظاہر علوم وقف سہارن پور حضرت مفتی ناصر الدین صاحب کا بے حد شکریہ جنہوں نے قدم قدم پر رہنمائی کی اور حوصلہ افزائی کے کلمات سے ارادوں کو تقویت بخشی۔
محتاجِ دعا : عبد اللّٰه یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء۔