بھارت میں مسلم شناخت پر بڑھتے حملے اور مستقبل کے خدشات محض جذباتی فقرہ نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور عملی حقیقت ہے۔ آزادی کے وقت دیے گئے آئینِ ہند میں آرٹیکل 25 تا 30 کے تحت ہر شہری کو مذہب پر عمل کرنے، اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سات دہائیوں کے اندر مسلمانوں کی یہ آئینی آزادی کاغذی دفعات میں محدود ہو گئی اور عملی سطح پر ان کی شناخت پر لگاتار حملے ہوتے رہے۔ کبھی 1980 کی دہائی کے فسادات (مرادآباد، بھیونڈی، نیلی) کے ذریعہ، کبھی 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے ذریعہ اور کبھی 2002 کے گجرات فسادات کے ذریعہ۔ مگر موجودہ دور میں یہ حملے قانونی، سماجی اور نفسیاتی تینوں سطحوں پر نئے انداز سے سامنے آ رہے ہیں۔ آج حالات اس حد تک جا چکے ہیں کہ ( آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سادہ سا جملہ بھی حکومت کو برداشت نہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق اتر پردیش میں دو درجن سے زائد مسلمانوں کو محض اس جملے کے بورڈ رکھنے پر پولیس نے گرفتار کر لیا، گویا اب مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اعلان بھی آزادی کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ یہی نہیں، کرناٹک میں 2022 کے دوران بیٹیوں کو حجاب پہننے سے روکا گیا اور عدالتوں نے بھی حکومت کے مؤقف کو تقویت دی، کئی یونیورسٹیوں میں داڑھی اور ٹوپی کو نظم و ضبط کے خلاف قرار دیا گیا، اذان پر لاؤڈ اسپیکر کی پابندی کی مہم چلائی گئی، اور مدارس پر شدت پسندی کی تعلیم کے الزامات لگا کر ان کی رجسٹریشن منسوخ کی جانے لگی۔
میڈیا کا کردار اس پورے بیانیے میں نہایت خطرناک ہے، فلموں اور نیوز چینلز کے ذریعہ مسلمانوں کو ہمیشہ غدار، دہشت گرد یا بوجھ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس نفسیاتی حملے نے عام ہندو ذہن میں مسلمان کو مشکوک بنادیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معمولی جھگڑا بھی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی ہے جسے کچھ نیتاؤں کی پارٹیوں نے نظریہ ہندوتوا کے تحت اپنا ایجنڈا بنایا ہے تاکہ مسلمان اپنے ایمان اور شناخت پر قائم نہ رہ سکیں اور رفتہ رفتہ ہندو کلچر میں ضم ہو جائیں۔۔۔۔۔
خدشات مستقبل کے بارے میں اور بھی سنگین ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو مدارس کی جگہ اسکل سینٹرز قائم ہوں گے، نصابِ تعلیم سے اسلامی تاریخ اور مسلم شخصیات کا ذکر نکال دیا جائے گا، مساجد کو سیکیورٹی رسک قرار دے کر بند کیا جائے گا اور آنے والی نسلوں کو یہ باور کرایا جائے گا کہ مسلمان ہونا جرم ہے بلکہ اس کی ابتداء پہلے ہی ہو چکی ہے۔۔۔
نیشنل ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کونسل (NCERT) کے نصاب سے 2023 میں مسلم حکمرانوں خصوصاً مغلوں کے ابواب نکال دیے گئے تاکہ نئی نسل کا ذہن تاریخ سے منقطع ہو جائے۔۔۔۔
لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟ کیا وہ اپنی شناخت کو بیچ کر وقتی سکون خرید لیں یا پھر اس شناخت پر قائم رہ کر عزت کے ساتھ جئیں؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو قوم اپنی پہچان پر ڈٹ جاتی ہے وہی قوم زندہ رہتی ہے، چاہے دنیا اسے کچلنے کی کتنی ہی کوشش کرے، اسپین (اندلس) کے مسلمانوں کی پہچان مٹ گئی تو وہاں اسلام بھی مٹ گیا مگر برصغیر میں لاکھوں قربانیوں کے باوجود آج بھی اذان کی صدا باقی ہے کیونکہ کچھ لوگوں نے اپنی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج ہندوستانی مسلمان کے سامنے بھی یہی دو راستے ہیں یا تو آئین کی ضمانتوں کو عملی طور پر حاصل کرنے کے لیے قانونی و جمہوری جدوجہد کریں، اپنے تعلیمی و معاشی ادارے کھڑے کریں، عالمی برادری تک اپنی آواز پہنچائیں اور سب سے بڑھ کر عشقِ مصطفیٰ کو اپنے خون میں شامل کریں یا پھر خاموشی سے اپنی پہچان قربان کر دیں اور تاریخ کے صفحات میں غلام قوم کہلائیں۔۔۔۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ آج کا فیصلہ آنے والی نسلوں کی تاریخ طے کرے گا، یا تو وہ گرفتار شدہ قوم کہلائیں گے جو اپنے نبی کے نام سے بھی ڈری یا پھر وہ انقلابی قوم بنیں گے جس نے عشقِ مصطفیٰ کے نام پر ہر قید توڑی اور سرخرو ہوئی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B