اسلامی عقیدے کے مطابق موت کے بعد انسان کی زندگی کا پہلا مرحلہ قبر ہے، جسے برزخ کہا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾
المؤمنون 100)
یعنی مرنے کے بعد قیامت تک ایک پردہ (برزخ) ہے۔
جب انسان کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق دو فرشتے، منکر اور نکیر آتے ہیں اور اس سے تین سوالات کرتے ہیں:
تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟
(ترمذی)
جو مومن دنیا میں ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جواب دینے کی توفیق عطا فرماتے ہیں۔ اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے، جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور وہ قیامت تک راحت میں رہتا ہے۔
حدیث میں ہے: قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
(ترمذی)
اس کے برعکس جو شخص کفر، نفاق یا گناہوں میں مبتلا رہتا ہے، وہ سوالات کے جواب نہیں دے پاتا۔ اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جاتی ہیں۔
(مسند احمد)
قرآنِ کریم میں آلِ فرعون کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہیں صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے، جو قبر کے عذاب کی دلیل ہے۔
(سورۃ غافر: 46)
نبی کریم ﷺ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے اور ہمیں بھی اس کی دعا کی تعلیم دی۔
(بخاری، مسلم)
قبر کا عذاب یا راحت اعمال کے مطابق ہوتی ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ ایمان کی حفاظت کرے، نماز قائم کرے، گناہوں سے بچے اور نیک اعمال کی کثرت کرے، تاکہ قبر کی زندگی آسان ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور قبر کو جنت کا باغ بنائے۔ آمین۔
مفتی صادق امین قاسمی