بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہنامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ اول)
ابتدائیہ
الحمدللہ جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپور میں داخلہ ہوگیا، مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں چوں کہ بزمِ اصلاح الخطابۃ طلبۂ علاقۂ میوات دار العلوم دیوبند کے طفیل ایک سال کچھ کچھ اور اگلے دو سال تک خوب ہی صحافت کی ذمہ داری کی بناء پر مضامین نگاری سے تعلق اور دل چسپی رہی تھی، اس لئے مظاہر علوم میں داخلہ ہونے کے بعد پہلی آرزو اور تمنا یہی تھی کہ مظاہر علوم وقف سہارن پور میں بھی باقاعدہ صحافت کا نظام شروع کیا جائے اور وہی ساری ترتیب جو دار العلوم میں رہ کر دیکھی تھی اور جس کا مشاہدہ کیا تھا، وہ سب یہاں بھی کرنے اور دیکھنے کی حسرت اور قلبی آرزو تھی، چناں چہ الحمدللہ اللہ تبارک وتعالی کے فضل وکرم سے یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوا اور مضامین بھی لکھے، لکھواۓ، سالانہ مقالات بھی لکھواۓ گۓ، سالانہ صحافتی انعامی اجلاس بھی ہوا اور طلبہ کو خوب اور کثیر تعداد میں انعامات سے بھی نوازا گیا۔
یہ جداریہ کی نشأۃِ اولی ہے یا نشأۃِ ثانیہ ؟
اس تعلق سے یہ وضاحت بھی عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مظاہر علوم وقف سہارن پور میں دیواری مجلہ کب سے بند ہے؟ یا کب اس کا رواج ختم ہوا؟ تو اس حوالہ سے میں نے کافی تحقیق کی کوشش کی کہ کچھ پتہ چل جائے، براهِ راست مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب سے بھی اس سلسلہ میں عرض کیا کہ جی یہ دیواری مجلوں کا سلسلہ کب سے بند ہے؟ مگر تعیین کے ساتھ اس کا علم نہ ہو سکا، البتہ بعد میں چل کر انجمن ہدایۃ الرشید کے زیرِ اہتمام شعبۂ مناظرہ کا آغاز ہوا تو اس سے بھی میں براۓ نام سہی مگر منسلک ہوا، تو اس میں انجمن اور اس کے شعبوں سے متعلق تقریباً سارا ریکارڈ موجود تھا، جس سے اتنا پتہ چلا کہ ١٤٣٧/٣٨ھ۔ کے بعد سے نہ تو شعبۂ مناظرہ سر گرمِ عمل ہے اور نہ ہی صحافت وجداریہ وغیرہ کا کوئی نظام ہے، البتہ اس سے پہلے کے متفرق مضامین اور فریم وغیرہ نظروں سے گزرے۔ اور یہاں مظاہر علوم وقف سہارن پور میں اس وقت انجمن کا جو نظام ہے، وہ دارالعلوم سے قدرے مختلف ہے، دارالعلوم دیوبند میں تو علاقائی اور صوبائی انجمنیں ہوتی ہیں، مگر یہاں مدرسہ کی طرف سے انجمنوں کا تعین ہوتا ہے، جن میں الگ الگ علاقے اور مختلف درجات کے طلبہ کو علی السویہ تقسیم کر کے بیس پچیس طلبہ پر مشتمل متنوع نام دے کر ہفتہ واری پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور اخیر سال میں ہر انجمن سے ایک طالب علم کا انتخاب کر کے بزمِ ہدایۃ الرشید کے زیرِ اہتمام سالانہ مسابقۂ خطابت اور انعامی اجلاس منعقد ہوتا ہے، غالب گمان یہی ہے کہ یہاں انجمنوں کا یہ طریقۂ کار اسی وقت یعنی ١٤٣٧/٣٨ھ۔ سے ہی ہے، جو کہ انجمنوں سے متعلق طلبہ کی آپسی لڑائی وغیرہ کے باعث ہوا، جب کہ اس سے پہلے یہاں بھی علاقائی اور صوبائی انجمنیں ہوتی تھی۔
واضح رہے کہ انجمن ہدایۃ الرشید حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نور اللہ مرقدہ سے منسوب ہے، جس کی بنیاد حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نور اللہ مرقدہ کے دورِ اہتمام میں 1930ء میں رکھی گئی۔ (جاری)
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء۔