شانِ رسول ﷺ: حقائق، اعتراضات اور حقیقت کا دفاع
یہ بات حق، سچ اور دلائلِ قطعیہ سے ثابت شدہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس محض ایک عام بشر کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ اور منتخب رسول ہیں جن کے صدقے میں پوری کائنات کو وجود بخشا گیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآنِ مجید نے مختلف اسالیب میں واضح فرمایا اور جس پر امتِ مسلمہ صدیوں سے ایمان رکھتی آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ خالقِ حقیقی ہے، رازقِ مطلق ہے، مگر اسی اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو عطا فرمانے والا، بانٹنے والا اور قاسم بنایا۔ جو کچھ رسولِ اکرم ﷺ کو عطا ہوا، وہ اللہ کی عطا ہے، اور اس عطا کو ماننا عینِ ایمان اور مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کا بنیادی عقیدہ ہے۔
ہم مسلمان ہیں، قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، احادیثِ نبویہ کو حق مانتے ہیں، اور اگر قرآنِ مقدس کا تحقیقی، تدبری، تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو اپنے عطائی علم میں سے وہ سب کچھ عطا فرمایا جو ہدایتِ خلق، اصلاحِ امت اور قیامت تک آنے والے فتنوں کی رہنمائی کے لیے ضروری تھا۔ نبی ﷺ کا علم ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے، اور عطائی علم کا ماننا شرک نہیں بلکہ توحیدِ خالص کا تقاضا ہے۔
اس کے باوجود آج کے دور میں کچھ گمراہ گروہ جیسے ندوی، دیوبندی، وہابی، شیعہ جماعتیں، خوارج، روافض، قادیانی اور ملحدین رسولِ اکرم ﷺ کی شان میں طرح طرح کے اعتراضات اٹھاتے ہیں اور امت میں شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو علمِ غیب حاصل نہیں تھا اور وہ صرف عام انسانوں کی طرح علم رکھتے تھے، حالانکہ قرآن خود اعلان کرتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غیب میں سے جتنا چاہے عطا فرماتا ہے۔ احادیثِ صحیحہ میں نبی ﷺ نے قیامت تک پیش آنے والے واقعات، فتنوں، اشراطِ ساعت اور امت کے حالات کی خبریں دیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو وسیع اور غیر معمولی علم عطا فرمایا۔
یہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ہماری ہی طرح بشر تھے، ان کو کوئی خاص فضیلت یا امتیاز حاصل نہیں تھا، حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی ﷺ بشر ضرور ہیں مگر عام بشر نہیں۔ بشر ہونا نقص نہیں، بلکہ بشر ہو کر اللہ کا رسول ہونا سب سے بڑا کمال ہے۔ قرآن نے جہاں نبی ﷺ کے بشر ہونے کو بیان کیا، وہیں ان کے وحی یافتہ، برگزیدہ اور مقرب ہونے کو بھی واضح فرمایا۔
یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کوئی اختیار نہیں دیا، نہ وہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان، حالانکہ یہ بات اللہ کی عطا کا انکار ہے۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ فاعلِ حقیقی اللہ ہے، مگر وہ جسے چاہے اپنے اذن سے اختیار عطا فرماتا ہے، اور رسولِ اکرم ﷺ کو اللہ نے اپنے حکم سے عطا فرمانے والا اور قاسم بنایا، نہ کہ مستقل بالذات۔
پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ کے وسیلے، ان کی تعظیم، ان کے مقام و مرتبے کا بیان کرنا غلو اور بدعت ہے، حالانکہ قرآن خود رسول ﷺ کی تعظیم، ادب اور اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتے تھے، آپ ﷺ کے آثار سے برکت حاصل کرتے تھے، اور آپ ﷺ کی شان کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔ یہ عمل نہ بدعت ہے اور نہ غلو، بلکہ عینِ سنت ہے۔
یہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول ﷺ کو “ہر چیز عطا ہونا” کہنا قرآن کے خلاف ہے، حالانکہ اہلِ سنت کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ نبی ﷺ کو اللہ کے برابر علم حاصل ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے عطائی علم سے وہ سب کچھ عطا فرمایا جو مخلوق کی ہدایت کے لیے ضروری تھا، اور یہی بات قرآن کے عموم، احادیث اور ائمہ امت کی تصریحات سے ثابت ہے۔
درحقیقت یہ تمام اعتراضات ایک ہی مقصد کے گرد گھومتے ہیں، اور وہ مقصد رسولِ اکرم ﷺ کی شان کو گھٹانا، ان کے مقام کو محدود کرنا اور امت کو فکری انتشار میں مبتلا کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ جس رسول ﷺ کے صدقے میں کائنات بنی، جس کے ذریعے قرآن ہم تک پہنچا، اور جس کی اتباع کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا، اسی رسول ﷺ کی شان میں اعتراض کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں سخت گمراہی ہے، اور ایسے طرزِ فکر رکھنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
لہٰذا ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ تعصب، ضد اور نفس پرستی کو چھوڑ کر صراطِ مستقیم پر چلیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے کو اختیار کریں، اور مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کے مطابق اپنے عقائد کو مضبوط کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت، کامل ادب، درست عقیدہ اور فتنوں سے حفاظت عطا فرمائے، اور ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

📍📍📍
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی