اسلام اور عصر حاضر کے مسلمانوں کا حال۔
🖊️بقلم محمد عادل ارریاوی ۔
_______________________________________
قارئین کرام! اس کا ئنات اور تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جتنی چیزیں ہیں،سب اللہ کےحکم کے پابند ہیں، اور وہ ذات اس بات کو خوب جانتی ہے کہ انسانی افکار و افعال میں کون سے افکار و افعال انسان کے لیے مفید ہیں اور کون سے نقصان دہ اور ضرر رساں ہیں اس لیے وہ ذات انسانوں کے واسطے زندگی گزارنے کا پورا قانون بھیجتی ہے تا کہ اس پر چل کر انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے اور اللہ تعالی کی تعلیمات اور قوانین کامل قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ ہے اور تاریخ و تجربہ اس پر شاہد ہے کہ خالق کائنات مالک حقیقی قادر مطلق رحیم و کریم اللہ تعالی کی تعلیمات پر جو شخص اور قوم عمل پیرا رہی وہ دنیا و آخرت میں غالب و منصور اور کامیاب و کامران رہی ہے ۔ جب کسی معاشرے میں اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کو پوری طرح رائج اور نافذ کیا جاتا ہے تو اس معاشرے میں نہ صرف انسانوں کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ ہو جاتی ہے بلکہ اس معاشرے کے افراد میں باہمی الفت و محبت اور رحم وکرم کے ایسے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں کہ معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے کا بھائی اور سچا خیر خواہ بن جاتا ہے ۔ وہ دوسرے کی عزت اور مال دیکھ کر جلنے کی بجائے اپنی عزت و مال سمجھ کر خوش ہوتا ہے ۔ اسی طرح ہر مؤمن مسلمان کو اس عارضی دنیا میں بھی قلبی اطمینان عمدہ اور پاکیزہ زندگی میسر آجاتی ہے اور اس کے لیے ابدی اور حقیقی زندگی میں جو سکون و اطمینان اور خوشیاں میسر آئیں گی وہ تو ہمارے تصورات میں بھی نہیں آسکتی ۔
اللہ تعالی کی بتائی ہوئی تعلیمات اور دستور اسلامی کا اجمالی اور پورا بیان کلمہ طیبہ میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں یعنی بندگی کیے جانے کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ( یعنی اللہ تعالی کی بندگی محمد ﷺ کے ذریعے ملتی ہے ) اور بندگی اس چیز کا نام ہے کہ کسی کے سامنے انتہائی محبت و عاجزی کا اظہار کیا جائے اور دل و جان سے اس کی اطاعت کو اختیار کیا جائے اور اللہ تعالی کی بندگی اور اطاعت صرف شعبہ عبادات ہی میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کی اطاعت کرنا اور اس کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے ۔ چنانچہ کھانے پینے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے: کہ اے ایمان والوں اگر تم حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کرنے والے ہو ( اور یہ یقین رکھتے ہو کہ حلال و حرام میں حکم صرف اس کا ہے ) تو وہ تمام پاک چیزیں جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں انھیں بے تکلف کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ (البقرہ - آیت:۱۷۲)
ناپ تول میں کمی اور حقوق کی ادائیگی کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں یعنی دوسروں سے اپنا حق پورا پورا حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں نقصان اور کوتاہی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کا گویا قیامت پر ایمان و یقین نہیں ہے ۔ ( دیکھیے سورۃ المطفیفن )
اپنے تنازعوں اور جھگڑوں میں اللہ تعالی کے حکم کو نظر انداز کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں :کہ (اے پیغمبر ﷺ) کیا تم نے ان لوگوں ) کی حالت ) کو نہیں دیکھا جن کا دعوئی تو یہ ہے کہ جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ تم سے پہلے نازل ہو چکا ہے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں ( مگر ان کے عمل کا حال یہ ہے کہ ) وہ چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات اور جھگڑے طاغوت ( اللہ تعالیٰ کے خلاف قانون اور انسان ) کے آگے لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس سے انکار کریں ۔ (اصل یہ ہے کہ ) شیطان انہیں اس طرح گمراہ کر کے راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔ (نساء ۔ آیت : ۲۰)
قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں سے یہ چند آیات اور روایات بطور نمونہ پیش کی گئیں تا کہ ایک مسلمان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی صرف عبادات کو اختیار کرنے کا نام نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور تعلیم کو دل و جان سے ماننے اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے اور اللہ تعالی کی بندگی اور اسلام کے بڑے بڑے شعبے عقائد عبادات معاملات اور اخلاقیات اور حقوق و آداب ہیں ۔ ان حقوق و عقود کی حفاظت کے لیے حدود و تعزیرات سزا قضاء کے نظام کا قیام اور فقیروں و مظلوموں کے مددگار امن وسکون کے پورے نظام کو دنیا بھر میں پھیلانے اور نافذ کرنے کے لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دعوت و جہاد ہیں ۔
آج کل مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی حالت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ایمان اور اسلام کی وجہ سے جو معاشرہ بنتا ہے مسلمانوں کا معاشرہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک عام مسلمان مسلمان سے نہیں بلکہ دیندار مسلمان سے بیزار ہے مسلمان کا مسلمان سے اعتماد اٹھ گیا ہے اربوں کی تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود مسلمان ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور عددی اکثریت کے باوجود ہر جگہ مغلوب اور مقہور ہیں ۔ مسلمانوں کے کسی ملک میں بھی پورے قوانین اسلام کی بالا دستی اور حکمرانی موجود نہیں حالانکہ بظاہر امت مسلمہ نے اسلام کو نہیں چھوڑا بلکہ روزانہ پانچ وقت کلمہ شہادت سے فضا میں گونج رہی ہیں مساجد میں نمازیوں کے لیے جگہ نہیں ملتی ایام حج میں کئی میل کا میدان عرفات حاجیوں کو نہیں سمو سکتا یہی حال دوسری عبادات کا ہے ۔ بلکہ دعوت و تبلیغ وعظ و نصیحت دینی درسگا ہیں اور خانقاہیں بھی اس قدر زیادہ ہیں کہ شاید اس کی نظیر سابقہ ادوار میں بھی نہیں ملے گی لیکن اس کے باوجود مسلمان روز بروز ترقی کے بجائے تنزل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا رہا ہے اور معاشرہ رحمدلی کے بجائے سنگدلی کی طرف بڑھ رہا ہے اور افتراق و انتشار اور ذلت کا شکار ہے۔
اسلام صرف عقائد و عبادات کا نام نہیں
یہ بات آپ کو کھٹکے لیکن مجھے امید ہے کہ اس کی علامات اور دلائل کو سامنے لایا جائے تو یہ بات کھل جائے گی کہ واقعی عام مسلمان نہیں بلکہ دیندار طبقہ بھی اس مرض کا شکار ہے اسلام کو صرف عقائد و عبادات کی حد تک ہی محدود سمجھتا ہے ۔ اگر مسلمان عقائد اور عبادات کو بھی کما حقہ قائم کریں تو پھر بھی باقی شعبوں کی طرف رہنمائی ملتی لیکن انہوں نے تو عقائد اور عبادات کے نظام کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ گویا معاملات و معاشرت کا سرے سے اسلام میں تصور ہی نہیں البتہ معاملات میں سے صرف نکاح و طلاق کے مسائل کو سکھتے سکھاتے ہیں ۔ باقی تمام معاملات معاشرتی زندگی حقوق اخلاقیات قضاء و سزا کا نظام ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی خالص بندگی سے محروم ہیں ۔ چنانچہ بڑے بڑے دیندار اور پر ہیز گار تہجد گزار مدرسین و متعلمین و مبلغین سودی لین دین کرتے ہیں اور معاملات کے کھوٹے ہیں اور کفریہ نظاموں کے ساتھ اتحاد واتفاق کر چکے ہیں ۔ اس کے باوجود عام لوگوں کی نظر میں ان کے اسلام بلکہ پر ہیز گاری پر بھی کوئی حرف نہیں آتا ۔ بظاہر ہم دیکھتے ہیں اگر کسی دیندار معاشرہ میں العیاذ با اللہ کوئی شخص نماز چھوڑ دیتا ہے تو اس معاشرہ اور ماحول میں وہ فاسق فاجر سمجھا جائے گا اور بلاشبہ ایسا شخص فاسق و فاجر اور قابل ملامت ہے کہ اس نے دین کے ایک ستون کو گرا دیا ہے لیکن جس نے پورے دین اسلام ہی کو گرا دیا ہے اپنے معاملات میں حرام و حلال کی پرواہ نہیں کرتا جھوٹ وعدہ خلافی کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہو اخلاق رذیلہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا اور بے دین حکمرانوں کے جھنڈے لے کر ان کی مدح و ثناء میں اس کی زبان تر رہتی ہے ۔ آخر اسے صرف نماز و تصوف یا صرف دین کی باتیں کرنے کی وجہ سے کیوں پر ہیز گار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک شخص معاملات کا کھرا ہے حقوق کی ادائیگی کا پورا اہتمام کرتا ہے اسی طرح دوسرے دینی فرائض اور ذمہ داریاں حسن و خوبی سے ادا کر رہا ہے لیکن وہ کثرت سے نوافل کا عادی نہیں اس کا لباس وضع قطع ایک خاص طرز پر نہیں تو اس کا نام پر ہیز گاروں کی فہرست سے خارج ہوتا ہے اور اس کے برعکس بندوں کے حقوق کو ضائع کرنے والا اگر صرف کثرت سے نوافل کا عادی ہے اور لوگوں کے سامنے دین کی باتیں کرتا پھرتا ہے تو تارک فرائض واجبات بھی ہمارے معاشرے میں ولی اللہ بزرگان دین اور پر ہیز گار سمجھے جاتے ہیں ۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی علامات اور دلائل نہیں کہ معاملات حقوق اخلاقیات وغیرہ جیسے اہم امور کی اہمیت مسلمان کے دل سے ختم ہوگئی ہے اور اس نے اسلام کو صرف عقائد و عبادات بلکہ اپنے اختیار کردہ فروعی مسائل کی حد تک محدود کر رکھا ہے ۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ مسلمان کے اندر سے توحید اور اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کی روح نکل چکی ہے ۔ شرک کی بہت سی اقسام جو کفار و مشرکین اور منافقین میں پائی جاتی ہیں وہ آج مسلمان میں بھی پائی جاتی ہیں اگر چہ بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو قبروں کی پرستش سے منع کرتے ہیں لیکن وہ بھی اللہ تعالی کے سوا دوسرے زندہ انہوں اور خداؤں اور طاغوتی طاقتوں کی پرستش میں مبتلا ہیں ۔ حالانکہ یہ یہود کی طاغوت پرستی ہی تو تھی کہ وہ اپنے ایسے لیڈروں کی پیروی کرتے تھے جو اللہ تعالی کی تعلیم و ہدایت کے مقابلے میں لوگوں سے اپنی ہوائے نفس کی پیروی کراتے تھے اور منافقین کی طاغوت پرستی پیتھی کہ وہ اپنے بعض معاملات کو یہود و نصاری کی عدالتوں میں لے جاتے تھے ۔ آج کا مسلمان تو طاغوت پرستی نفس پرستی قوم پرستی میں مشرکین یہود و نصاری اور منافقین سے بھی بازی لے گیا ہے مسلمانوں کے معاملات معاشرت تہذیب سیاست اور معیشت ہر ایک شعبہ پر طاغوتی قوتوں کا غلبہ ہو چکا ہے بلکہ مسلمان ممالک کا نظام حکومت بھی طاغوت بن چکا ہے اور مسلمان اس کے اندر صرف استعمال ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ اس طاغوتی تہذیب و تمدن سیاست و معیشت کو ترقی دینے اور بڑھانے کی جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں آج مسلمان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے بجائے طاغوت کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلوں کو اختیار کرتا ہے اور اپنی ساری کی ساری قوتیں اور صلاحیتیں اسی طاغوتی اور شیطانی تہذیب و سیاست وغیرہ کے فروغ اور پھیلانے میں صرف کر رہے ہیں یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے حکمران علی الاعلان کتاب اللہ اور قانون الہی کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ العیاذ بااللہ شریعت کے احکام فرسودہ نا قابل عمل اور عقل و تہذیب کے خلاف ہیں ۔ پھر عوام ہی نہیں بلکہ سیاسی نام نہاد علماء بھی لوگوں سے اپنی محبت و الفت کے رشتے استوار کر کے ان کی پشت پناہی کرتے ہیں اور مغربی جمہوریت کو اسلامی سیاست کا نام دیکر عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ بہر حال آج کے مسلمان نے عبادات کے سوا دوسرے تمام امور زندگی میں یا تو اپنے نفس کو الہ بنا رکھا ہے یا پھر ان لوگوں کو جن کی مادی قوت اور طاقت سے وہ مرعوب ہو چکے ہیں بلکہ سمجھدار مسلمانوں کی اکثریت بھی ایسی بن چکی ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مفاد پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں اور جہاں بھی کوئی حکم الہی ان کے مفاد سے ٹکراتا ہے تو وہاں اللہ تعالی اللہ کی بندگی کی راہ ٹوٹ جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن پاک نے منافقین کی مفاد پرستی کو بھی شرک قرار دیکر فرمایا ہے : کہ لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کنارہ پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے اگر اسے کوئی خیر پہنچتی ہے تو مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر کوئی آزمائش آگئی تو فورا منہ موڑ لیا اس شخص نے دنیا بھی برباد کی اور آخرت بھی یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے۔ (حج - آیت : 11)
آج کل اکثر مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات اور ہدایات کے حوالے نہیں کیا ہے بلکہ جس حد تک وہ اسلام کی پیروی میں کوئی نقصان نہیں دیکھتے اس حد تک وہ مسلمان ہیں لیکن جہاں بھی ان کے کسی دنیوی مفاد کو نقصان پہنچتا ہوا نظر آتا ہے یا زندگی کی آزمائشوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے تو وہیں سے اسلامی قوانین و ہدایات سے منہ موڑ لیتا ہے اور یہی منافقت ہے یادر ہے کفر کبھی منافقت سے نہیں ڈرتا اور جو قوم بھی دین اسلام کے ساتھ منافقانہ رویہ اختیار کرتی ہے اور بعض دین کو اختیار کر کے بعض کو چھوڑ بیٹھتی ہے تجربہ شاہد ہے کہ وہ قوم دنیا و آخرت میں ذلیل کن عذاب سے دوچار ہو جاتی ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ ذلت و پستی کا علاج ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بعض علماء کرام اور دردمندوں نے انسانیت کے سامنے پورے اسلام کو سامنے رکھ کر سمجھایا اور سمجھا رہے ہیں لیکن اسلام دشمن قوتیں جس قدر منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں نیز خود اسلام کے نام پر جوتحریکیں چل رہی ہیں۔ وہ اپنے عمل اور بیان سے اسلام کو چند شعبوں تک محدود کر رہی ہیں تو ان ساری مخالف کوششوں کی موجودگی میں یہ چند آواز میں اس کام کے لیے نا کافی ہیں ۔ اس لیے وقت کا اہم ترین تقاضا اور فرض یہ ہے کہ ایسی صالح اور مصلح جماعت کھڑی ہو جو مسلمانوں میں توحید کا صحیح شعور پیدا کر کے لوگوں کو عبادت و بندگی کا اصل مفہوم بتائے اور یہ جماعت صرف زبان و قلم سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے خدا کی توحید کی قولی و عملی شہادت اور گواہی دے یہ خود اللہ تعالیٰ کی بندگی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگنے کے لیے کھڑے ہو جائیں اور وہ قوم وطن اور نسل و خاندان کی ساری بندشوں کو توڑ ڈالیں نیز کسی خاص قوم کی سیاسی برتری عددی اکثریت اور معاشی فوقیت کی کوئی ادنی سی خواہش بھی ان کے دل و دماغ کے کسی کونے میں چھپی ہوئی نہ ہو ۔ اس کی دشمنی دنیا کے کسی ایک باطل سے نہ ہو بلکہ دنیا بھر کے ہر باطل اور فساد کے ساتھ ہو اور اس کا کام ہی صرف یہ ہو کہ دنیا بھر کے انسانوں کے سامنے اپنے عمل و بیان سے پورے اسلام کو لائیں جس سے پوری انسانیت اس ظالمانہ اور سنگ دلانہ چنگی سے نکل کر اسلام کے امن و امان اور رحم دلا نہ پرسکون اور پاکیزہ نظام حیات میں داخل ہو کر دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائے ۔ اللہ ربّ العزت ہم سب کو پورے دین اسلام پر چلنے کا مزہ چکھا دیں اور ہمیں پورے اسلام پر ثابت قدم رکھیں تا کہ ایسے حال میں دنیا سے رخصت ہوں کہ وہ ہم سے خوش اور راضی ہوں اور ہم اس سے خوش اور راضی ہوں آمین ثم آمین یارب العالمین۔
8235703061