وندے ماترم: ازادی کا نعرہ یا مذہبی علامت؟ ایک تنقیدی جائزہ
03 جنوری، 2026
وندے ماترم: آزادی کا نعرہ یا مذہبی علامت؟ ایک تنقیدی جائزہ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی سیاست میں بعض مسائل کو دانستہ طور پر زندہ رکھا جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ ان سے قومی مفاد وابستہ ہو، بلکہ اس لیے کہ ان کے سہارے معاشرے میں تقسیم کی لکیر کو مزید گہرا کیا جا سکے۔ وندے ماترم کا مسئلہ بھی انہی معاملات میں شامل ہے، جسے وقتاً فوقتاً سیاسی اسٹیج پر لا کر مذہبی شناختوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ تو قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں اور نہ ہی حب الوطنی کو فروغ دیتے ہیں، بلکہ یہ اختلاف اور بے اعتمادی کی فضا کو جنم دیتے ہیں۔
وندے ماترم کو ایک قومی جذبے کی علامت بنا کر پیش کرنا دراصل ایک فکری مغالطہ ہے۔ یہ گیت اپنی تاریخی اور فکری ساخت کے اعتبار سے ہمیشہ اختلاف کا باعث رہا ہے۔ آزادی سے قبل بھی اس پر شدید اعتراضات کیے گئے اور آزادی کے بعد بھی اس کی متنازع حیثیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے بعض تصورات مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے براہِ راست متصادم ہیں، اور یہی تصادم اس تنازع کی اصل بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا اعتراض محض جذباتی یا سیاسی نہیں بلکہ خالص عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام کی اساس توحید پر قائم ہے، جس میں کسی بھی غیر اللہ کی تعظیم یا تقدیس کی گنجائش نہیں۔ وندے ماترم کے بعض حصے ایسے تصورات پر مبنی ہیں جنہیں ایک مسلمان مذہبی طور پر قبول نہیں کر سکتا۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر مسلمانوں سے اس گیت کے اصرار کی توقع رکھنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آئینی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
بات بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ آزادی کی تحریک کے دوران خود کانگریس کے اندر اس مسئلے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے کبھی اسے قومی ترانہ تسلیم کرنے پر اصرار نہیں کیا، جبکہ سبھاش چندر بوس جیسے قوم پرست رہنما بھی اس کے مخالفین میں شامل تھے۔ کانگریس نے بعد میں اس کے بعض حصوں کو متنازع قرار دے کر حذف کیا، جو اس بات کا واضح اعتراف تھا کہ یہ گیت سب کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ متعدد قومی اور سماجی رہنماؤں نے اس گیت کو فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کا ذریعہ قرار دیا۔ آل انڈیا طلبہ یونین نے اسے طلبہ اجتماعات کے لیے ناموزوں بتایا، جبکہ ایم این رائے جیسے سوشلسٹ مفکر نے مسلمانوں کے اعتراضات کو اصولی اور درست قرار دیا۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے تو یہاں تک کہا کہ ”آنند مٹھ“ ناول، جس میں یہ گیت شامل ہے، ہماری قومی تاریخ کے ایک تاریک پہلو کی نمائندگی کرتا ہے۔
بنکم چندر چٹرجی کے فکری پس منظر کو نظرانداز کر کے وندے ماترم کو محض ایک غیر جانبدار قومی علامت قرار دینا بھی درست نہیں۔ خود ادبی اور فکری حلقوں میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ یہ گیت درگا دیوی کی وندنا سے جڑا ہوا ہے اور بنگال کی مذہبی روایت کی ترجمانی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ مسلمان اسے مذہب سے ماورا محض قومی جذبے کے طور پر قبول کر لیں، حقیقت پسندانہ نہیں۔ اسی پس منظر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ وندے ماترم کی کوئی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں جو اسے لازمی قرار دے۔ کسی شہری کو، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس کے پڑھنے یا کہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری معاشرے میں حب الوطنی کا پیمانہ کسی ایک نعرے یا گیت کو قرار دینا آئینی روح کے منافی ہے۔
آزادی کے بعد مختلف حکومتوں نے اس مسئلے کو کبھی دبایا اور کبھی سیاسی فائدے کے لیے ابھارا، مگر اس کا بنیادی تنازع آج بھی برقرار ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وندے ماترم کہا جائے یا نہ کہا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں حب الوطنی کو زبردستی کے پیمانے پر ناپا جائے گا، یا آئین کے دائرے میں رہ کر تنوع اور اختلاف کو قبول کیا جائے گا؟
یوپی میں بی جے پی اور جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت کے دور میں اسکولوں کے اندر وندے ماترم کو پڑھانے کی منظم تحریک چلائی گئی، جس کا مقصد محض تعلیمی نہیں بلکہ نظریاتی تھا۔ آج ایک مرتبہ پھر بی جے پی اسی مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے اچھال رہی ہے۔ 15 اگست 1947 کے بعد جب حکومتِ ہند نے آزادی کی پچاس سالہ گولڈن جوبلی منانے کا اعلان کیا تو 12 جماعتی کل ہند محاذ کی مرکزی حکومت کے دور میں بھی دوردرشن کے ذریعے مختلف صورتوں اور انداز میں وندے ماترم کی بھرپور تشہیر کی گئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ترانہ نہ تو تحریکِ آزادی کا متفقہ گیت ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک قوم یا مذہب پر زبردستی مسلط کیا جا سکتا ہے۔ اگر وندے ماترم کے مکمل مفہوم اور ترجمے کو سامنے رکھا جائے تو اس کی نوعیت خود واضح ہو جاتی ہے۔
(1) میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں
میرے اچھے پان،اچھے پھلوں
بھینی بھینی خوشبو، جنوبی ہواوں
شاداب کھیتوں والی میری ماں
(2) حسین چاندنی سے روشن
شگفتہ پھولوں والی، گنجان درختوں والی
میٹھے پھلوں، میٹھی زبان والی
سکھ دینے والی، برکت دینے والی
(3) تیس کروڑ کی پرجوش آوازیں
ساٹھ کروڑ بازوؤں میں تلواروں کو اٹھائے ہوئے
کیا اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی
اے ماں تو کمزور ہے
تو ہی ہمارے بازوؤں کی قوت ہے
میں تیرے قدموں کو چومتا ہوں
(4) تو ہی میرا باطن، توہی میرا مرکز
تو ہی جسم کے اندر کی جان
تو ہی بازوؤں کی قوت ہے
دل کے اندر تیری حقیقت ہے
تیری محبوب مورتی ہے ایک ایک مندر میں
(5) تو ہی درگا، دس مسلح ہاتھوں والی
تو ہی کملا ہے کنول کے پھولوں کی بہار
تو ہی پانی ہے، علم ہے، بہرہ ور کرنے والی
میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں
غلام کے غلام کا غلام ہوں
اچھے پانی اچھے پھلوں والی
میری ماں میں تیرا بندہ ہوں
لہلہاتے کھیتوں والی، مقدس موہنی آراستہ و پیراستہ
بڑے قدرت والی، قائم و دائم ماں، میں تیرا بندہ ہوں
(آنند مٹھ)
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اس گیت کے خالق بنکم چندر چٹرجی نے ”حاجی محسن فنڈ“ کے وظیفے پر اپنی تعلیم جاری رکھی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی، مگر اسی کے ساتھ انہوں نے آنند مٹھ جیسا ناول لکھ کر محسن کشی کا ثبوت بھی دیا۔ (زمیندار اخبار، مولانا ظفر علی خاں، 12 اکتوبر 1937)۔ وندے ماترم کا یہ گیت آنند مٹھ نامی بنگالی ناول کا حصہ ہے، جو ایک فرضی داستان پر مبنی ہے۔ اس کہانی میں یہ ترانہ ہندوؤں کی ایک خفیہ مذہبی اور نیم مذہبی تنظیم کا نعرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس ناول کے ذریعے یہ تصور گھڑا گیا کہ تقریباً ایک سو ستر سال قبل، ناول کی تصنیف سے پہلے، بنگال میں مسلمانوں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے سازشیں ہو رہی تھیں۔ مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے اور ہندو اقتدار کے قیام کے لیے وندے ماترم کو ایک جنگی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ناول کا مرکزی کردار ایک سنیاسی ہے جس کے ذریعے پوری کہانی بیان کی جاتی ہے۔ اس کا نام بھوانندہ ہے، جو اپنے مشن کے لیے لوگوں کو منظم اور بھرتی کرتا ہے۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک نوجوان مہندر سے ہوتی ہے۔ بھوانندہ اسے وندے ماترم کے معنی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب تک اس ملک سے ملچھوں (مسلمانوں) کو نکال نہیں دیا جاتا، نہ تیرا دھرم محفوظ رہ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے مذہب پر قائم رہنا ممکن ہے۔ اس پر مہندر سوال کرتا ہے کہ کیا تم تنہا ہی مقابلہ کرو گے؟ بھوانندہ جواب دیتا ہے کہ تیس کروڑ آوازیں بلند ہوں گی، ساٹھ کروڑ ہاتھوں میں تلواریں لہرائیں گی، تو کیا اتنی قوت کے ہوتے ہوئے بھی ہماری ماتا کمزور رہے گی؟ یہی وندے ماترم کا تیسرا بند ہے۔
مہندر کو اس جواب سے بھی اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ وہ بھوانندہ سے کہتا ہے کہ مسلمانوں کی قوت ان کی کاہلی اور سستی ہے، جبکہ انگریز میدانِ جنگ سے نہیں بھاگتا، چاہے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ مگر مسلمان، اس کے بقول، بزدل ہے، معمولی خطرہ دیکھتے ہی پسپا ہو جاتا ہے اور پسینہ آتے ہی بھاگ نکلتا ہے۔ اگلی صبح بھوانندہ مہندر کو آنند مٹھ لے جاتا ہے، جو اسی ناول کا عنوان بھی ہے۔ مندر کا برہمچاری مہنت مہندر کو اندر لے جاتا ہے۔ مندر نیم روشن ہوتا ہے، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ تاریکی میں ڈوبا ہوتا ہے۔ مہندر مندر کے اندر داخل ہو کر دیکھتا ہے کہ وشنو کی ایک عظیم الشان مورتی نصب ہے، جس کے ایک ہاتھ میں سنکھ، دوسرے میں کڑا، تیسرے میں ڈنڈا اور چوتھے میں کنول ہے۔ اس کے دائیں جانب لکشمی اور بائیں جانب سرسوتی کی مورتی موجود ہے۔ وشنو کی مورتی کی گود اور قدموں میں خون آلود سر رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ برہمچاری مہنت اس سے پوچھتا ہے کہ تو نے کیا دیکھا؟ مہندر جواب دیتا ہے کہ ہاں، مگر یہ کون ہے؟ برہمچاری کہتا ہے کہ وہ ماتا ہے، وندے ماترم کہو۔ اس کے بعد وہ مہندر کو ایک اور حجرے میں لے جاتا ہے جہاں درگا دیوی کی بڑی اور پُرشکوہ مورتی نصب ہے۔ برہمچاری کہتا ہے کہ ہم تجھے ڈنڈوت کرتے ہیں، اے ماتا درگا! جس کے دس دس ہاتھ ہیں، تو ہی لکشمی ہے جو کنول میں رہتی ہے اور تو ہی دانی ہے، جو ہمیں علم عطا کرتی ہے۔
(وندے ماترم کا چوتھا بند)
اس مرحلے پر مہندر کے اندر ایک واضح تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے لہو میں قسم کھانے کی حرارت دوڑنے لگتی ہے اور وہ اعلان کرتا ہے: میں قسم کھاتا ہوں۔ اس کے بعد ناول کے تیسرے حصے کے آٹھویں باب میں قتل و خون، لوٹ مار اور بربریت کے وہ مناظر بیان کیے گئے ہیں جن سے ہندو ویروں کے اندر ماتا کی سیوا کا ایسا جنونی جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کر دیتے ہیں۔ مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے ہر سمت بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ چاروں طرف شور و غوغا برپا ہے،“مسلمان کو مارو، لوٹو”کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، اور وندے ماترم کا نعرہ فضا میں گونج رہا ہے۔ ماتا کے سیوکوں سے وہ بات کہلوائی جا رہی ہے جو دراصل اس ناول کی اصل غرض و غایت کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے: بھائی، وہ دن کب آئے گا جب ہم مسجدوں کومسمار کریں گے اور ان کی جگہ رادھے اور مہادیو کے مندر تعمیر کریں گے۔ ناول کے اختتام پر آنند مٹھ کا ہیرو اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے:“اب انگریز آ گئے ہیں، ہماری جان و مال کو امان ملے گی۔“
اس ناول کا یہ جملہ نہایت توجہ طلب ہے۔ جس ناول میں انگریزوں کی آمد کو خیر مقدم کیا جائے، انہیں امن و تحفظ کی ضمانت دی جائے، اور اسی ناول کے گیت کو آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک بھر میں فروغ دیا جائے، تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ آخر وندے ماترم کی ترویج کا جواز کیا ہے؟ اسی بنیاد پر مسلمان اس بات کے حق دار ہیں کہ وہ وندے ماترم نہ پڑھیں اور اس کے پڑھے جانے کے وقت احتراماً کھڑے ہونے سے بھی انکار کریں۔ اس متنازعہ گیت کی مخالفت میں یہی جذبہ کارفرما ہونا چاہیے۔
وندے ماترم میں ملک کو درگا کے قالب میں پیش کر کے اس کے سامنے سر جھکانے کا اعلان کیا گیا ہے، جو اسلامی نقطہ نظر سے عقیدے اور ایمان کے سراسر منافی ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے اسے قبول کرنا ممکن نہیں۔ بنگالی ناول آنند مٹھ کے مسلم دشمن پس منظر کی روشنی میں وندے ماترم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس دور میں نوجوان نسل کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے اس ترانے کو بطور ذریعہ استعمال کیا گیا۔ ایک مندر میں درگا دیوی کی مورتی کے سامنے ایک ہندو نوجوان سے عبادت کے انداز میں یہ ترانہ پڑھوایا جانا اس بات کو پوری طرح آشکار کر دیتا ہے کہ اس گیت کا خالص مذہبی پس منظر مسلمانوں کے عقائد سے ہم آہنگ نہیں۔ اسی وجہ سے آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی وندے ماترم متنازعہ ہی رہا۔ یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس کے لازمی نفاذ پر پابندی عائد کر دی تھی۔
مسلمانوں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ ملک کے ہر ذرے سے محبت کرتے ہیں، مگر اس کی پرستش نہیں کر سکتے، اور نہ ہی اسے ہندو دیومالا کے دائرے میں قبول کر سکتے ہیں۔ وندے ماترم میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ اسلامی فکر اور عقیدے پر براہِ راست ضرب لگاتا ہے، اس لیے کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ماہرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وندے ماترم آزادی کے متوالوں کا گیت تھا، مگر یہ دعویٰ تاریخی طور پر درست نہیں۔ یہ نہ آزادی کے متوالوں کا گیت تھا اور نہ ہی راشٹر گان۔ مشہور شاعر اسد اللہ خان غالب اور دیگر مؤرخین کے مطابق 1857 کی تحریکِ آزادی کے حامیوں میں صرف دہلی میں پچپن ہزار علماء اور دیگر مسلمانوں کو انگریزوں نے پھانسی دی، مگر ان میں کوئی بھی وندے ماترم پڑھنے والا نہیں تھا۔
تحریکِ آزادی میں شامل لوگوں میں کوئی کلمہ گو تھا، کوئی گرو نانک کو یاد کرنے والا، کوئی ہندو تھا تو وہ ماں بھوانی کا نام لیتا تھا۔ یہ سب اپنے اپنے مذہبی پس منظر کے مطابق نعرے لگاتے تھے۔ مگر یہ کہنا کہ وندے ماترم آزادی کا نعرہ تھا، سراسر غلط اور تاریخ سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اگر کوئی نعرہ حقیقی معنوں میں آزادی کا ترجمان تھا تو وہ“انقلاب زندہ باد”اور“سرفروشی کی تمنا”جیسے نعرے تھے۔
وندے ماترم وطن پرستی کا پیمانہ نہیں ہے۔ ایک شخص اپنے مذہب پر مکمل عمل کرتے ہوئے بھی سچا وطن پرست ہو سکتا ہے۔ اصل وطن پرستی ایمان داری، اخلاص اور ملک کی ترقی و خوشحالی کی خواہش میں مضمر ہے۔ وندے ماترم گانے والوں میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو بدعنوانیوں میں ملوث ہیں، مگر انہیں کوئی سوال کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وندے ماترم کا مسئلہ مسلمانوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جو ان کی عزت، وقار اور عقیدے پر حملہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے کسی بھی حال میں وندے ماترم پڑھنا جائز نہیں ہو سکتا۔
✍️اس قلم: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا