بہن کا حق غصب کرنے والے بھائی—سنبھل جاؤ!

تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی (صدائے قلم)

__________________________

کچھ بھائی بڑے فخر سے ماتھے پر سجدوں کے نشان سجائے، ہاتھ میں تسبیح تھامے مسجد کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں، لیکن جب گھر لوٹتے ہیں تو ان کی تجوریاں اپنی ہی بہنوں کے خون پسینے کی کمائی اور ان کے وراثت کے حق سے بھری ہوتی ہیں۔

یاد رکھو! بہن کی وراثت کوئی خیرات یا بھیک نہیں ہے جو تم اپنی مرضی سے اسے دو یا نہ دو، بلکہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا مقرر کردہ وہ حق ہے جسے ہڑپ کرنا براہِ راست اللہ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔

بہنیں عموماً حیا اور مروت میں خاموش رہتی ہیں، وہ نہیں چاہتیں کہ بھائی سے تعلق خراب ہو، لیکن بھائی اس خاموشی کو اپنی جیت سمجھ لیتے ہیں۔ کیا تم بھول گئے کہ تم جس مال پر سانپ بن کر بیٹھے ہو، وہ کل تمہارے لیے جہنم کا ایندھن بنے گا؟ تم اپنی اولاد کو وہ رزق کھلا رہے ہو جس میں تمہاری یتیم یا بے سہارا بہن کی آہیں شامل ہیں۔

تنبیہ:

اگر تم نے دنیا میں بہن کا حق مار کر اسے "محروم" کر دیا، تو کل قیامت کے دن اللہ تمہیں اپنی رحمت سے محروم کر دے گا۔ بہن کا حق مارنے والا بھائی چاہے کتنے ہی حج کر لے یا کتنی ہی تسبیحاں پڑھ لے، وہ ظالم ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

ابھی وقت ہے، توبہ کرو اور اپنی بہنوں کو ان کا جائز شرعی حق ان کے گھر جا کر عزت کے ساتھ دے کر آؤ، اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ تمہارا گریبان پکڑ لے۔

شعر:

بہن کا حق دبا کر تم بنے بیٹھے ہو جو "مسعود"

جہنم کی دہکتی آگ میں جلنا پڑے گا تم کو