موبائل ایک سم قاتل

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 


        ہمارے معاشرے کو جن چیزوں نے تباہ وبرباد کیا ان میں ایک اہم کردار ملٹی میڈیا موبائل کا غلط استعمال ہے،یہ تباہی گھر گھر وائرس کی طرح پھیل چکی ہے-

نسل نو میں موبائل کی بیماری زور پکڑتی جارہی ہے،سماج ومعاشرہ ایک نئی کروٹ لے رہا ہے، پرانی روایت وسادگی دم توڑتی ہوئی نظر آرہی ہے،
آپسی رواداری ،محبت وتعلق ،ادب واحترام ،فرمانبرادی ،سمع وطاعت ،برداشت کی صلاحیتں مفقود وعنقا ہوگیا ہے-

       انٹرنیت کا استعمال اس قدر ترقی پر ہےکہ ہرسال نیٹ وریچارج مہنگا ہو رہاہے،کوئی گھر بھی اس وبا سے محفوظ نہیں ہے،بعضے گھر وہ ہیں جہاں سبھی افراد کے ہاتھوں میں وبا نظرآتی ہے،بچوں پر اس کا خاصہ برا اثردیکھنےکو مل رہاہے،وہ معصوم بچے جنہیں صحیح سے کھڑا ہونا نہیں آیا وہ بھی اس میں ملوث ہیں،اور اپنے معصوم ذہنوں کو واہیات چیزوں سے خراب کررہے ہیں، میرے علم میں کئی گھر ایسے ہیں جہاں اس موبائل کی وجہ بچے اپنے بڑوں کی باتوں کو ان سنی کر جاتے ہیں ،اور ہمارے بڑے اس کو شفقت بھرے لہجہ میں نظر انداز کر جاتے ہیں کہ یہ ابھی بچہ یے جب کہ مستقبل میں یہ ایک چیلینج بن سکتاہے-

       فلمی ڈرامے،اداکاروں کی ادا کاری ہمارے بچوں کو ہمشیہ یادرہتے ہیں، ان کے نام اور سوانح حیات سے اچھا خاصا واقف ہوتے ہیں مگر وہیں اسلام کے سپوت ،قائد ورہبر کے اسماء گرامی اور مقدس شخصیات کی سوانح عمری سے نابلد و ناواقف ہوتے ہیں-

     رمضان میں ایک گھر میں جانا ہوا میں نے وہاں نو زائیدہ بچے دیکھے ،میں نے ان کا نام پوچھا تو انہوں نام بتایا جو کہ ایک مشہور اداکار کے بیٹے کا نام ہے،جس کالغت کے اندر کوئی بھی معنی نہیں ہے،اور اسی طرح دوسرے بچے کانام تھا ،میں نے ان سے پوچھا کہ یہ نام کس نے رکھا تو بتایا کہ ان کے والد نے رکھا میں نے اس کو تبدیل کرنے کے لئے کہا پراس کے والد تیار نہیں ہوۓ ،یہ حال ہوگیا ہے امت مسلمہ کا ،یہی وجہ ہےکہ آج ہمارا معاشرہ تعلیمی و تربیتی لحاظ سے تنزل و انحطاط کا شکار ہے ،بے راہ روی کا خوگر ہے،دینی شعور ہیچ وفروتر ہوگیا ہے-

      ارتداد کی لہرغیر مسلم سے دوستی کے عوض ایمان فروخت کرنا اخبار کا ایک مرکزی عنوان بن گیا ہے،مرد وعورت کی دوستی ،لڑکا اور لڑکی کے درمیان ناجائز وناروا تعلقات میں بےحد اضافہ ہورہاہے، تعلیم سے دوری ہوری ہے،ہمارے بچے کامیابی سے کوسوں دور ہورہے ہیں ،مزاج میں تلخی شوریدہ پن ،حسب فرمائش اشیاء کا مہیا نہ ہونے پر جو ڈرامہ برپاہورہاہے وہ ہم میں سے کسی سے مخفی وپوشیدہ نہیں ہے، یہ ایسی چیزیں ہیں جس کا ہم اور آپ اپنے گھروں میں مشاہدہ کررہے ہیں -

   موبائل دشمنان اسلام صلیبی وصیہونی چالبازیوں کا ایک بہترین ہتھیار ہے جس نے امت مسلمہ کو ایک ایسی کھائی میں ڈال دیاہے ،جہاں ان کے ایمان بدبو دار کیچڑ سے آلودہ ہورہے ہیں ، بزدلی وبخیلی جیسی کمزوری امت پر قدغن لگارہی ہے، بدنظری کی وجہ سے زناکاری ،بدسلوکی اور عورتوں کے ساتھ غیر اخلاقی عمل کا صدور بکثرت ہورہاہے، یہ سب ہمارے ایمان پر خطرناک حملہ ہے، ہمارے کئی نوجوان بھائی ،بہن رات کا اکثر حصہ موبائل بینی اور غیر محرم سے گفت وشنید میں صرف کررہے ہیں-

       موبائل نے جہاں دور کے لوگوں کو قریب کیا ہے وہیں قریب کے لوگوں کو دور کردیاہے،
جس کی وجہ سے روحانی طاقتیں تو ختم ہوہی رہی ہے جسمانی طاقت بھی اب پسماندگی کا شکار ہے -

      موبائل میں نفع ہے اس سے انکار نہیں مگر وہ" واثمھما اکبر من نفعھما "(نفع کم نقصان زیادہ)کے درجہ میں ہے،اس لیے امت مسلمہ کے تمام افراد سے یہ گزارش ہیکہ اپنی نسل نواورنونہالوں کو یہ ہتھیار نہ پکڑائیں بھلے لاکھ وہ ضد کریں مگر یہ ضد ان کی ہرگز پوری نہ کریں ،بلا وجہ اس کے استعمال سے خود بھی گریز کریں ورنہ نتائج منفی آئیں گے-

اللہ ہمیں ہدایت دے،اور اور دین واسلام کا محافظ وپاسبان بناۓ آمین