یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
زمانہ جس برق رفتاری کے ساتھ قدیم عادات و اطوار ،طرز زندگی ،رہن سہن کو محو کررہاہے وہ قابل غور اور لائق توجہ ہے
بڑھتی عمر کےساتھ لوگوں میں ایک خاص قسم کی تبدیلی نظر آرہی ہے ، لوگوں کےجذبات وخیالات،افکار ونظریات میں جوتبدیلی عیاں ہورہی ہے وہ یقینا باعث تشویش ہے-
گردش زمانہ نے گرچہ بہت سی چیزوں میں جدت وندرت اختیار کی ہے،جن میں سےکچھ چیزوں میں یہ تغیرات قابل داد اور لائق تحسین ہے ،
پر بیشتر چیزوں میں ایسی تبدیلی مضر اور نقصان دہ ہے ، اس سے لوگوں کی باطنی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، باطنی روشنی تاریکی میں تبدیل ہورہی ہے پر ہمیں اس کا احساس وادراک نہیں ہے-
بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے سے قدیم اچھی عادتیں بدل کر جدید بری عادتیں پیدا ہورہی ہیں ،جس کی وجہ سے لوگوں کے اندرذہنی وفکری انتشار بہت زیادہ پایا جاتاہے ،صبر وسکون ختم ہوگیاہے ،اعتدال و میانہ روی مفقود ہورہی ہے ،رقت شدت میں بدل رہی ہے ،لوگ قساوت قلبی کا شکار ہورہے ہیں، محبت نفرت میں تبدیل ہورہی یے ،لوگ بدیہی خداۓ واحدکے منکر ہورہے ہیں ،جس سے الحاد ودہریت پھیل رہی ہے-
باہمی ملاقات جو کبھی خلوص ووفا کی علامت ہوتی تھی اب اغراض ومقاصد پہ مبنی ہوگئی ہے ،ہر شخص باہم ملاقات وتعلقات سے راہ فرار اختیار کرناچاہتاہے -
حرص وطمع کا یہ حال ہے کہ کسی کو بھی بقدر ضرورت سامان پر قناعت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھارہاہے ،
گویا ہر اچھی عادتوں میں تنزل وانحطاط وافر مقدار میں پایا جاتاہے جو تاریک مستقبل اور انسانیت کے لیے خطرہ کا ایک نقشہ عیاں کرتاہے-
انہیں اچھی عادتوں میں سے ایک تعلیم تعلم اور کتابوں سے عشق کی کمی اور علماۓ دین سے دوری بھی ہے ،لوگ علمی بحران کا شکار ہیں -
لوگ پڑھنے سے جان چھڑاتے ہیں, تھوڑی تحریر لمبی ہوجاۓ تو کہتے ہیں مختصر لکھیے ،پڑھنے سے اکتا جاتے ہیں، تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، کیا زمانہ تھا جب لوگ قلم کاپی اورکتاب لے کر سفر اور کھلی فضا میں نکلتے تھے اور پوری کی پوری کتاب اسی میں ہی پڑھ لیتے تھے،
لوگوں میں مطالعہ کا شوق تھا ،یہی سامان دل لگی تھی، ایک زمانہ تھا جب لوگ تنہائی کتابوں کے مطالعے کےلیے ڈھونڈتے تھےتاکہ اطمینان قلبی ویکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرسکے وعلمی تشنگی کو بجھا سکے جہالت کو دور کرکے واقفیت کو اختیار کرسکے-
پر آج تنہائی دوسرےاغراض ومقاصد کےلیے ڈھونڈی جاتی ہے،کتب خانہ ویران ہے ،تنہائی سے پریشان ہے ،
وہ چاہتا ہے کہ ہمیں بھی کوئی ہمنشیں ملے جو میری آغوش میں پناہ گزیں ہو ،مجھ سے باتیں کرے، مجھ سے سوال وجواب ہو ،مجھ سے دل لگی ہو-
کتابوں کے اوراق گرد وغباراور گندگی سے پریشان ہے ،وہ چاہتا ہے کہ کوئی میری صفائی کرے،میرا خیال رکھے ،میرے کپڑے تبدیل کرے ،مجھے پڑھے،مجھے سمجھے مگر پڑھنا تو در کنار کوئی دھول صاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہے -
کتابیں بیمار وبوسیدہ ہیں علاج اور درست کرنے کےلیے کوئی تیار نہیں ہے،کتابوں کے بوسیدہ اوراق اپنے پراگندہ و افگندہ حال سے دکھی ہے،کتابیں پھٹے پرانے لباس وجلد سے بدبو محسوس کررہی ہیں، لوگ پڑھنے کےلیے تیار نہیں،وہ کسی کے ہاتھ سے لمس کاشاکی ہے پر کوئی اس کو چھونے کےلیے تیار نہیں ہے ،صفحات کے خستہ حالی کی وجہ سے یہ کتابیں صدا لگارہی ہے آؤ میری حالت پہ رحم کھاؤ!
مجھے دیکھو !تو سہی میرا کیا حال ہوگیاہے
گویاوہ کہ رہی ہےلوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ مجھ سے وصال وقرابت کےبجاۓ فراق وجدائی چاہتا ہے ،کیا انہیں میری ضرورت نہیں ،کیا انہیں عقل وشعور ،فہم وفراست کی بالیدگی ،قوم کی بالادستی نہیں چاہیے ،کیا وہ مجھے پڑھ کر ، میرے سمندر میں ڈوب کر ماضی کی یادیں تازہ کرنا نہیں چاہتا،کیا انہیں اپنے زوال اور کمزوری کا سبب معلوم کرکے تفوق اور قدر ومنزلت نہیں چاہیے -
کیا انہیں سلیقۂ حیات نہیں چاہیے،کیا انہیں معلوم نہیں کہ رب کریم نے زمین کی سلطنت وحکومت،قوت وطاقت ،شان وشوکت اور کروفر علم وعمل کی بنیاد پردیتاہے،فرشتے قوت وطاقت میں انسان سے بدرجہا اعلی ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نےآدم علیہ السلام کو زمین کا نائب وخلیفہ بنایا آدم علیہ السلام کو یہ مقام علمی تفوق کی بنیاد پر ملا-
کیا لوگوں کو قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون کی نداۓ الہی اور صداۓ قرآنی یاد نہیں ،کیاانہیں یرفع اللہ الذین آمنو منکم والذین اوتو العلم درجات کی صداقت پہ یقین و اعتماد نہیں ؟
کیا انہیں طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ،العلماء ورثۃ الانبیاء ،اور اطلب العلم من المہد الی اللحد جیسےفرمان مصطفیٰ کی گونج سنائی نہیں دیتی ہے ،کیاوہ قوم سابقہ قوم کے حالات سے سبق نہیں لیتی -
لوگو سنو!
کتابیں ہمارا سرمایہ ہے نسل نو کی امانت ہے ہم اس امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ؟
بڑے تف کی بات ہےجس قوم کی پہلی وحی اقرأ سے شروع ہوئی ہے وہ قوم آج تعلیم کی میدان کیوں کر پیچھے ہے ؟کیا دنیاوی مصروفیات نے ہمیں غلام بنارکھا ہے ؟
صحیح بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے حقیقی سرمایہ کھوتے چلے جارہے ہیں ہمیں احساس تک نہیں ،یہ ہمیں کیاہوگیاہے ،ہمیں شعور کی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے ،تعلیمی وتاریخی میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے زیور علم سے آراستہ ہونے کی ضرورت ہے -
آج سب سے زیادہ جہالت ونادانی مسلمانوں میں پائی جارہی ہے ،کم علمی کی وجہ سے ان کی زندگی کھنڈرات سے بھی بدتر ہوگئی ہے ،علم کا شوق ختم ہوگیا ہے،وپ جہالت کے قعر مذلت میں گرتے چلے جارہے ہیں جوکہ مستقبل میں اور زیادہ زبوں حالی کا اشارہ ہے -
اگر اس میں تبدیلی نہیں لائی گئی تو کچھ زمانے کے بعد وہ اپنی بنیادی شناخت بھی کھودیں گے-
فی زماننا کتابوں سے دوری بڑھتی جارہی ہےپر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو مطالعہ کو روح کی غذا سمجھ رہےہیں ،اس کے مطالعہ کو بہترین مصروفیت سمجھتے ہیں ہیں ،اور کتابوں کو عمدہ ترتیب دے کر گھر کی خوبصورتی کو دوبالا کررہے ہیں-
لیکن یہ صدی گزرنے کے بعد کتابوں سے عشق اور اسکا مطالعہ لوگوں کے لیے تعجب خیز چیزیں ہوگی ،کتابوں کے مطالعہ کو بے سود سمجھیں گے اور اسے پرانا رسم تصور کریں گے اسلیے کہتا ہوں کہ کتابوں کی یہ مہک آخری ہے یہ خوشبو آخری ہے یہ دل لگی بھی آخری ہے
بقول شاعر
ع
کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی