مشہور ہونا دین نہیں! علم و عمل کے بغیر شہرت زہرِ قاتل

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

یقیناً یہ ایک نہایت خطرناک اور الم ناک حقیقت ہے کہ آج کے دور میں دینی اور علمی میدان کو بھی سوشل میڈیا کی چمک دمک اور وقتی شہرت نے آلودہ کر دیا ہے۔

اب نہ مستند علم کی پیاس بجھانے کی فکر ہے، نہ بزرگانِ دین کی صحبت اختیار کرنے کا ذوق، نہ اپنی اصلاح و تربیت کی تڑپ، نہ دین کی خدمت میں محنت و مشقت کا جذبہ۔ بس چند کلپس، چند فالوورز، چند وائرل ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر بنے ہوئے مصنوعی تعارف کو ہی کمالِ دینداری سمجھ لیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں ایسے افراد سامنے آتے ہیں جن کے پاس نہ قرآن و حدیث کی گہری سمجھ ہے، نہ فقہی بصیرت، نہ اخلاقی تربیت، مگر پھر بھی وہ بڑے بڑے منبروں اور اسٹیجوں پر براجمان ہوکر عوام کے ایمان و عقیدے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اور افسوس کہ معاشرہ بھی انہی کے پیچھے لپکتا ہے۔

یہ طرزِ عمل دین کے ساتھ کھلا کھیل ہے، یہ امت کی نسلوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہے، یہ ایمان و عقیدے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

 دین میں سوشل میڈیا کے فالوورز معیار نہیں، مستند علم و عمل معیار ہے۔

 مشہور ہونا دین داری نہیں، بلکہ دین پر محنت اور اخلاص اصل ہے۔

 بغیر تربیت و اجازت کے رائے دینا اور وعظ کرنا صرف دین کا مذاق ہے۔

اگر یہ روش نہ روکی گئی تو کل ہر جاہل، ہر کم علم، ہر شہرت کے بھوکے افراد "رہبرِ ملت" کہلائیں گے، اور امتِ مسلمہ کے سامنے اصل علماء کی حیثیت پسِ پشت ڈال دی جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس صرف مستند علماء اور صلحاء کی طرف رجوع کریں، اور سوشل میڈیا کی مصنوعی شہرت کے فریب میں نہ آئیں۔ ورنہ نقصان صرف ذاتی نہیں ہوگا، بلکہ پورے دین اور امت کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگا۔