درود پاک کی تلاوت قرب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ ہے

✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درودِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم وہ نورانی نسبت ہے جو مومن کے باطن کو قرآن کی خوشبو اور حدیث کی روشنی سے غسل دے دیتی ہے۔ جب زبان پر اللّٰہم صلِّ علیٰ محمد آتا ہے تو دراصل دل سیرتِ محمدی کے دریا میں غوطہ زن ہوتا ہے اور وہاں سے پاکیزگی، ادب اور وفا لے کر نکلتا ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے کہ أن اللّٰه وملائكته يصلّون على النبي يا أيّها الذين آمنوا صلّوا عليه وسلّموا تسليما یہ آیت اعزاز ہے۔ بندۂ مومن کو اُس صف میں کھڑا کر دینا ہے جہاں ربِّ کائنات اور ملائکہ بھی درود میں مشغول ہیں۔ جو اس صف میں شامل ہو گیا وہ محرومی کے اندھیروں میں کیسے بھٹک سکتا ہے؟
حدیث اس نسبت کو قرب کی زبان عطا کرتی ہے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہوگا یہ قرب کیفیتوں سے ناپا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
درود کی کثرت دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بیدار کرتی ہے اور محبت اطاعت کو جنم دیتی ہے یوں قرب ایک حقیقت بن جاتا ہے۔۔۔۔
درود پڑھنے والا دراصل اپنے اعمال کو بھی غسل دیتا ہے۔ حدیث میں آیا کہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے رحمت کی یہ بارش گناہوں کی گرد دھوتی ہے، دل کے زنگ اتارتی ہے،ل اور مومن کے قدموں کو صراط مستقیم پر جما دیتی ہے۔۔۔۔
لہٰذا درود وہ دریا ہے جس میں اتر کر دل نرم ہوتا ہے، نگاہ پاک ہوتی ہے اور زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو بس جاتی ہے۔ جو اس دریا سے رشتہ جوڑ لے وہ صرف ثواب کے ساتھ ساتھ قربِ مصطفیٰ بھی پا لیتا ہے اور یہی قرب ایمان کی سب سے بڑی دولت ہے۔۔۔۔