*بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرحیم*
 
*نئے سال کے جشن میں فلسطین کو مت بھول جانا* 
نیا سال آتا ہے آتش بازی ہوتی ہے مبارک بادوں کے پیغام چلتے ہیں، خوشیوں کے نعرے لگتے ہیں مگر عین اسی لمحے فلسطین کے آسمان پر بارود برس رہا ہوتا ہے معصوم بچوں کی چیخیں فضا چیر رہی ہوتی ہیں، اور مسلمان دنیا خوابِ غفلت میں ڈوبی ہوتی ہے۔
یہ مسلمان آج سے پہلے کبھی اتنا بے حس نہیں تھا جتنا آج ہے،
کبھی اتنا بزدل نہیں تھا جتنا آج ہے،
کبھی اتنا عیاش اور مطلبی نہیں تھا جتنا آج ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجیے، کہیں نہ کہیں غم ہو گیا ہے *مسلماں۔* 
آج نہ ہمیں معصوم بچوں کی تڑپ دکھائی دیتی ہے
نہ عورتوں کے سروں سے چھنتی ہوئی چادریں ہمیں بے چین کرتی ہیں۔
حالانکہ یہی وہ معصوم بچے ہیں جنہیں آقا ﷺ اپنی گود میں بٹھاتے تھے، جن کے گالوں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے تھے۔
آج انہی بچوں کی فلسطین میں چیخ و پکار میرے آقا ﷺ کے دل کو چھلنی کر رہی ہوگی

اور وہ عورت جس کے سر سے چادر چھننے پر بنو قینقاع کا محاصرہ کیا گیا
آج اسی عورت کی بیٹیاں فلسطین میں سر برہنہ کی جا رہی ہیں
مگر اُمت خاموش ہے۔
ہائے افسوس
 *اُمت اُمت نہ رہی* 
کہاں ہیں وہ نوجوان جو عبداللہؓ کی طرح دعا کر سکیں کہ
اے اللہ تیری راہ میں میرے جسم کے ٹکڑے کر دیے جائیں،
اور جب تو پوچھے کہ عبداللہ کیا ہوا؟
تو میں کہوں ربّ تیرے دین کی خاطر کاٹا گیا ہوں
کہاں ہیں وہ مائیں جو اُمِّ عمارہؓ کی طرح اپنے بیٹے کے جسم کے ٹکڑے دیکھ کر کہہ سکیں
 *اسی دن کے لیے تو نے دودھ پیا تھا* 
کہاں ہیں وہ بچے جو حضرت بشیرؓ کی طرح اپنے باپ کو شہادت کے لیے رخصت کریں؟
آج جب نظر دوڑاتے ہیں تو نظریں تھک کر لوٹ آتی ہیں
ایسا کوئی نظر نہیں آتا
بلکہ اس کے برعکس ایک اور ہی منظر ہے
نوجوان ہیں مگر بے قابو نفس کے ساتھ،
بے حیا جوانی کے ساتھ
جان اور مال کی محبت میں ڈوبے ہوئے۔
لڑکیاں ہیں عورتیں ہیں
مگر کافروں کو دل دے بیٹھی ہیں،
جو آنسو مصلیٰ پر گرنے تھے،
وہ حرام محبت میں بہہ رہے ہیں،
عاشق کے چھوڑ جانے پر نکل رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں
ہماری اُمت کی بہنیں بانجھ ہو گئی ہیں (معذرت)
اس لیے نہیں کہ وہ اولاد پیدا نہیں کر سکتیں،
بلکہ اس لیے کہ اب ان کی کوکھ سے
نہ صلاح الدین نکلتا ہے
نہ محمد بن قاسم
نہ عمر بن خطاب 
نہ علی و حمزہ جیسے شیرِ خدا
نہ خالد بن ولید جیسا سیفُ اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین 

آج کی مسلمان ماں ایسی اولاد دینے سے قاصر ہے
اسی لیے کہتا ہوں
اُمت کی بیٹیاں بانجھ ہو گئی ہیں۔
نئے سال کے جشن میں فلسطین کو مت بھول جانا
کیونکہ جو اُمت اپنے زخمی جسم کو بھول جائے
وہ زندہ نہیں رہتی 
وہ صرف سانس لیتی ہے
میرے بھائیوں دنیا میں بڑھتا ظلم ہم سے سوال کر رہا ہے ہم اُمت ہیں يا صرف ہجوم ہیں 
 *اللہ مرنے سے پہلے اس بےحسی پر توبہ نصیب فرمائے* 

 ✍🏻*از قلم عاقب شیخ غلام محمد دھولیہ مہاراشٹر*