*خود فراموشی اور خدا فراموشی*

سال نو کی آمد کی خوشیاں لوگ دھوم دھام سے مناتے ہیں لیکن ہم غور کرتے ہیں تو یہ وقت خوشی سے زیادہ غم کا ہے ، یہ ساعت جشن و مسرت نہیں، بلکہ لمحہ عبرت و موعظت ہے، کیونکہ مرور ایام سے ازدیاد عمر نہیں بلکہ عرصۂ حیات تنگ ہوجاتاہے اور مقررہ عمر میں کمی ہوجاتی ہے، اس لئے سال نو کی آمد غفلت شعار طبیعتوں کے لئے صور انتباہ اور خوابیدہ اذہان کے لئے بیداری کا الارم ہے، نہ کہ سر مستی و عیش کوشی کا پیغام یہ وقت ہے کہ ایک مومن کی جبیں خدا کی چوکھٹ پر خم ہو کہ تونے میرے بہت سے ہمعمروں کو اٹھا لیا اور مجھے اپنی مہلت سے سرفراز کیا اس لئے تیرے دربار عالی میں شکر و امتنان کے جذبات پیش کرتا ہوں، یہ وقت ہے کہ خدا کے حضور التجاء و الحاء کے ہاتھ اٹھیں کہ خدایا میرے مستقبل کو میری ماضی سے بہتر فرما، میری نامرادیوں کو کامیابیوں سے اورمیری پستیوں کو بلندیوں سے بدل دیں، خاص کر مسلمان اس وقت پورے عالم میں خدا سے غفلت شعاری دنیا اور متاع دنیا کی محبت کی جو سزا پارہے ہیں اس پس منظر میں پوری امت کو عالم اسلام اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کی دعاء کرنی چاہیے۔ لیکن صد حیف اور ہزار بار افسوس! کہ عبرت پذیری اور موعظت انگیزی کی اس ساعت کو ہم نے عیش کوشی، خود فراموشی اور خدا فراموشی کی ساعت بنا لیا ہے محمد ساجد قاسمی *سہارنپور