✍️ محمد سعد جونپوری
کون ہے جو میرے دل کی آواز سنے؟
کون ہے جو میرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دے؟
کون ہے جو مجھے سمجھائے کہ نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں؟
کون ہے جو میری ذہنی الجھن کو دور کرے؟
کون ہے جو میری تعلیمی رہنمائی کرے؟
میں کس کے پاس اپنا افسردہ دل لے کر جاؤں؟ کس کے پاس اپنی ذہنی الجھنیں لے کر جاؤں؟
کون میری مدد کرے گا؟
کون مجھے یہ بتائے گا کہ ناامیدی اسلام میں کفر ہے؟
پچھلے چند دنوں سے ذہنی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔
ذہن میں سوالات کا ہجوم ہے،
کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ کیا پڑھوں؟ کیا لکھوں؟ کیا سنوں؟
یہ سوالات میرے ذہن و دل پر چھائے ہوئے ہیں۔
یہاں تک کہ بعض لوگوں کی باتوں اور شکایتوں کی وجہ سے اب یہ بھی سوچنے لگا ہوں کہ کیا کھاؤں؟ کیا پیؤں؟
کبھی دل چاہتا ہے کہ اپنی ساری توانائی، سارا وقت اور ساری طاقت ان چیزوں کو حاصل کرنے میں صرف کر دوں جو ماضی میں مجھ سے چھوٹ گئیں۔
کبھی دل چاہتا ہے کہ عربی اول سے لے کر عالیہ اولیٰ تک کی تمام کتابیں ازسرِنو پڑھوں، تاکہ ہر چیز ازبر ہو جائے اور جو فوت ہو چکا ہے، وہ واپس مل جائے۔
کبھی دل چاہتا ہے کہ تفسیرِ قرآن کے لیے خود کو وقف کر دوں، اور دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ دوں۔
کبھی دل چاہتا ہے کہ ادب پر وقت صرف کروں،
کبھی دل کہتا ہے کہ فقہ کو زندگی کا معمول بناؤں، کیونکہ عوام کے بیچ جانا ہے۔
کبھی دل کہتا ہے کہ انگریزی بھی وقت کا تقاضا ہے۔
کبھی دل کہتا ہے کہ مضمون نگاری بھی ضروری ہے۔
کبھی دل کہتا ہے کہ عوام کو راہِ راست پر لانے کے لیے، ان کی اصلاح کے لیے خطابت سیکھنا لازم ہے۔
کبھی دل کہتا ہے کہ غیر درسی مطالعے کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔
یہ کشمکش دل و دماغ کو اندر سے کھائے جا رہی ہے۔
وقت بھی اپنی رفتار سے گزرتا جا رہا ہے۔
لیکن فیصلہ کچھ نہیں ہو پا رہا۔
ان تمام سوالات اور اضطرابات کے درمیان ایک حقیقت بار بار میرے دل کو جھنجھوڑتی ہے،
اگر میں منتشر رہا تو کوئی بھی راستہ مجھے منزل تک نہیں لے جائے گا۔
تب ایک آواز میرے باطن سے ابھرتی ہے،
عمل کا ایک لمحہ بے عمل سوچ کے سالوں سے بہتر ہے
یقینی بات ہے کہ مکمل نقشہ کبھی ایک ساتھ ہاتھ نہیں آتا۔
قدم بڑھانے سے راستے کھلتے ہیں۔
لہٰذا پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے۔
چاہے وہ قرآن کی تفسیر ہو،
یا ادب کا مطالعہ ہو،
یا فقہ کی بنیاد ہو۔
اللہ نے جو استعداد دی ہے، اس کا سوال ہوگا، اور اس پر اجر بھی ملے گا۔
جو تھک کر بیٹھ گئے وہ منزل نہ پا سکے
جو چلتے رہے، وہ ستاروں پر کمند ڈال آئے۔