نسیم حسین لکھیم پوری





دنیا میں دو قسم کا کیلنڈر رائج ہے ۔ایک ہجری کیلنڈر اور دوسرا عیسوی کیلنڈر ، مسلمانوں کا اصلی کیلنڈر عیسوی نہیں ہجری ہے ۔اسلامی نئے سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور ذی الحجہ پر مکمل ہوتا ہے۔جب کہ عیسوی کیلنڈر جنوری سےشروع ہوکر دسمبر پر تمام ہوتا ہے۔
عیسوی کیلنڈر تو عام وخاص سبھوں کو خوب یاد رہتا ہے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہمیں اسلامی تاریخ کا بھی علم بھی نہیں ہوتا 
اس پر غضب یہ کہ ہماری پوری مسلم قوم عیسوی نئے سال کی خوشیاں منانے میں وہ ساری برائیاں کر گزرتے ہیں جو اس رات میں غیر قومیں کرتی ہیں.
 ہر طرف ہیپی نیو ائیر کی صدا ئیںگونجتی ہیں، آتش بازیاں کی جاتی ہیں اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتاہے، جس میں شراب و شباب اورمیوزک و ڈانس کا بھر پور انتظام رہتا ہے۔
یہ غیر کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان بے چاروں کے پاس زندگی گذارنے کا کوئی دستور وضابطہ نہیں مگرمسلمانوں کا یہ عمل چیخ چیخ کراعلان کررہا ہے کہ ہم دین سے دور،نام کے مسلمان اور انگریزوں کی غلامی کاپٹہ ہمارے گلوں میں پڑا ہے۔



کیا ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے نہیں ہرگز نہیں.ہم عیسوی تاریخ سے اپنے کام انجام دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ ہم انگریزوں کی نقالی شروع کردیں.
 
 نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے : ایک ’’ماضی کا احتساب‘‘ اوردوسرے’’آگے کا لائحہ عمل‘‘۔
ماضی کا احتساب:
 کہہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں کہ ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
  ہم نے کتنی عبادات کیں. کتنے نیک کام کئے اور کتنے برے کام کئے.اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔

دوسری چیز آگے ہمیں کیا کرنا ہے اسکا پلان کہ جو غلطیاں ہم سے ہو چکی ہیں ان کو نہیں کرینگے.
دین کے کام میں ماضی سے زیادہ مستقبل میں کرنے کا پختہ ارادہ کریں اور اپنے وقت کو یوں ہی ضائع نہیں کریں گے

     نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے:
اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ،یعنی: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جان لو۔
(۱) شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ ،اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ۔
(۲) وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، اپنی صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے۔
(۳) وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ،اپنی مالداری کو فقروفاقے سے پہلے ۔
(۴)وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ، اپنے خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے۔
(۵)وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ،اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
 

اور یہ بھی عہد کرلیں کہ غیروں کی مشابہت اختیار نہیں کریں گے انشااللہ.
کیونکہ اللہ کے نبی نے ایک موقعہ پر یہ ارشاد فرمایا: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ.
یعنی: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی اتباع اور پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین