💓 تذکرہ افتخار الاولیاء ❤️

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

روز ازل ہی سے نسل انسانی کا سلسلہ جاری ہے ،جس سے مالک کون ومکاں اپنی قدرت کو ظاہر کرتاہے ،طرح طرح کی تخلیقات واختراعات اور ایجادات کرکے وہ رب اپنی ربانیت وخلاقیت کوثابت کرتا اور انہیں موت دیکر اپنی قدرت فنائیت کو ثابت کرتاہے ۔

اس دنیا میں بے شمار مخلوق ہیں ،جس کا احاطہ عقل انسانی سے باہر ہے، سب کی حکمتیں جداگانہ ہیں نوعیتیں مختلف ہیں ،رنگ ونسل ایک دوسرے سےمنفرد ہے۔
انہیں مخلوقات میں ایک انس بھی ہے جنہیں رب العالمین نے اشرف المخلوقات قرارد دیا ہے۔
اللہ پاک انسانوں کو آزماٸش کیلیۓ اس دنیا کی رنگینیوں میں بھیجتا ہے تاکہ وہ دیکھے کون اپنے رب کے مقصد کے عین مطابق زندگی گذارتاہے اور کون اسکو بھلا کر اپنی نفسیات وخواہشات کے مطابق حیات مستعار کو گذار کر انجام بد مستحق بنتاہے_
ان میں بعض مٶمن اور بعض غیر مٶمن ہے ، مٶمن جو اللہ کی اطاعت کو ہی نصب العین اور آخرت کی فوزو فلاح کو زندگی کا حاصل سمجھتاہے ،
 ان میں بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں جوغلفت کا شکار ہوجاتے ہیں-

 بعض مٶمن مقرب عند اللہ ہوتے ہیں جو اللہ کے احکام کے مطابق اپنی حیات مستعار کو بسر کرتے ہیں اور اسکے دین کی ترویج واشاعت کرتے ہیں ، ایسے لوگ اپنی بے مثال خدمت دین کے باعث دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد لوگوں کے دلوں زندہ رہتے ہیں _
انہیں میں ایک نامور شخصیت پیر طریقت، مصلح و مربی، مفسر قرآن ،افتخار الاولیا حضرت جی مولانا مفتی افتخارالحسن صاحب کاندھلوی نوراللہ مرقدہ ہیں، ان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں وہ اپنی ہمہ جہات خدمت کے باعث پوری دنیا کے ہرخاص وعام میں مقبول ہیں، انکے متعلقین و متوسلین اور مریدین دنیا کےطول و عرض میں پھیلے ہوۓ ہیں ، وہ اپنے وقت کے مایہ ناز وصاحب نظر مفسر و محدث تھے، حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ اور حضرت مولانا منظور نعمانیؒ انکے ہم عصر اور ساتھیوں میں سے ہیں ان کی ہمہ جہات خدمات ہیں ، جس کا تذکرہ اسی مضمون کے الگ عنوان کےتحت ہوگا ،
 حضرت والا کے پاس اکابر دارالعلوم دیوبند و مظاہر علوم سہارنپور ودیگر علماۓ کبار کا آمد ورفت کا سلسلہ برابرجاری تھا

ولادت:-

حضرت والا نے 10/1/1922کو مفتی الہی بخش نوراللہ مرقدہ کے علمی خانوادےمیں حیات مستعار کے لیۓ آنکھیں کھولیں ،علمی وروحانی ماحول میں بزرگوں کی گہوارہ میں تربیت پاٸی تھی -

تعلیم وتربیت: -

ابتداٸی تعلیم حافظ رحیم بخش کے پاس کاندھلہ کی جامع مسجد میں حاصل کی ، حفظ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بغیر غلطی کے ایک نششت میں مکمل قرآن مجید سناٸی -

بعدازاں متوسطات کی تعلیم کےلیۓ مدرسہ کاشف العلوم نظام الدین تشریف لے گیۓ ، مگر آب و ہوا کی ناموافقت کی وجہ سے واپس چلے آۓ ،اور بقیہ تعلیم مدرسہ مرادیہ مظفرنگر میں حاصل کی -
وہاں سے درجہ علیا کی تعلیم کے لیۓ مدرسہ مظاہر علوم تشریف کارخ کیا ، اور اپنے زمانے کے اساطین علم وفن علماۓ کرام سے اکتساب فیض کیا ، جن میں نمایاں نام شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ و حضرت مولانا شاہ اسعد اللہ صاحب ہیں ، حضرت ؒ اپنے زمانہ طالب علمی کے واقعات ایسے سناتے تھے گویاکہ آج کا واقعہ ہو حضرت والا کی 1948 میں فراغت ہوٸی - 

تصوف وسلوک :-

حضرت والا زمانہ طالب علمی میں اولا بانی تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ سے بیعت تھے جو کہ حضرت کے بہنوٸی اور بھاٸی ہواکرتے تھے ، انکے سفر وحضر میں ساتھ رہا کرتے تھے ،پھرحضرت بانی تبلیغ کے وصال کے بعدحضرت شیخ کے ایما پرحضرت مولانا شاہ عبد القادر راۓ پوری سے بیعت فرماٸی اور حضرت راۓ پوری نے ان کی زندگی وحالات پر نظر کرتےہوٸی صوفی کا لقب سے ملقب کیا اور شفقت سے صوفی افتخار کہا کرتے تھے -

 حضرت راۓ پوری نے انکے صلاحیت و صالحیت پہ اعتماد کرتے ہوۓ فراغت سے پہلے یعنی 1947 کو ہی اجازت وخلافت سے نواز دیا ،

خدمات:-

فراغت کے بعد اپنے وطن مالوف کو ہی اپنا مسکن بنایا اور یہیں سے خدمت خلق کے لیۓ کمر بستہ ہوۓ، اوراپنے علم سے پورے علاقہ کو سیراب کیا -
 خال خال ہی جمعہ ایسا ہوتاتھا کہ جو گھر پہ رہ کر پڑھتے ہوں ، اکثر وبیشتر حضرت کامعمول تھاکہ لوگوں کے مطالبہ پہ جمعہ کا تاریخ دیتے تھے تاکہ لوگ حضرت سے زیادہ سے مستفید ہو، عامة جلسہ میں جانے کا مزاج نہیں تھا حضرت اپنی انفرادی مجلس منعقد فرماتے اور اسکے لیۓ جمعہ کادن منتخب کرتے تاکہ عوام الناس زیادہ سےزیادہ مستفید ہوں ، تبلیغ دین کا اس قدر جذبہ تھا کہ ایک واقعہ ذکر کیۓ دیتاہوں ایک مرتبہ اسارہ میں حضرت والا تشریف لے گیۓ لوگوں نے اصرار کیا کہ پہلے آپ ناشتہ تناول فرمالیں ،لیکن حضرت نے سختی منع کیا پہلے بیان ہوگا پھر اس کے بعد کچھ، بعد میں اپنے شریک سفر سے فرمایا کہ میں اس لیۓ بیان سے پہلے نہیں کھاتاہوں کہ علما نے لکھا ہے ،جب انسان کسی کا کچھ کھا لیتا ہے یاپی لیتا ہے حق بات کہنے میں حجاب ہوجاتاہے ،اسی لیۓ میں بیان سے پہلے کسی کی دعوت قبول نہیں کرتا،پہلے میں نے اپنی بات رکھ دینی ہے، پھر اس کے بعد جس کو کھلانا ہو کھلاۓ جس کو پلانا پلاۓ کسی کو اچھی لگتی ہے تولگے بری لگتی ہے تولگے۔
 حضرت کے یہاں اوامر ونواہی کی صفت بڑی نمایاں تھی ، شریعت وسنت کے خلاف کوٸی بات کسی سے سرزد ہو حضرت بلا امتیاز وتفریق کے برملا ٹوک دیتے ا س سے ناگواری اور خفگی کا اظہار فرمات۔

ایک مرتبہ ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ تھا نس بندی کا فیصلہ ہوا ، کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی بیان دینے کی جرأت کرے، اس وقت کاندھلہ کا یہ مرد مجاھد تھا جنہوں نے حکومت کے خلاف اور نس بندی قانون کے خلاف علی الاعلان بیان دیا، حضرت کو اتباع سنت کا جو شوق اور اہتمام تھا کہ وہ بہت نادر الوقوع ونایاب ہے۔
حضرت عوام الناس میں بحیثیت عامل متعارف تھے ،لوگ حضرت کے پاس صبح کے وقت تعویذ لینے کیلیۓ آتے تھے ،توحضرت سب کو روک لیتے ،پھر نصف ساعت (آدھا گھنٹہ) مٶثر وپرمغز خطاب فرماتے، وعظ ونصیحت کرتے ، اس کےبعد سب کو تعویذ دیکر رخصت کرتے ہوۓ فرماتے تعویذ تو میں تسلی کے لیے دیتاہوں، اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تک تم خود عمل پیرا نہیں ہوگے ، ہوگا اسی سے جو میں کہتاہوں (صوم وصلاة کی مواظبت واحیا سنت سے )، یہ حضرت کا یومیہ کا معمول تھا ، نماز کے بعد کثرت سےاستغفار کی تلقین فرماتے۔

 حضرت کا سفر بالعموم تبلیغ دین واشاعت دین کے لیۓ ہوتا تھا ، اخیر عمرمیں غلبہ اس بات کاتھا چونکہ خانقاہی وتصوف کانظام کمزور ہوچکا ہے ،حالانکہ ذکر اور خانقاہ اپنی خاص افادیت رکھتاہے ، پھر حضرت نے ملک کے مختلف صوبوں میں چالیس سےمتجاوز خانقاہ قاٸم کیے، جہاں تاہنوز ذکر اللہ کی مجلس ہر ماہ لگتی ہے اور تزکیہ وتصفیہ قلوب کا کام ہوتاہے ، جس کی ابتدا حضرت نے پانی پت سے کیا ،مدرسہ گنبدان ایک بڑا اہم مدرسہ تھا ، تقسیم ہند سے پہلے مرکزیت کی حیثیت رکھتاتھا ،اور حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی ،حضرت قاری صدیق باندوی ان لوگوں نے اکتساب فیض کیا ، اورحضرت راۓ پوری ؒ کا یہ ملفوظ باربار نقل کرتے تھے کہ حضرت نے فرمایا کہ کو ٸی اللہ کابندہ آج بھی اگر ہریانہ و پنجاب کے اندر جا پڑے تو مجھےاللہ کی ذات سے امید ہیکہ وہ پہلے کی طرح دوبارہ آباد ہوجاۓ۔
حضرت کے حفید محترم (مفتی ابوالحسن ارشد دامت برلاتہم) فرماتے ہیں!
 کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ سال بھر میں ایک مرتبہ اپنے متوسلین کے ساتھ حضرت ایک سفر فرماتے تھے جس میں پانی پت جاتے ،وہاں بزرگوں کے مزارات پہ حاضری دیاکرتے تھے ، وہاں سے تھانیسر چلے جاتے تھے، پھر آگے تمام ہریانہ و پنجاب کے اندرجو بزرگان دین کے مزارات پہ حاضری دیتے تھے ،اس سفر میں بہت سے ایسے لوگ مل جاتے تھے ،جو تقسیم ہند کے موقع پر ارتداد کی طرف چلے گیۓ تھے ،اب مسلمانوں کے اس قافلہ کودیکھر انکے دل کے اندر حمیت اسلا م جاگتی تھی ،اور وہ حضرت کے ہاتھوں دوبارہ مشرف بہ اسلام ہوتے تھے -

 حضرت نے ہریانہ و پانی پت میں مدرسہ قاٸم کیا، اسکے کچھ فاصلے پہ نوے سڑک پہ مدرسہ قاٸم کیا ، پھر پراس کے اندر جہاں انبیا علیہ السلام کے مکاشفات ہیں ، حضرت مجدد الف ثانی حضرت تھانوی کے وہاں تیرہ نبی مدفون ہیں،
 حضرت اس جگہ جاتے تھے ،حاضری دیاکرتے تھے۔

حضرت کی تبلیغی اسفار اور دین کی نشرو اشاعت کی کوشش ہمہ وقت تھی، جولوگ بھی حضرت کے پاس آتے حضرت انکو دین کامل و اتباع سنت کی تلقین فرماتے ۔
حضرت نے باقاعدہ کوٸی تصنیف نہیں فرمایا ،حضرت کے بیانات کا جو سلسلہ تھا افسوس کہ اس زمانے میں کوٸی اس کو قلمبند نہ کیا ،
حضرت نے باون سال تک تفسیر بیان فرماٸی ، وہ تفسیر کا ایسا وقیع خزانہ تھا کہ ایک مرتبہ حضرت راۓ ؒپوری نے حضرت سے معلوم کیاکہ کیادیکھ رہے ہوآج کل؟ توحضرت نے چودہ تفسیر کی کتابوں کےنام بتلاۓ،
 پھر حضرت راۓ پوریؒ نے فرمایا کہ اب تمہارا وظیفہ یہ ہیکہ تم قادیانیت پر کام کرو توحضرت نے اپنے شیخ کی باتوں کو عملی جامہ پہناتے ہوۓ اس پہ کام شروع کیا ایک مرتبہ کاندھلہ میں یہ فضا بنی کہ لوگ" ربوا" جانے لگے انہیں یہ کہہ کر بلایا گیا کہ دینی جلسہ ہے یہاں کی ایک خاص برادری کےخاص افراد انکے نماٸندے بن کر گھومتے رہے اچھی خاصی تعداد کو انہوں نے جمع کرلیا ،اور بسیں بھر بھر جانے لگے توحضرت والا کو فکر دامن گیر ہوا اورحضرت نے پورے علاقے کا ہنگامی دورہ کیا انکے مبلغین کو متعین کرکے لوگوں بتایاکہ یہ لوگ چونکہ قادیانی ہیں یا تو یہ توبہ کرکے اسلام لاٸیں یا انکا بالکل باٸیکاٹ کیاجاۓ تو ان میں بعض خاندانی وسماجی دباٶ کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوگیۓ اور کچھ اب بھی قادیانیت سے جڑےہیں مگر حضرت کے اس ہنگامی دورے سے لوگوں معلوم ہوگیا کہ قادیانیت بھی کوٸی چیز ہے جو ایمان کو لوٹنے کوشش کرتےَ ہیں۔
خیر حضرت والا کےوعظ کو ٹیپ ریکاڈ کی مدد سے جمع کیاگیا اور انہیں کتابی شکل دی گٸی، جس سے امت مستفید ہوتی رہے گی ان شاء اللہ !

حضرت والا کے تصوف کے تعلق سے یہ بات مشہور ہیکہ وہ اپنے سلسلے کے مشاٸخ میں اس مقام کے آخری بزرگ بچے تھے،حضرت مرجع خلاٸق تھے ، علماۓ کبار میں کوٸی بھی ایسا نہ تھاجس کسی کا حضرت کے پاس آناجانا نہ ہو ، انتقال کے بعد ہرخاص و عام کی زبان پر یہ بات تھی کہ ہرپریشانی کامداوا حضرت والا تھے _

حضرت والا کی کی خدمات کاداٸرہ بہت وسیع ہے ، کوٸی میدان ایسانہیں جس میں حضرت والانے کا م نہ کیا ہو ،ہرچیز میں حضرت کی خدمت کا وافر حصہ موجود ہے ،خواہ وہ مدارس و مکاتب کا جال ہو یا مساجد کا فروغ ہو ، یا فرقہ ضالہ وباطلہ کا تعاقب ہو ، کوٸی گوشہ خالی نہیں ،
حضرت کا انتقال پوری امت کیلیۓ سانحہ ہے۔

ہزاروں سال نرگس اپنے بے نوری پہ روتی ہے
 بڑی مشکل سےہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 اللہ تعالی حضرت کی مغفرت فرماۓ ،اعلی علیین میں جگہ عطا فرماۓاور غریق رحمت فرمائے آمین